موٹروے پولیس کیلیے غیر معیاری یونیفارم کی خریداری، پی اے سی نے تحقیقات کا حکم دیدیا

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 23 اگست 2017
موٹروے پولیس نے 11 ملین کا اسلحہ آئی ایس آئی سے خریدا، بریفنگ، تحقیقات ہونی چاہیے، چوہدری تنویر، ہمارا اختیار نہیں، مشاہد۔ فوٹو: این این آئی/ فائل

موٹروے پولیس نے 11 ملین کا اسلحہ آئی ایس آئی سے خریدا، بریفنگ، تحقیقات ہونی چاہیے، چوہدری تنویر، ہمارا اختیار نہیں، مشاہد۔ فوٹو: این این آئی/ فائل

 اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کیلیے غیر معیاری یونیفارم کی خریداری سے قومی خزانے کو 2 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔

کمیٹی نے ہائی ویز اور موٹروے پولیس کیلیے غیر معیاری یونیفارم کی خریداری کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی، گزشتہ روز اجلاس چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کے آڈٹ پیروں اور پاکستان پوسٹ آفس کی گرانٹ کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا غفور حیدری بھی شریک ہوئے۔ چیئرمین کمیٹی نے نئے آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نئے آڈیٹر جنرل کے آنے سے وزارت کے آڈٹ کا طریقہ کار مزید متحرک ہوگا جس پر آڈیٹر جنرل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آڈیٹر جنرل آفس کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی آڈیٹر جنرل آفس کے کام کے طریقہ کارکا جائزہ لے۔

کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین این ایچ اے نے بتایاکہ گزشتہ سال وفاقی ترقیاتی پروگرام میں بڑے پیمانے پرکٹوتی کی گئی، اجلاس میں موٹر وے پولیس کا قواعد کے خلاف اسلحہ خریدنے کا معاملہ بھی زیر غورلایا گیا، آڈٹ حکام نے بتایا کہ موٹروے پولیس نے 11ملین روپے کا اسلحہ خریدا، موٹروے پولیس نے اسلحہ مجاز ادارے سے نہیں خریدا، موٹروے پولیس نے اسلحہ آئی ایس آئی سے خریدا، اس پر سینیٹر چوہدری تنویر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کب سے اسلحہ بیچنے لگی؟ آئی ایس آئی نے کس حیثیت میں موٹروے پولیس کو اسلحہ بیچا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین مشاہد حسین نے کہا کہ یہ معاملہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، ہو سکتا ہے آئی ایس آئی کے پاس افغان جہادکا اسلحہ بچا ہوا ہو۔

اجلاس میں سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ امریکا یا برطانیہ میں پوسٹل سروسز ختم کردی گئیں، پاکستان میں محکمہ پوسٹ کو توسیع دی جا رہی ہے، اجلاس میں آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کیلیے غیر معیاری یونیفارم کی خریداری سے قومی خزانے کو 2کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، ہائی وے اور موٹروے پولیس کیلیے 72ہزار 592 میٹر یونیفارم کی خریداری کا ٹھیکہ کیا گیا، لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد یونیفارم پولیس کا کپڑا غیر معیاری نکلا تاہم پی اے سی نے ہائی ویز اور موٹروے پولیس کے لیے غیرمعیاری یونیفارم کی خریداری کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔