بلاول بھٹو کو بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی

ویب ڈیسک  جمعـء 25 اگست 2017
 لڑکی کی عمر 22 سال اور وہ عاقل ہے جس نےمتاثر ہوکر اسلام قبول کیا اور پسند کی شادی کی، اسلام آباد ہائی کورٹ : فوٹو: فائل

لڑکی کی عمر 22 سال اور وہ عاقل ہے جس نےمتاثر ہوکر اسلام قبول کیا اور پسند کی شادی کی، اسلام آباد ہائی کورٹ : فوٹو: فائل

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے سکھر کے رہائشی بلاول بھٹو کو اپنی نومسلم بیوی ماریہ کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت دے  دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے نو مسلم ماریہ کی پسند کی شادی کی درخواست پر سماعت کی۔  عدالت نے نومسلم لڑکی ماریہ سے استفسار کیا کہ آپ نے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا، دباؤ میں آکر  یا لڑکے کی محبت میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں، ماریہ نے بتایا کہ مجھ پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں، اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور بلاول بھٹو سے اسلامی طریقے سے نکاح کیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  پسند کی شادی کی ضد پر لڑکی کو گھروالوں نے زندہ جلادیا

لڑکی کے والدین کی جانب سے اقلیتی رہنما رمیش کمار عدالت میں پیش ہوئے، رمیش کمار نے عدالت سے استدعا کی کہ والدین کو اپنی بچی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ ضمانت دیں کہ لڑکی سے کاروکاری والاسلوک نہیں ہوگا تو ہم آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ رمیشن کمار کی یقین دہانی کے بعد والدین کو نومسلم ماریہ سے ملنے کی اجازت دے دی گئی تاہم 40 منٹ کی ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی اور بچی نے اپنے خاوند بلاول بھٹو کے ساتھ رہنے پر اصرار کیا۔ لڑکی کے خاوند بلاول بھٹو نے کمرہ عدالت میں بیان دیا کہ میں نے ماریہ کو زندگی بھر کا ساتھی بنایا ہے میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ ہم دونوں ساتھ رہیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پسند کی شادی پر لڑکے اور لڑکی کو گولی مارنے کا حکم

عدالت نے مریم اور بلاول کو ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی نے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا اور اپنی پسند کی شادی کی، لڑکی کی عمر 22 سال ہے اور وہ عاقل و بالغ ہے۔  عدالت نے حکم دیا کہ پولیس ماریہ اور بلاول کی حفاظت یقینی بنائے۔ جب کہ بلاول بھٹو اور ماریہ راہداری ضمانت کے لیے متعلقہ عدالت میں نئی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔