امریکی عدالت کے باہر زخمی جج کی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک

ویب ڈیسک  منگل 22 اگست 2017
حملہ آور نتھانیئل رچمنڈ کی فائرنگ سے جج جوزیف بریزیس کو پیٹ میں کئی گولیاں لگیں۔ فوٹو: فائل

حملہ آور نتھانیئل رچمنڈ کی فائرنگ سے جج جوزیف بریزیس کو پیٹ میں کئی گولیاں لگیں۔ فوٹو: فائل

کولمبس: امریکی ریاست اوہائیو میں عدالت کے باہر جج نے اپنے اوپر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعہ اوہائیو کے شہر اسٹیوبنبیل کی جیفرسن کاؤنٹی میں پیش آیا جہاں جج جوزیف بریزیس جب عدالت کے قریب پہنچے تو پہلے سے ان کے انتظار میں موجود ان پر انتہائی قریب سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کے پیٹ میں کئی گولیاں لگیں، تاہم جج نے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے فوراً اپنے پاس موجود پستول نکال کر حملہ آور پر فائرنگ کردی، جب کہ قریب موجود پولیس نے بھی حملہ آور پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ جج نے حملہ آور پر کم از کم پانچ گولیاں چلائیں۔

زخمی جج جوزیف بریزیس کو فوراً اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے جب کہ حملہ آور کی شناخت نتھانیئل رچمنڈ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق 2013 میں نتھانیئل رچمنڈ کے بیٹے کو جنسی زیادتی کے کیس میں قید کی سزا ہوئی تھی تاہم جج جوزیف بریزیس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نتھانیئل رچمنڈ کا بیٹا شہر کے ہائی اسکول کی فٹ بال ٹیم کا کھلاڑی تھا۔

جیفرسن کاؤنٹی کے پولیس سربراہ فرید جے عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ہی جج کو حفاظت کے لیے اپنے پاس اسلحہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔