امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات

ایڈیٹوریل  منگل 22 اگست 2017
امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نئی افغان پالیسی تشکیل دے رہی ہے ۔ فوٹو: فائل

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نئی افغان پالیسی تشکیل دے رہی ہے ۔ فوٹو: فائل

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نئی افغان پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جس میں اس کی ترجیحات بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ گو ابھی نئی افغان پالیسی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن میڈیا میں  اس بات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس میں پاکستان کے خلاف بھی سخت اقدامات اور کڑی شرائط ہوں گی اور اس پر دباؤ بڑھایا جائے گا کہ وہ عسکری گروپوں بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کرے۔ یہ امریکا کا پرانا مطالبہ ہے اور وہ وقتاً فوقتاً حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے بات کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ روز امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ کی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کو دی جانے والی تمام تر عسکری امداد ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان اور افغانستان کے بارے میں خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اپنی انتخابی مہم میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

یہ بات اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ دیا اور امریکا نے اسے اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیا تھا۔ پاکستان کو نان نیٹو اتحادی قرار دیتے ہوئے تمام قسم کی مراعات سے نوازا لیکن اب بدلتے ہوئے حالات میں امریکا کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں ۔ امریکا کا جھکاؤ بھارت کی جانب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور وہ افغانستان میں بھارت کے اثرونفوذ کو بڑھانا چاہتا ہے۔ویسے تو امریکی عہدیدار آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اپنا اتحادی تو قرار دیتے ہیں لیکن اگر امریکا کی پالیسی میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امریکا پاکستان کو اتنی ترجیح نہیں دے رہا جتنی کہ وہ نائن الیون کے واقعے کے بعد دیتا چلا آ رہا تھا۔

امریکا کی انتظامیہ ابھی تک اس مخمصے میں گرفتار ہے کہ شاید پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی ترجیحات کے مطابق کردار ادا نہیں کررہا ۔ اس کا خیال ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جو مزاحمت جاری ہے‘ اس کی وجہ پاکستان ہی ہے حالانکہ امریکا کی یہ سوچ حقائق کے برعکس ہے۔افغان طالبان کے روس کے ساتھ بھی رابطے خاصے مستحکم ہو چکے ہیں۔امریکا کے پالیسی سازوں کو اس حقیقت کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔ بہر حال پاکستان کو بھی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کرنی چاہیے ۔حالات کا گہرا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکا‘یورپ اور بھارت کا میڈیا بڑی مہارت اور ہوشیاری سے عالمی سطح پر یہ تاثر قائم کر رہا ہے کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اب صرف پاکستان میں رہ گئی ہیں جب تک ان کا خاتمہ نہیں کیا جاتا تب تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ دوسری جانب وہ یہ تاثر قائم کر رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ تو لڑ رہا ہے لیکن وہ اپنے مخصوص پسندیدہ گروپوں‘ جن میں حقانی گروپ بھی شامل ہے‘ کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہا ہے۔افغانستان کی حکومت اور وہاں کا میڈیا بھی اس سازش کا حصہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کو اس میڈیا کی یلغار کا توڑ کرنا چاہیے۔

امریکا اسی حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرے جب کہ پاکستان اسے بارہا یقین دلا چکا ہے کہ وہ بلاامتیاز تمام گروپوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے اور جن دہشت گردوں کی نشاندہی امریکا کر رہا ہے ان کے ٹھکانے پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان کے اندر موجود ہیں لہٰذا ان گروپوں کے خلاف کارروائی کا مرکز افغانستان ہونا چاہیے لیکن امریکا ایک خاص منصوبے کے تحت اس موقف کے برعکس پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے اس کے ہاں موجود ہیں۔افغانستان کی انتظامیہ بھی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہی ہے۔ اس وقت افغانستان کو امریکا اور مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کی امداد مل رہی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ افغانستان کی انتظامیہ اس امداد کے بدلے میں امریکا اور مغرب کو کیا دے رہی ہے۔

افغانستان میں بے پناہ مالیاتی کرپشن ہو رہی ہے۔ افغانستان کی فوج بھی دہشت گردوں پر قابو پانے میں ناکام ہے ‘اس ناکامی کے باوجود امریکا اور مغربی ممالک افغانستان کی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ امریکا کی افغان پالیسی پر بھارتی اثر بھی کام دکھا رہا ہے۔بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے‘ صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا کی پالیسی میں خاصی تبدیلیاں آ رہی ہیں‘ اب یہ خدشہ ہے کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے ڈومور کے مطالبے کا اعادہ کرے گا۔ وہ پاکستان سے متعدد بار یہ بھی مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے‘ امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل کا حالیہ دورہ پاکستان بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ مالی اور لاجسٹکس امداد سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن امریکا کے عزائم کچھ اور ہی معلوم ہوتے ہیں‘ تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکا بھارت اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے‘ خاکم بدہن امریکا پاکستان کو بھی شام اور عراق بنانے کا کھیل تو نہیں کھیل رہا۔ پاکستانی حکومت کو بھی امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا ادراک ہو نا چاہیے لہٰذا وہ امریکا کی نئی افغان حکمت عملی کے اعلان سے قبل ہی اس کے منفی اثرات کا توڑ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے‘ واشنگٹن سے آنے والے اشارے اس امر کے غماز ہیں کہ آیندہ مہینوں میں پاکستان کے صبر و تحمل اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا امتحان لیا جائے گا۔

امریکا کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر پاکستان بھی چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں ایسا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ لیکن اس حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے کیا چین اور روس پاکستان کا ساتھ دیں گے‘ کیا عالمی سطح پر یہ دو ممالک امریکا کو پاکستان کے حوالے سے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے بارے میں توفی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن شمالی کوریا کے حالات دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح چین نے امریکی دباؤ پر شمالی کوریا کی حمایت سے قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں اسی طرح اگر اس نے پاکستان کے ساتھ بھی کیا تو معاملات مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے،روس کے حوالے سے بھی دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ روس نے شام میں بشار الاسد کی حمایت کی ہے‘ گو بشار اقتدار پر قائم ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شام تباہ و برباد ہو چکا ہے۔

ان تمام پہلوؤں پر غور کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔پاکستان اپنی معاشی اور عسکری قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے اپنی پراپیگنڈہ مہم موثر بنائے۔ ایک مضبوط معاشی اور عسکری قوت ہی پاکستان کی سلامتی اور بقا کی ضامن ہو سکتی ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام بھی انتہائی ضروری ہے۔باہم دست گریباں ملک ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔پاکستان کے پالیسی سازوں کو تمام حقائق کا بغور جائزہ لے کر ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیے جس سے پاکستان محفوظ و مستحکم رہ سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔