حج، وفائے محبت کا امتحان!

رضوانہ قائد  جمعـء 25 اگست 2017
حج کی پوری عبادت دو ہی چیزوں کا مرکب ہے، ایک دل کی لگن کا محور اللہ کی رضا اور دوسرے اُس رضا کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ، اُس کی مغفرت، اُس کی جنت کی طرف سبقت کرنا۔

حج کی پوری عبادت دو ہی چیزوں کا مرکب ہے، ایک دل کی لگن کا محور اللہ کی رضا اور دوسرے اُس رضا کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ، اُس کی مغفرت، اُس کی جنت کی طرف سبقت کرنا۔

الحمداللہ، محبتوں اور قربانیوں کی تجدید کا موسم حج ایک بار پھر اپنی وارفتگیوں کے ساتھ لاکھوں عاشقوں اور محبت کے پیاسوں کو سیراب کرنے آگیا ہے۔

سفرِ حج محبت کی نہایت ہی دلگداز داستان اور درحقیت وفائے محبت کا امتحان ہے۔ لفظ ’محبت‘ اپنے اندر بے پناہ لذت اور کشش رکھتا ہے۔ یقیناً ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی عنوان سے اِس حسین لفظ کی معنویت سے آگاہ ہوگا۔ سب سے معتبر عنوان ہمارا ایمان ہے جس کی روح، نشانی اور اولین شرط محبت ہی ہے۔ ایمان کا راستہ ہی عشق و محبت کا سفر ہے۔ ایمان کی محبت اور اِس کو ہمارے لیے دل پسند بنا دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہارِ محبت ہے اور جواباً ہماری محبت اِسی ایمان کی محبت کا ثمر ہے۔

ایمان لانے والوں کو ہی سب سے زیادہ شدت سے محبت کرنے والا کہا گیا ہے۔ ایمان کی ساری لذت و مٹھاس اِسی دو طرفہ محبت کے دم سے ہے۔

’اللہ اُن سے محبت رکھتا ہے وہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘

دین کے سارے ہی احکام یعنی نماز، روزہ، زکٰوۃ، حج، جہاد اور اخلاق و معاملات جہاں اللہ کی محبت کے خوبصورت اظہار ہیں وہیں ہمارے لیے اللہ کی محبت کے حصول کے قیمتی ذرائع بھی ہیں۔

مگر حج اِن سب میں محبت کی بلند ترین معراج اور ہمہ جہت محبت سے عبارت ہے۔ محبت کی ایسی دو طرفہ آگ کہ ایک جانب آیاتِ بَیّنات کی صورت میں اللہ کی بندے سے محبت کا بے مثل اظہار تو دوسری جانب بندے کا اللہ کی محبت پانے کا انتہائی کامیاب گُر۔ حج کا ایک ایک رکن وفائے محبت کا امتحان اور عقیدت و اخلاص کی اتاہ گہرائیوں کے ساتھ محبوب کے قدموں میں اپنا سب کچھ نثار کردینے کا اعلان ہے۔

حج، اللہ کی محبت کا ایسا کرشمہ ہے کہ اُس نے خود لامکان ہوتے ہوئے زمان و مکان کے اسیر بندوں کے لیے مکہ کی غیر آباد وادی میں معمولی سادہ سی عمارت کو ’اپنا گھر‘ کہہ کر اپنے بندے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے عاشقوں کے جذبۂ محبت کی تسکین کا سامان کیا جو وفائے محبت کے ہر امتحان میں سرخروئی کی کامل ترین تصویر تھا۔

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ مناسکِ حج اعمالِ عشق و محبت کو سنتِ ابراہیمی کا ورثہ کہتے ہوئے تصویر کشی کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے بندوں کو حکم دیا گیا کہ سال میں ایک مرتبہ اپنے آپ کو اللہ کی محبت میں سر گشتہ و شیدا بناؤ، اُس کے دیوانے ہوجاؤ اور عشاق کے طور طریقے اختیار کرو۔ محبوب کے گھر کے لیے ننگے پاؤں، الجھے ہوئے بال، پریشان حال، گرد میں اٹے ہوئے سر زمینِ حجاز پہنچو اور وہاں پہنچ کر کبھی پہاڑ پر چڑھو، کبھی وادی میں دوڑو تو کبھی محبوب کے گھر کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہوجاؤ۔ اُس خانۂ تجلّیات کے دیوانہ وار چکر لگاؤ اور اُس کے در و دیوار کو چومو اور چاٹو۔

یہ سارے اعمال ہی ہیں جو محبت کے دیوانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں اور سیدنا ابرہیم علیہ السلام اِس رسمِ عاشقی کے گویا بانی ہیں۔ بلاشبہ، حج کا ہر رکن محبت کا درس اور ہر مقام محبت کی درس گاہ ہے۔ اللہ کے گھر کے مہمان لباسِ دنیا ترک کرکے سلے کپڑوں کے بجائے دو کپڑوں کے کفن نما لباس احرام باندھ کر دیارِ محبوب کا رخ کرتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے ترانۂ محبت بلند کرتے ہیں:

لبیک اللّٰھم لبیک، حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں
لبیک لاشریک لک لبیک، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں
ان الحمد و النعمۃ، بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے، ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں
لک والملک، بادشاہی تیری ہی ہے
لاشریک لک، تیرا کوئی شریک نہیں ہے

احرام و لبیک کی پکار دراصل اپنا سب کچھ لاکر محبوب کے قدموں میں ڈھیر کردینا ہے۔ چہرے کا رُخ، دل کی محبوبیت، سوچ و فکر کا مرکز کہیں بھی کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ ہر سعی و جہد کا مطلوب صرف اللہ ہی کا بن جانا ہے۔ اِسی لبیک اللّٰھم لبیک کا کامل اُسوہ حیاتِ ابراہیم علیہ السلام ہے۔ محبوب کی مرضی کی خاطر ہر لمحہ نہ صرف آمادہ بلکہ محبت کی انتہاؤں کے ساتھ مستعد رہے۔ وفائے محبت کے ہر امتحان جیسے آگ میں کود پڑنا، باپ سے قطعِ تعلق، ترکِ وطن، صحراؤں بیابانوں کی سرگردانی، محبوب بیوی اور شیر خوار بچے کو غیر آباد صحرا میں چھوڑ دینا اور پھر اشارہ ملتے ہی بڑھاپے کی اُمید اکلوتے نوجوان بیٹے کی قربانی کے لیے گلے پر چھری رکھ دینا۔ اِن تصوراتی حقیقتوں پر دلی کیفیات کے ساتھ لبیک لبیک کی صدائیں محبت کی راہوں میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔

حج کی پوری عبادت دو ہی چیزوں کا مرکب ہے، ایک دل کی لگن کا محور اللہ کی رضا اور دوسرے اُس رضا کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ، اُس کی مغفرت، اُس کی جنت کی طرف سبقت کرنا، یعنی حج اوّل تا آخر مسلسل حرکت و سعی اور قربانی کا درسِ محبت ہے۔

گھر اور اُس سے وابستہ تمام سرگرمیوں، دلچسپیوں، مال، وقت، رشتوں اور تعلقات سب کی قربانی دے کر محبوب کی پکار پر نکل کھڑے ہونا، سفر اور قیام میں بے آرامی برداشت کرنا سراسر محبوبیت ہی ہے۔

ایمان کی حقیقت کا لطف اُسی کے حصے میں آتا ہے جو سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرے اور اُس کا والہانہ اظہار کرے۔ کعبہ پتھر گارے سے بنے گھر کو اُس نے خود منسوب کرلیا تو اُس کے محبوب دیوانہ وار اُس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ یہ زندگی کی بنیادیں محبت کے اُس محور کے گرد رکھنے کے عزم کا درس ہے۔ حجرِ اسود کو اپنا ہاتھ کہہ دیا تو اُس کا بوسہ/ استلام، گویا اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر تجدیدِ وفا کا درس ہے۔ دو چھوٹی پہاڑیوں صفا و مروہ کا حسن، ایک کمزور عورت کی بے آب و گیاہ صحرا میں فقط اللہ کے بھروسے پر جدوجہد کی خاطر دوڑ ہے۔ اُس کا رب اِس محبت بھرے توکل کے جواب میں پتھریلی زمین سے بھی شیر خوار بچے کی ایڑیوں تلے سے تاقیامت چشمہ جاری کردیتا ہے۔ اِس دوڑ کو سعی/کوشش کے عنوان سے تاحیات امر کردیتا ہے۔ سعی کی عبادت میں اُس کی حکمت جانتے ہیں کیا ہے؟ اللہ کو صرف زبان کی تسبیحات و کلمات ہی مطلوب نہیں بلکہ اُس کے بھروسے پر اُس کی راہ میں اُس کے حکم پر بڑھتے قدم اُس کی چاہت ہے۔

سعی کے بعد شہر سے نکل پڑنا اور منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے صحراؤں میں ڈیرے ڈالنا، پھر وقوفِ عرفات، محبت اور حرکت کے ساتھ حج کا نمایاں ترین پہلو اجتماعیت ہے۔ میدانِ عرفات میں یہ پُر ہجوم حاضری، حج کا رکنِ اعظم ہے۔ اللہ کا محبوب ترین عمل اُس کے چاہنے والوں کے ساتھ فقط اُس کے نام پر نکلنا اور جمع ہونا ہے۔ رنگ و نسل، جاہ و رتبہ، علاقہ و قبیلہ یہاں تک کہ نیک و بد کی تفریق سے بھی بالاتر یہ اجتماع، آج کی منتشر اُمت کے لیے حیاتِ بخش درسِ محبت ہے۔ جبکہ رمیِ جمار، راہِ محبت میں حائل رکاوٹوں اور شیطانی اکساہٹوں کو زیر کرنے کا درس ہے۔

قربانی، اپنے پیش رو ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہوکر محبوب کی مرضی کے آگے اپنی عزیز ترین خواہش کو قربان کردینا، محبت کی معراج پاجانے کا درس ہے:

’’میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔‘‘

لیکن سوال یہ ہے کہ محبت کے بیش بہا دروس سیکھنے اور امتحان سے گزرنے کی اِس چند روزہ ہنگامی مہم کے بعد اللہ کے مہمان اللہ کے محبوب جب اپنے ٹھکانوں کی جانب لوٹتے ہیں تو اُس امتحان کے نتیجے اور کامیابی کی جانب کتنی توجہ رہتی ہے یا رہتی بھی ہے یا نہیں؟ اِس امتحان کے کتنے اُمیدوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رنگ لے کر آتے ہیں؟ ہزاروں مرتبہ لبیک اللّٰھم لبیک دہرانے کے بعد محبوب کی مرضی کے سامنے کتنا کچھ لاکر حاضر کرپاتے ہیں؟ دن میں پانچ مرتبہ مراسمِ عبودیت ادا کرتے ہیں تو اخلاق و معاملات میں بندگی کی راہ میں حائل نفسانی خواہشوں کے کتنے بتوں کو زیر کر پاتے ہیں؟ فرض احکام کی تعمیل میں خواہشات و پسندیدگیوں کی قربانی دامن گیر ہو تو سرِتسلیم خم کر پاتے ہیں یا نام نہاد مصلحتوں کی تلاش میں رہتے ہیں؟

آج دنیا کے اندر عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کی تعداد دیکھیں۔ اُن کے وسائل اور اُن کے اقتدار کی شان دیکھیے، سب کے سب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنا جدِامجد مانتے ہیں۔ کوئی اُن کا انکاری بھی نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہونے کا فخریہ دعویٰ بھی ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کا وجود، عرب کے صحرا میں بی بی ہاجرہ کے کمزور وجود کی مانند بنا دیا گیا ہے۔ مشرق سے مغرب تک، دشمنوں کی صورت میں نفرت، خوف و بدامنی اور ظلم و فساد کے گہرے اندھیرے ہیں۔ اِن اندھیروں کو چاک کرنے والی روشنی کی کرن، ابراہیم علیہ السلام کی سی محبوبانہ لگن ہی ہوسکتی ہے۔ محبوب کے دیار میں محبوب کی مرضی کو جاری و ساری کرنے کی کوشش ہی دراصل وفائے محبت ہے۔ نفرتوں اور ظلمتوں کی پتھریلی زمین سے محبت کے چشمے اب بھی پھوٹ سکتے ہیں۔ ضرورت ہے تو کسی ابراہیم کی، کسی ہاجرہ کی، کسی اسمٰعیل کی!!!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریراپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک و ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف  کیساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس بھی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔