امریکا کی افغان پالیسی

جاوید قاضی  ہفتہ 26 اگست 2017
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

امریکا نے اپنی ساؤتھ ایشیاء اور افغان پالیسی بالآخر ایک مہینہ غور وخوض کرنے کے بعد وضع کرلی۔ اس پالیسی کے خدوخال کیا ہیں وہ ہم تک تو نہیں پہنچے، مگر صدر ٹرمپ نے پیر کے دن اپنی تقریر میں ساؤتھ ایشیاء اور افغان پالیسی کے بارے میں جو کچھ کہا، اس نے امریکا اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات میں ایک گہرا تناؤ پیدا کردیا ہے۔ اب ایسی دیوار کھڑی ہوگئی ہے جس کو گرانا شاید اتنا آساں نہ ہو۔ ٹرمپ کی اس پالیسی سے امریکا اور ہندوستان کی قربتوں کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا ہندوستان کو افغان مسئلے کے حل کے لیے دعوت دینا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسے اس خطے میں امریکا کو کسی اور کی ضرورت ہی نہیں سوائے ہندوستان کے۔ جب کہ یہ حقیقت امریکا کے بعد افغانستان میں دوسری بڑی موجودگی ہندوستان کی ہے، اور اس میں دو رائے بھی نہیں کہ ہندوستان افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور پاکستان میں جو بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں، ان کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں۔ حال ہی میں آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں ملوث دہشت گردوں کو افغان بارڈر سے پرمٹ دیا گیا جس کے پاکستان کو واضح ثبوت بھی مل چکے ہیں اور وہ ثبوت حکومت پاکستان نے افغانستان کی حکومت کو فراہم بھی کیے۔

یہ ایک طویل داستان ہے، افغانستان میں جنگوں کا سلسلہ 1860 کی دہائی سے شروع ہوا۔ 1890 کی دہائی میں افغانستان کے بادشاہ عبدالرحمن خان اور ہندوستان میں برطانوی راج کے ترجمان سرمارٹیمر دوراند کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایک لکیر کھینچی گئی جس کو Durand Line کہا ہے۔ لیکن دونوںسرحدوں کے درمیان ثقافتیں، زبان، تاریخ اور مذہب سب مشترکہ۔ ڈیورنڈ لائن بھی کچھ ایسی لکیر تھی جس کو کھینچنا جیسے ناممکن ہو۔

افغانستان کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ  ایک Land Locked ملک ہے جس کی وجہ سے اس کی تجارت کا80 فیصد حصہ پاکستان کی سرحدوں کا محتاج ہے۔ انھی وجوہات کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن کی حقیقت اور اہمیت بھی ماند پڑگئی۔ انگریزوں نے راولپنڈی اور کوئٹہ میں جو کنٹونمنٹ بنایا، اس کے پس پردہ بھی یہی حقائق تھے کہ کس طرح ڈیورنڈ لائن سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جائے۔ قریباً پانچ سو سال تک ہندوستان بھی درۂ خیبر سے آنے والے حملوں کے زیر رہا اور پانی پت  کی جنگوں کا سامنا کیا۔ پانی پت کے میدان میں جس نے اپنا لوہا منوایا اسی نے دلی کے تخت پر راج کیا۔

ہم تاریخ سے کتنا ہی منہ موڑیں مگر یہ ممکن نہیں۔ آج ہندوستان نے وہ تمام نام اور نشان مٹادیے ہیں جِن سے برطانوی راج کی یادیں وابستہ تھیں۔ برطانوی راج کی تلخ یادوں سے ہندوستان کا الگ ہونا تو شاید ممکن بھی ہو مگر مسلمانوں کی تاریخ سے نہیں۔ کیونکہ پاکستان کی کل آبادی سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں اب بھی آباد ہیں۔ لیکن مودی صاحب جس راستے پر چل رہے ہیں اس کا خمیازہ ہندوستان کو طویل مدت تک بھگتنا پڑے گا۔ جس طرح پاکستان ضیاء الحق کے اعمال ابھی تک بھگت رہا ہے۔

بڑی مشکل سے اب پاکستان ضیاء الحق کے بیانیہ سے Transit کر رہا ہے اور جناح کا بیانیہ اپنا رہا ہے۔ ہندوستان اس وقت گاندھی کے بیانیہ کو چھوڑ کر گا ندھی کے قاتلوں (RSS) کے بیانیہ کو اپنا رہا ہے۔ امریکا شاید ہندوستان کا وہی حشر کرنے جا رہا ہے  جو انھوں نے ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کا کیا تھا۔ اس دور میں امریکا کو سوویت یونین کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستان کی شدید ضرورت تھی اور اب امریکا کو چین کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ہندوستان کی ضرورت ہے۔ جنگی جنوں، ہندو قوم پرستی، مسلمانوں سے نفرت اور ہندوستان میں موجود مسلمانوں کی تاریخ وہ تمام ہتھیار ہیں جس سے مودی اپنے اقتدار کو طول دے سکتا ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور تاریخ مادی حقیقتوں کا عکس ہوتی ہے اور مادی حقیقتیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ہم امریکا سے ڈسے ہوئے لوگ ہیں، جب جب آمریت یہاں رائج ہوئی اس کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا۔ امریکا نے کبھی بھی پاکستان میں جمہوری اداروں کو پنپنے نہ دیا، ماسوائے اوباما دور کے، جب Kerry Lugar Bill  پاس ہوا۔

اچھائی تھی ہندوستان کے لیے کہ اس دور میں ہندوستان کی گہری دوستی امریکا کے بجائے سوویت یونین سے تھی۔ ہمارے وزیراعظم لیاقت علی خان ہماری خارجہ پالیسی کا پہلا ستون مضبوط کرنے کے لیے جب واشنگٹن جارہے تھے، اس وقت نہرو غیر وابستہ ممالک کی تحریک کو چیکو سلواکیہ کے ٹیٹو کے ساتھ ترتیب دے رہے تھے۔ مصر کے جمال ناصر بھی ان کے قریب تھے اور ہم امریکی سامراج کی قربتیں حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

سرد جنگ کا زمانہ تھا، Ronald Regan  کے  اردگرد   پینٹاگون کے فوجی افسر تھے، ٹھیک اسی طرح صدر ٹرمپ ہیں، جن کے  اردگرد  بھی ایسے ہی افسران ہیں۔ نارتھ کوریا، وینزویلا اور ایران کو جنگی جنون میں ٹرمپ نے جو دھمکیاں دیں وہ ایک غیر ضروری عمل تھا، جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ٹرمپ کے مشیر بھی اسی سوچ کے حامل ہیں جو  Ronald Regan  کے تھے۔ امریکا کے وزیر  دفاع  جو ایک سابق فوجی جنرل ہیں، ان کو ٹرمپ کی انتظامیہ میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ٹرمپ ہیں کہ حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس وقت ہندوستان کی Lobbying، واشنگٹن میں بہت مضبوط جب کہ پاکستان کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت کمزور ہوچکے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص توجہ نہ دی جس سے ایک خلا پیدا ہوگیا۔

اس خلا کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا۔ خیر جو ہوا سو ہوا۔ اس وقت ہمیں متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ امریکا کی پالیسی میں جس طرح چین نے پاکستان کا ساتھ دیا اس کی مثال نہیں۔ روس کے بیانات نے بھی ہندوستان کو چونکا دیا۔ افغانستان کا Survival پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ افغانستان کو سوچنا چاہیے۔ حال ہی میں National Security Commitee (NS) نے افغانستان کی زمین، پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور یہ زمین کون استعمال کر رہا ہے… ہندوستان۔

ہمارے لیے بہتری کا پہلو یہ ہے کہ دنیا کا نظام بدل رہا ہے، امریکا اب اکیلا سپر پاور نہیں رہا۔ اب اس خطے کی سب سے بڑی طاقت چین ہے اور 2030 تک چین کی مجموعی پیداوار (GDP) امریکا کے برابر ہوجائے گی۔

دنیا ایک نئے نظام میں تبدیلی ہو رہی ہے، جس میں مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ Cooperation ہے اور یہ ایک خوش آیند بات ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور تمام ادارے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

اب وہ دور گئے جب رچرڈ آرمیٹیج ہمیں دھمکیاں دیتے تھے کہ وہ پاکستان کو اسٹون ایج میں دھکیل دیں گے۔ اب امریکا کو اپنی فارن پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ کیونکہ امریکا کی حالیہ ساؤتھ ایشیاء، افغان پالیسی آنے سے پہلے ہی بیک فائر کرگئی، جس کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ کی تقریر اور ہندوستان سے غیر ضروری قربت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔