پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی خطرناک چال

ایڈیٹوریل  منگل 29 اگست 2017
 ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کےتناظرمیں پاکستان اورامریکا کےتعلقات تاریخ کےایک اہم اورنازک دورمیں داخل ہوچکےہیں ۔ فوٹو: فائل

ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کےتناظرمیں پاکستان اورامریکا کےتعلقات تاریخ کےایک اہم اورنازک دورمیں داخل ہوچکےہیں ۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے بعد خطے میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہونے سے صورت حال نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد دونوں کے درمیان تلخ نوائی کا سلسلہ بھی چل نکلاہے۔ امریکی حکام وہی دیرینہ الزامات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں جنھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے جب کہ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہونے والے واقعات میں سے 90فیصد سے زائد کا تعلق افغانستان سے ہے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں جن کے خلاف امریکا کارروائی کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج اور افغان فوج بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے تناظر میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات تاریخ کے ایک اہم اور نازک دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکا افغانستان میں طالبان کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کے بعد اس جنگ کا دائرہ پاکستان تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ یہاں بھی خانہ جنگی کا ماحول بناکر اسے بھی اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکے۔ پاکستانی حکام کو امریکا کی ان سازشوں کا بخوبی ادراک ہے اسی سبب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستانی سرزمین پر نہیں لانے دیں گے۔

پاکستان دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے بھی بات چیت کر رہا ہے کیونکہ یہ تنہا پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کثیرالقومی خطرہ بن چکا ہے جسے مشترکہ تعاون کے ذریعے ہی سے شکست دی جا سکتی ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں چار ملکی کاؤنٹر ٹیررازم کوآرڈینیشن میکنزم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کر دیے ہیں‘ افغانستان میں قیام امن کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ انٹیلی جنس تبادلے اور مربوط سیکیورٹی سسٹم سے دہشت گردی کو شکست دی جا سکتی ہے۔

ادھر افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے جس سے باخبر ہیں‘ پاکستان کو دہشت گردوں اور باغیوں کی حمایت روکنا ہو گی‘ افغانستان کے باہر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ سنگین ہے جنھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج کی قربانیوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے‘ پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا‘ اس لڑائی میں پاک فوج کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔ ادھر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی کچھ اسی طرح کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں پراکسی وار شروع کر رکھی ہے‘ جہادی تنظیموں پر پاکستان کا اعتماد اور امداد کے سنگین نتائج نکلیں گے‘ سی پیک بھارت کی خودمختاری کے لیے ایک چیلنج ہے۔

پاکستان میں طالبان کی موجودگی کے حوالے سے امریکی الزامات کوئی نئی بات نہیں قبل ازیں بھی وہ ایسے ہی الزامات عائد کرتا رہا لیکن اب وہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے جو تشویشناک امر ہے۔  اس صورت حال میں پاکستان نے دوٹوک انداز میں امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ، وہ یکطرفہ طور پر بارڈر سیکیورٹی اقدامات کر رہا اور سرحد کے ساتھ خاردار تار لگا رہا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے تو امریکی رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے کئی بار پاکستانیوں کو استعمال کیا اور مصیبت ہمارے گلے میں ڈال کر چھوڑ دیا‘ اب وہ اپنی 16سال کی ناکامیاں پاکستان پر نہ ڈالے‘ ہم نے اتحادی بن کر بہت نقصان اٹھائے ہیں‘ پاکستان نے اپنے علاقے سے دہشت گردی کا صفایا کر دیا ، قیام امن کے لیے پاکستان کے دو لاکھ فوجی کام کر رہے ہیں‘ امریکا افغانستان کے مسئلے کا حل تلاش کرے۔ امریکا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات لگا رہا  اور اس سلسلے میں اس بار اسے بھارت کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ کا دائرہ پاکستان کے اندر داخل کر کے اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کو بڑی حکمت اور جرأت سے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا اور امریکا پر واضح کرنا ہو گا کہ وہ جنگ کے بجائے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کے جو خدوخال بیان کیے ہیں‘ ان سے خطرات کی بو آ رہی ہے‘ ابھی اس کے چند ہی پہلو سامنے آئے ہیں‘ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر چیزیں بھی کھل کر سامنے آ جائیں گی اور پتہ چل جائے گا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اصل میں چاہتے کیا ہیں۔ یہ بات اب کسی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ امریکا کی اسٹرٹیجک ترجیحات میں پاکستان کی حیثیت مسلسل کم ہو رہی ہے‘ افغانستان کے حوالے سے امریکا جو کچھ چاہتا ہے وہ شاید پاکستان کے پالیسی سازوں کے اختیار میں نہیں ہے یا وہ امریکا کے ساتھ اس حد تک جانا ہی نہیں چاہتے۔ بہرحال امریکا اس خطے میں ایک نئے انداز کے ساتھ کام کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے‘ سرد جنگ کے دور میں امریکا کی جو ترجیحات تھیں ان میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنے مفادات کے لیے بھارت کے ساتھ پارٹنر شپ کر چکے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے پالیسی ساز بھارت کواس خطے میں اہم کردار سونپ رہے ہیں‘ پاکستان کے پالیسی ساز بھی چونکہ معاملات کو خاصی حد تک سمجھ رہے ہیں ‘اس لیے وہ چین کی جانب دیکھ رہے ہیں اور روس کے ساتھ بھی تعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی معیشت کو چینی ماڈل پر استوار کر سکے گا‘ کیا روس پاکستان کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ کھڑا ہو گا‘ یہ وہ سوالات ہیں‘ جن پر ہمارے پالیسی سازوں کو غور کرنا چاہیے‘ پاکستانی معیشت کا انحصار امریکا‘ مغربی ممالک اور خلیجی ممالک پر ہے‘ خلیجی عرب ملک امریکا کے اتحادی ہیں‘پچھلے دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جو کانفرنس ہوئی اور اس میں جس طرح امریکا کے صدر کا استقبال ہوا‘اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو گئی ہے کہ خلیجی ممالک اور امریکا کے مفادات میںمکمل ہم آہنگی ہے۔ ہمارے ارد گرد امریکا زیادہ اثرونفوذ حاصل کر چکا ہے‘ بھارتی آرمی چیف کے بیانات اور افغانستان میں تعینات جنرل نکلسن کے بیانات کو معمولی نہیں لیا جا سکتا لہٰذا پاکستان کو اس صورت حال سے حکمت کے ساتھ نکلنا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔