احتساب؛ ’’ دوسروں کی باری کب آئے گی؟‘‘

علی احمد ڈھلوں  بدھ 23 اگست 2017
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

حبیب جالب آج بھی زندہ ہے۔جو شاعر اور ادیب انسانی جذبات ،عوامی مسائل، آفاقی نظریات، ظلم، نا انصافی، استحصال، آمریت ،انسانی حقوق اور انسانیت کو اپنے ادب اور شاعری کا موضوع بناتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ جس طرح غالب،اقبال اور فیض زندہ ہیں اسی طرح حبیب جالب بھی زندہ ہے۔

نامور شاعر حبیب جالب کو شاعر ماننے سے انکاری تھے، ان کا موقف تھا کہ جالب ایسے موضوعات پر شعر کہتا ہے۔ جو وقتی اور عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ جالب کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے برسوں بیت گئے مگر ان کا کلام آج بھی ترو تازہ ہے۔ ان کی نظم ’’گھیراؤ ‘‘ کے اشعار ملاحظہ فرمائیں، آپ کو معاشر ے کی حقیقی عکاسی ملے گی، جیسے ’’ظالم‘‘ آج بھی شور مچا رہا ہے اور عوام گھیراؤ میں آچکے ہیں… نظم ملاحظہ فرمائیں ۔

صدیوں سے گھیراؤ میں ہم تھے، ہمیں بچانے کوئی نہ آیا
کچھ دن ہم نے گھیرا ڈالا، ہر ظالم نے شور مچایا
پھر ہم نے زنجیریں پہنی، ہر سو پھیلا چپ کا سایا
پھر توڑیں گے ہم زنجیریں، ہر لب کو آزاد کریں گے
جان پہ اپنی کھیل کے پھر ہم شہرِ وفا آباد کریں گے
آخر کب تک چند گھرانے لوگوں پر بیداد کریں گے

حبیب جالب 1993ء میں دنیا سے کوچ کر گئے مگر وہ اُن خاندانوں کا ذکر ضرور کر گئے جو وطن عزیز پر غالب ہیں، جو عوام کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے، جو عوام کا خون چوستے اور دن رات انھیں مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں جو عوام کو قرض کے سمندر میں پھینک کر غوطے دے رہے ہیں، جو عوام کی سوچ کو پھلنے پھولنے سے روکے ہوئے ہیں، جو انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہونے دیتے کہ پڑھ لکھ کر یہ قوم غلامی کا لبادہ نہ اُتار دیں، جو انھیں صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کیے ہوئے ہیں، جو عوام کے خون پسینے کی کمائی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیج کر آف شور کمپنیاں بنا رہے ہیں تاکہ اُن کی اولادیں اور پھر اُن کی نسلیں سہل پسند زندگیاں بسر کر سکیں۔

اب جب کہ ملک میں احتساب کا عمل شروع ہو اہی ہے تو بدقسمتی سے اُسے بھی سیاسی بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف عدالت عظمیٰ کی طرف سے فارغ کیے گئے اور نیب کی طرف ریفر کر دیے گئے ، یہ ایک اچھا عمل ہے، نواز شریف جتنے مرضی جلسے کریں، دھرنے دیں یا لانگ مارچ نکالیں اگر انھوں نے پیسہ کھایا ہے تو واپس بھی کرنا پڑے گااور ساتھ اُن لوگوں کو بھی منظر عام پر لانا پڑے گا جو ملوث رہے، اور پاناما میں چھپی کمپنیاں محض اس خاندان ہی کی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے چار سو سے زائد خاندانوں نے پیسہ چھپانے کے لیے وہاں کمپنیاں بنائیں، ان چارسو افراد میں تحریک انصاف کے فنانسر، پاکستان پیپلزپارٹی کے بڑے سیاستدان اور زندگی کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام شامل ہیں۔

پاناما پیپرز میں متعدد پاکستانیوں کے نام بھی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نے ابھی تک ان کی صحت سے انکار نہیں کیا۔ بہت سے کیسز میں لوگوں کے پاسپورٹ کی کاپیاں، گھر کا ایڈریس، اور فون نمبرز تک اس میں موجود ہے۔ کوئی بھی اس حوالے سے ابہام کا شکار نہیں ہے اور ان سیاستدانوں و بیوروکریسی و دیگر افراد جن کے نام موجود ہیں، ان میں سے کسی نے پاکستان کا ، کسی نے بیرون ملک کا کوئی ایڈریس دے رکھا ہے۔ ایک حاضر سروس جج کا نام بھی سامنے آیا۔

ان کے خلاف کسی نے ریفرنس دائر نہیں کیا،۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جن معروف ’’لندن فلیٹس‘‘ کی بات کی جارہی ہے وہاں موجود کئی سیاستدانوں کے مہنگے ترین فلیٹس موجود ہیں ، سینٹرل لندن کے قریب نروانہ ریذیڈینس سے قریب ہی ایک عمارت ہے ، اس عمارت میں جن کے فلیٹس موجود ہیں ان میں موجودہ تمام بڑے سیاستدانوں کے نام شامل ہیں۔ یہ سب پاکستان میں محض کاروبار کرنے آتے ہیں، اب ان میں سے کس کے پاس پیسہ کہاں سے آیا یہ کام تفتیشی اداروں کا ہے لیکن کیا کریں، یہ ادارے بھی انھیں کے زیر انتظام ہیں۔ اور میں یہ بات کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ جب تک سروس اسٹرکچر حکمرانوں کا محتاج رہے گا اُس وقت تک کوئی ادارہ آزادانہ انکوائری نہیں کر سکتا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس نے کسی اپوائنٹ کیا ہو وہ کس طرح اپنے سے بڑے آفیسر کی انکوائری کر سکے گا۔

لہٰذااب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مذکورہ شخصیات کی باری کب آئے گی؟ احتساب کا یہ عمل یہاں رک جا ئے گا یا با قی کرپٹ خاندانوں کا بھی احتساب ہو گا؟نواز شریف کے بعد اُن 4سو سے زائد پاکستانیوں کو کون پکڑے گا جن کی آف شور کمپنیاں موجود ہیں کیوں کہ ایک بات کلیئر ہے کہ جس نے آف شور کمپنی بنائی اس کی نیت میں کھوٹ تھا،یا تو اس نے اپنا کالا دھن چھپانے کے لیے بنائی یا ٹیکس چوری کے لیے ، اگر احتساب کا یہ عمل یہاں رک گیا تو پھر2018 ء کے انتخابات میں یہی لوگ دوبارہ آ جائیں گے اور اگلے 5سال تک عوام کو نچوڑیں گے۔

حیرت کی بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا حالانکہ اُن کے پاس تمام سیاستدانوں کے کاروباری ریکارڈ موجود ہیں، لیکن نظریہ ’’ضرورت‘‘ کے تحت سیاستدانوں پر کیس اوپن کیے جاتے ہیں۔احتساب پوری قوم کا مطا لبہ ہے،لیکن احتساب کے اس عمل کو صرف ایک خاندان اور ایک شعبے سے وابستہ افراد تک محدود نہیں ہو نا چاہے۔

اگر احتسابی عمل کو صرف سیاست دانوں اور شریف خاندان تک محدود کیا گیا تو اس کے وہ اثرات مرتب نہیں ہو سکتے جس کا قوم کو انتظار ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کر دار ادا کرے اور شفاف احتساب کے لیے آسان قوانین بنا ئیں تاکہ تمام بوجھ سپریم کورٹ پر نہ آئے بلکہ متعلقہ ادارے بھی اپنا کردار آئینی حدود کے اندر رہتے ہو ئے ادا کریں۔

اس کے بر عکس اگر احتساب کا یہ عمل یہی رک گیا تو پھر ملک میں شفاف احتساب کا نعرہ محض ایک خواب بن کر رہ جا ئے گا۔اورآخر میں یہ بات کرنا چاہوں گا کہ اگر تفتیشی ادارے دباؤ میں آگئے اور ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھ گئے جس کی باز گشت سنائی دے رہی ہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور یہ اقدام انقلاب کے راستے ہموار کرنے میں مدد دے گا!!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔