میری قربانی، میرا جینا مرنا، اللہ ربُّ العالمین کے لیے

رضوانہ قائد  بدھ 30 اگست 2017
کیا قربانی کا مقصد صرف قربانی کا جانور خریدنے، کچھ دن اُس کی شوقیہ خدمت کرنے اور عید کے دن قربانی کی دعا پڑھ کر سنت کی ادائیگی سے سبکدوش ہوجانا ہی ہے؟ فوٹو: فائل

کیا قربانی کا مقصد صرف قربانی کا جانور خریدنے، کچھ دن اُس کی شوقیہ خدمت کرنے اور عید کے دن قربانی کی دعا پڑھ کر سنت کی ادائیگی سے سبکدوش ہوجانا ہی ہے؟ فوٹو: فائل

الحمداللہ، عیدالاضحیٰ سال کا دوسرا عظیم موقع کہ جب اُمتِ مسلمہ احکامِ الٰہی کی ادائیگی کے لیےعقیدت کے جذبے سے سرشار مصروفِ عمل ہے۔ ماہِ ذی الحج جذبۂ ایمان و وفا اور جذبۂ قربانی بھی ساتھ لاتا ہے اور پوری دنیا میں مسلمان رنگ و نسل اور زبان و علاقے کے فرق سے بالاتر ہوکر ایک ساتھ سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے کے لیے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کا یہ دن جشنِ تکمیلِ قرآن بھی ہے.

اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دِینََا O (المائدہ 3:5)

’آج کے دن میں نے تمہارے لیے، تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا۔

حجۃ الوداع کے موقع پر جمعہ کے دن عرفات کے میدان میں نازل ہونے والی یہ آیت دین کے مکمل ہونے کی خوش خبری ہے۔ خوشی کے اِس دن کو سنتِ ابراہیمی کے ساتھ جوڑ کر یہ طے کردیا گیا کہ اِس دین کو ماننے والے اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے اپنے جد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح قربانی کریں۔

دیکھا جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اِس قربانی کا مطالبہ نہ اچانک کیا گیا تھا نہ ہی وہ اِس قربانی کے لیے یکایک تیار ہوگئے تھے، بلکہ اِس عظیم قربانی کے پیچھے اُن کی لگاتار آزمائشوں اور قربانیوں سے بھرپور زندگی ہے۔ لفظ قربانی کی مکمل تفسیر ہی گویا حیاتِ ابراہیم ہے۔ اللہ کی اطاعت میں اپنے والد، رشتہ داروں، عزیزوں، گھر بار، علاقہ اور جاہ و مرتبہ کو چھوڑنا، آگ میں کودنا، شیر خوار بچے اور محبوب بیوی کو صحرا میں چھوڑ جانا، غرض دنیا میں اپنی کسی بھی محبت اور خواہش کو اللہ کی محبت پر قربان کرنے میں ذرا بھی نہ جھجکے، یہاں تک کہ ضعیفی میں، جوانی کو پہنچتے اکلوتے جگر گوشے کو قربان کرنے کا حکم ملتا ہے تو اللہ سے اپنی سچی وفاداری ثابت کرنے کے لیے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دیتے ہیں۔ اللہ اپنی اطاعت میں قربانی کے اِس امتحان میں اُن کو کامیاب قرار دے کر بیٹے کی جگہ جانور کی قربانی قبول فرما لیتے ہیں اور دنیا کی امامت سے نواز دیتے ہیں۔

یہی قربانی، اسلام کی خاطر کامل اطاعت اور سچی وفاداری ہی دراصل الیوم اکملت لکم دینکم کا سبق ہے اور یہی عید الاضحیٰ ہے۔

لاکھوں حاجی مناسک حج کی تکمیل پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اِسی قربانی اور تکمیلِ دین کی خوشخبری کے نزول کی جگہ میدانِ عرفات میں ابراہیم کی سنتِ قربانی کو تازہ کرنے جا رہے ہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ اُس نے حج میں شریک نہ ہونے والوں کو بھی اِس سنتِ قربانی میں شریک رکھنے کا اہتمام فرمایا اور اپنے نبی ﷺ کے ذریعے اِس کو باعثِ فضیلت ٹھہرایا۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیدالاضحیٰ کے دن فرزندِ آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہوکر) آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ (پس اے خدا کے بندو!) دل کی پوری خوشی سے قربانی کیا کرو۔ (جامع ترمذی، سنن ابنِ ماجہ)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہجرت کے بعد) مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ برابر (ہر سال) قربانی کرتے تھے. (جامع ترمذی)

حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سو (100) اونٹوں کی قربانی کی، سڑسٹھ (67) اپنے ہاتھ سے اور سینتیس (37) حضرت علیؓ کے ذریعے قربان کیے۔

حَنَش بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے دیکھا تو اُن سے عرض کیا کہ یہ کیا ہے؟ (یعنی آپ ایک کے بجائے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں۔ تو ایک قربانی میں آپ ﷺ کی جانب سے کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

قرآن میں قربانی کی فضیلت کو بھلائی اور اللہ کی کبریائی بیان کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے:

’’اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائرِاللہ میں شامل کیا ہے۔ تمہارے لیے اُن میں بھلائی ہے۔‘‘ (الحج 22 : 33)

’’اُس نے اُن کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو۔‘‘ (الحج 22 :37)

قربانی کے جانور کا بہترین معیار بھی بتادیا گیا۔ اللہ کی راہ میں دینے کے لیے یہ اصول بھی بتادیا گیا کہ ’’تم کو نیکی کا مقام ہرگز نہیں مل سکتا جب تک کہ وہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہوں۔‘‘

ساتھ میں ہادی اعظم کی یہ تنبیہ بھی موجود ہے: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو، وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو (ایسا شخص) ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔‘‘ (مسند احمد، ابن ماجہ)

یہ چند جھلکیاں ہیں قربانی کے منظر کی، جن سے مقصد کی بلندی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ جس وقت کے یہ تذکرے ہیں اُس وقت عام مسلمان کی مالی حالت ہمارے زمانے کے عام مسلمان سے کس قدر کم تر تھی۔ اسلام کے شاندار ماضی کی یہ مثالیں کسوٹی ہیں جن پر آج کی قربانیوں کو پرکھا جاسکتا ہے۔

لیکن آج کے دور میں ہم نے قربانی کی عظیم عبادت کو مہماتی (ایڈونچرس) سرگرمی بنا لیا ہے۔ کیا قربانی کا مقصد صرف قربانی کا جانور خریدنے، کچھ دن اُس کی شوقیہ خدمت کرنے اور عید کے دن قربانی کی دعا پڑھ کر سنت کی ادائیگی سے سبکدوش ہوجانا ہی ہے؟

جیسا کہ ہمیں اپنے معاشرے میں نظر آرہا ہے۔ ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی زیادہ تر گفتگو و مباحث کا موضوع، قربانی سے زیادہ قربانی کا جانور ٹھہر جاتا ہے۔ مہنگے جانوروں کی خریداری اور قربانی کو من گھڑت تاویلوں کے ساتھ مضحکہ خیز انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اِس بُرائی کو شغل ہی بنا ڈالا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اُمت کی بقا کی اِس بلند رتبہ عبادت سے اُمت ہی کو باز رکھنے کے لیے طرح طرح کے جواز دانش مندی کا حصہ بنائے جا رہے ہیں۔ مثلاََ

جو صاحبِ نصاب نہیں، قربانی کا خرچہ کرکے خود کو زحمت میں نہ ڈالیں۔

یا یہ کہ

قیمتی جانوروں کی خریداری پر پیسہ خرچ کرنے سے زیادہ اہم دیگر انسانی ضروریات ہیں۔

کبھی یہ باور کروایا جاتا ہے کہ،

مہنگے جانوروں کی قربانی نمود و نمائش ہے اِس لیے اِن کی قربانی کی کوئی حیثیت نہیں، اس سے تو بہتر ہے کہ اِس رقم سے خاموشی کے ساتھ کسی غریب کی مدد کردی جائے، وغیرہ وغیرہ۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جو عمل حکم کی صورت میں قرآن و سنت سے واضح ہو، کیا اُس کے لیے مال کے ضائع ہونے کا سوچنا ہی ایمان جیسی قیمتی چیز کو ضائع کرنا نہیں؟

دوسری اہم بات یہ کہ بندگانِ خدا کی مدد بلاشبہ اسلام کے نزدیک اہم تر عبادت ہے مگر قربانی کے ذریعے عقیدۂ توحید کی تجدید اور اپنے محبوب کے لیے محبوب ترین چیز کی قربانی اہم ترین ہے۔

تیسری اہم بات یہ کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے جس عبادت کا جو طریقہ مقرر کردیا ہے، کوئی دوسرا عمل اُس کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ سچے مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لیے ہر حکم کی ادائیگی اُسی صورت میں لازم ہے جو ہمارے ہادی ﷺ نے سکھادیا۔

ہم قربانی کی سعادت سے سرفراز ہونے جارہے ہیں۔ اُس کے جانور خرید کر لانے کی مشقت بھی اُٹھا رہے ہیں۔ جیب پر حسبِ استطاعت بار بھی برداشت کر رہے ہیں۔ گھر میں رکھ کر اُس کی مہمان نوازی کا شوق بھی پورا کر رہے ہیں، مگر کیا اِس قربانی کی قبولیت کے دروازے کی کنجی، تقویٰ کی فکر کی ضرورت نہیں؟

’اللہ کو اُن جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ اُن کا خون، اُسے تو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (الحج : 37)

جس جدِ امجد ابرہیم علیہ السلام کی سنت پر ہم عمل کرنے جا رہے ہیں، اُس کی تو تمام زندگی اول تا آخر تقویٰ ہی کی تصویر بنی رہی۔ ہر غلط سمت سے بچتے ہوئے اپنا رُخ اپنے ایک محبوب رب کی رضا کی جانب ہی رکھا اور محبوبیت کے اِس حق میں کبھی کسی کو شریک نہ ہونے دیا۔

یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اپنی قربانی سے قبل ہم نے اپنی پچھلی زندگی پر نظر ڈالنے کی کتنی کوشش کی؟ زندگی میں اخلاق و معاملات میں، جذبات و احساسات میں اور آپس کے تعلقات میں رب کی مرضی کو ملحوظ رکھنے کی ہمت کی یا اپنے نفس کی غلامی کے لیے مجبوری اور مصلحت کا طوق گلے میں ڈال لیا؟

حج اور قربانی کا یہ عظیم موقع، الیوم اکملت لکم دینکم، تکمیلِ دین کی یاد دہانی کے ساتھ زندگی کے تمام رُخوں کو صرف اپنے محبوب رب کی رضا کی جانب یکسو کرنے کے عزم کا دن ہے۔ یہ وقت ہے کہ حیاتِ ابراہیم کی یاد دہانی کے ساتھ اپنے ایمانِ کامل کی تجدید کے عہد کے ساتھ جب آپ اپنی قربانی کے لیے آگے بڑھیں گے تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام اور اسمٰعیل علیہ السلام کے پیروکار کی حیثیت سے اُن سے عقیدت کی سرشاری کے عالم میں رقت آمیز زبان سے نکلنے والی دعا دل کی لگن کو بھی انگیز کرنے کا سبب بنے گی۔ عالمِ اسلام کے حقیقی امن و سلامتی کے لیے بے شرک سچی قربانیوں کی راہ آسان کرے گی۔

’بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العلمین کے لیے ہے۔ اُس کا کوئی شریک نہیں، اِسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلم اور فرماں بردار ہوں۔ خدایا یہ تیرے ہی حضور پیش ہے اور تیرا ہی دیا ہوا ہے۔‘‘ (الانعام : 163 164)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریراپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک و ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کیساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس بھی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔