نیب کو جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت مل گئی

ویب ڈیسک  ہفتہ 26 اگست 2017
نیب نے جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ فوٹو: فائل

نیب نے جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب کو پاناما کیس کیلیے بننے والی جے آئی ٹی کے ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے نیب کو جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نیب کی جانب سے دائر درخواست پر شریف خاندان کے خلاف پاناما بینچ میں شامل جج جسٹس اعجاز الااحسن نے جے آئی ٹی ممبران کے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور کیس کے متاثر ہونے کے نقصان سے بچنے کیلئے جے آئی ٹی کے 6 ممبران نیب کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائیں۔ جے آئی ٹی ممبران بطور استغاثہ نیب میں اپنے بیانات قلمبند کرائیں گے۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے جے آئی ٹی ممبران کو بیانات قلمبند کروانے کے لیے سمن جاری کیے تھے مگر جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر بیان قلمبند کروانے سے معذرت کر لی تھی جس پر نیب نے 19 اگست کو سپریم کورٹ میں تحریری درخواست دائر کر کے جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت مانگی تھی۔

واضح رہے کہ شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈارسمیت کیس کا کوئی بھی ملزم نیب میں پیش نہیں ہوا جب کہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ ہم نے پاناما فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے اس لئے پیش نہیں ہو سکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔