کراچی میں تعمیراتی منصوبوں کی سست رفتاری

ایڈیٹوریل  منگل 22 اگست 2017
کراچی میں ایک عرصے سے مختلف شاہراہوں، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی تعمیرات اور مرمت کا کام جاری ہے ۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ایک عرصے سے مختلف شاہراہوں، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی تعمیرات اور مرمت کا کام جاری ہے ۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ایک عرصے سے مختلف شاہراہوں، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی تعمیرات اور مرمت کا کام جاری ہے، شہر کی ترقی اور شہریوں کی سہولیات کے لیے یہ اقدامات صائب ہیں لیکن ان ترقیاتی کاموں کی تکمیل میں جس قدر سست رفتاری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس پر نہ صرف شہری متوشش ہیں بلکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے کام کی رفتار سے مطمئن نہیں ہوں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اتوار کی صبح وزیر بلدیات اور افسران کے ہمراہ شہر کا دورہ کیا اور مختلف علاقوں میں زیر تعمیر سڑکوں، نالوں، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کا معائنہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ سڑکوں کا کام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا تعمیراتی کام کو فوری مکمل کیا جائے۔ شہر قائد کی سڑکوں پر جہاں ایک وقت میں ہزاروں گاڑیاں رواں دواں رہتی ہیں وہیں لاکھوں افراد شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک روزگار اور معاش کے سلسلے میں پبلک اور پرائیوٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، زیر تعمیر سڑکوں کی کھدائی اور متبادل راستے فراہم نہ ہونے سے نہ صرف شہریوں کو وقت کے زیاں بلکہ اضافی ایندھن کے خرچ کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت شہر کی صورتحال یہ ہے کہ گرین لائن بس منصوبے کے تحت ایک بڑے روٹ پر تعمیرات کا کام جاری ہے، اس منصوبے کی راہ میں آنے والے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کو مستقل سست رفتاری کا سامنا ہے جب کہ شہر کی دیگر شاہراہوں پر بھی ایک ساتھ ہی تعمیرات اور استر کاری کا کام کیا جارہا ہے جس کے باعث شہریوں کا منٹوں کا سفر گھنٹوں پر محیط ہوگیا ہے۔

نیز لیاری ایکسپریس وے کا ایک ٹریک برسوں سے اپنی تکمیل کا منتظر ہے، اس ٹریک کی تعمیر کے بعد ٹریفک کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے۔ صائب ہوگا کہ ترقیاتی کاموں کے ان تمام تر پراجیکٹس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے نیز متبادل راستوں کی فراہمی بھی لازم ہے تاکہ شہری بنا کسی رکاوٹ کے سفر کرسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔