پاک فوج کے ترجمان کی میڈیا بریفنگ

ایڈیٹوریل  بدھ 23 اگست 2017
پاکستان خود مختار ملک ہے اور ہر فیصلہ ملکی مفاد میں ہو گا . فوٹو : فائل

پاکستان خود مختار ملک ہے اور ہر فیصلہ ملکی مفاد میں ہو گا . فوٹو : فائل

پاک فوج کے ترجمان نے گزشتہ روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں آپریشن خیبر فور کی تکمیل کے اعلان پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انتہائی اہم باتیں کی ہیں‘ انھوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو این آر او دینے کے حوالے سے واضح طور پر کہا ہے کہ فوج نے کسی این آر اوکی منظوری نہیں دیتی، این آر اوسیاسی معاملہ ہے، اگر چیئرمین سینیٹ کی تجویز پرگرینڈ ڈائیلاگ ہوا تو فوج اس کا حصہ بنے گی، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تقسیم نہیں، ہم ایک پیج پر ہیں، اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اسے سول ملٹری تعلقات سے نہ جوڑیں، سویلین جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں سیاست ہے تاہم پاک فوج کا کسی سیاسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے، کبھی اختلافات ہوں بھی تواسے سول ملٹری تعلقات سے منسلک نہ کریں، فنکشنل معاملات میں اختلاف رائے تو خونی رشتوں میں بھی ہوتا ہے، پاکستان خود مختار ملک ہے اور ہر فیصلہ ملکی مفاد میں ہو گا۔

ارفع کریم ٹاورکے قریب ہونیوالے خود کش حملے کے حوالے سے انھوں نے انکشاف کیا کہ اس حملے کا ٹارگٹ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف تھے تاہم عین موقعے پر وزیراعلیٰ کا دورہ ملتوی کردیا گیا اور دہشتگردوں نے پولیس کوٹارگٹ بنا یا، وزیراعلیٰ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا دہشتگرد بھی رینجرز کی کارروائیوں کے دوران پکڑا گیا ہے، ڈان لیکس انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانا حکومت کا اختیار ہے، خیبر4 آپریشن کامیابی سے مکمل ہو چکا‘2017میں افغان سرحد پار سے 250 حملے ناکام بنائے گئے، پرویز مشرف کا بطور سیاسی رہنما بیان ان کا ذاتی نقطہ نظر ہے، فوج سے متعلق کوئی بھی بیان آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کسی صورت دہشتگردی نہیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا احسان اﷲ احسان سمیت جس کے ہاتھ بھی پاکستانی عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اسے معافی نہیں ملے گی، 15جولائی سے خیبر4آپریشن شروع کیا گیا تھا جو کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، آپریشن بہت مشکل تھا، اس دوران 253 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئرکرایا،خیبر فور کے دوران افغان فورسزسے بھی مشاورت کی گئی جب کہ اتحادی افواج نے بھی بھرپور معاونت فراہم کی، بارڈرمینجمنٹ پہلے سے بہت بہتر ہوئی۔

ترجمان پاک فوج نے اپنی میڈیا بریفنگ میں موجودہ صورت حال کے تناظر میں بہت سے ایسے سوالات کا جواب فراہم کر دیا ہے جو اس وقت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملک میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں اور تجزیے سامنے آ رہے تھے جن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید سول حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات خاصے شدید ہو چکے ہیں‘نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی تھیں‘اب صورت حال واضح ہو گئی ہے کہ ملک میں اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ہو رہا ہے اور اداروں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ جہاں تک آپریشن خیبرفور کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پاک فوج کی کارکردگی شک و شبے سے بالاتر ہے۔

بہرحال جو چیز اس وقت اہم ہے وہ یہی ہے کہ کیا پاکستان میں اداروں کے درمیان اختلافات موجود ہیں یا نہیں ‘بعض حلقے تواتر سے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ بعض پالیسیوں پر اختلافات موجود ہیں‘ بہرحال معاملات خوا کچھ بھی ہوں یہ بات سب کے لیے اہم ہے کہ ان حالات میں اعلیٰ سطح پر اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کو جس قسم کے حالات کا سامنا ہے ‘وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز جو کچھ کہا ہے وہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ پاکستان میں اقتدار کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پاکستان کو درپیش خطرات کا ادراک کرنا چاہیے ‘ایسے موقع پر قوم کا متحد ہونا انتہائی ضروری ہے اور قوم اس وقت ہی متحد ہو سکتی ہے جب اقتدار کے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر لیں۔محض یہ کہنے سے کہ اداروں کے درمیان اختلافات نہیں ہیں معاملات حل نہیں ہوں گے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ کی تجویز پر گرینڈ ڈائیلاگ ہوا تو فوج اس کا حصہ بنے گی ‘یہ اہم تجویز ہے‘ اس پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے ‘سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان نے نئے حالات کو خود کو ایڈجسٹ کرنا ہے۔ امریکا کے ساتھ اختلافات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ امریکا کے ساتھ اختلافات بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نیٹو تنظیم میں شامل تمام ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہیں گے جیسے سرد جنگ کے دور میں رہے ہیں‘اس صورت حال میں پاکستان نے کہاں کھڑے ہونا ہے اس کا فیصلہ کرنا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔