اجتماع ضدین

انتظار حسین  پير 18 فروری 2013
rmvsyndlcate@gmail.com

[email protected]

کراچی کا اس وقت کا منظر نامہ عجب ہے۔ کہہ لیجیے کہ اجتماع ضدین ہے۔ ایک طرف نفرت کا کاروبار عروج پر ہے۔ دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ دوسری طرف ایک گوشے سے آواز آ رہی ہے؎

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

اور یہ پیغام دور دور تک پہنچا ہے۔ مہمان لبیک کہتے ہوئے یہاں پہنچ رہے ہیں اور اس محفل ادب میں شریک ہو رہے ہیں جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور برٹش کونسل کی طرف سے لٹریری فیسٹیول کے نام سے آراستہ ہوئی ہے۔ باہر سے آنے والے مہمانوں میں سے تین کو تو ہم نے فوراً ہی پہچان لیا۔ ہم ہی نہیں ایک کو تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ وہ ہیں گلزار صاحب، مگر کس حیثیت میں خلقت ان کے نام کی مالا جپتی ہے اور کس حیثیت میں بلکہ یوں کہیے کہ اپنی مقدم حیثیت میں وہ یہاں شریک محفل ہیں۔ صبح کا بھولا شام ہونے سے پہلے پہلے گھر واپس آ گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اصل میں میرا دوست شیلندر مجھے فلمی دنیا میں لے گیا تھا۔ مگر کبھی نہ کبھی تو مجھے واپس اپنی دنیا میں آنا ہی تھا۔ سو میں ادب کی دنیا میں واپس آ گیا ہوں۔

شاعری گلزار صاحب کا پہلا عشق تھا۔ سمجھ لیجیے کہ ایک چوری نے اس عشق کو چمکا دیا۔ بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کے بک شیلف میں بال جبریل، سجی دیکھی۔ میرا جی اس پر ایسا للچایا کہ اسے وہاں سے غائب کر دیا۔ ’بال جبریل‘ کا وہ نسخہ اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میں نے بعد میں بھائی کو بتا دیا تھا کہ وہ کتاب تمہارے بک شیلف سے میں نے اڑائی تھی۔ ’بال جبریل‘ سے سفر کرتے کرتے وہ غالب تک پہنچے، چھوٹی اسکرین پر انھوں نے غالب کا جس طرح چرچا کیا وہ تو عالم آشکار ہے۔

اصل میں انھیں دنوں ایک کتاب شایع ہوئی ہے “In the Company of a Poet”  کتاب کی صورت یہ ہے کہ نسرین منی کبیر نے کہ لندن میں رہتی ہیں اور دستاویزی فلمیں بناتی ہیں۔ گلزار صاحب سے تفصیلی گفتگو کی اس رنگ سے کہ ان کا سارا ماضی و حال ان سے اگلوا لیا۔ وہاں انھوں نے بتایا ہے کہ فلمی دنیا کو انھوں نے سلام کر لیا ہے اور اب شعر و افسانہ ہے اور وہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ تو فلم سے تعلق اب بس واجبی واجبی ہے۔ اب ساری توجہ شاعری پر ہے اور افسانے پر۔

شاید ان کی زبان و بیان اور ان کے ادب آداب سے اس بی بی کو گمان ہوا کہ گلزار صاحب کا تعلق یوپی سے ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ نہیں میں پنجابی ہوں۔ ہاں پلا بڑھا ہوں دلی میں۔ انشاء اللہ، ماشاء اللہ، آداب، تسلیمات، ایسے کلمات بیساختہ زبان پر آتے ہیں۔ اس سے یاروں کو گمان گزرتا ہے کہ شاید میں مسلمان ہوں۔ ویسے ان کا گمان یکسر بے بنیاد بھی نہیں۔ ہم سب بھائیوں کو کلچرل مسلمان جانیے۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہمارے والد نے روشن خیالی کی فضا میں ہماری تربیت کی ہے۔ وہ خود پنجابی میں رچے بسے تھے اور حافظ اور رومی کے عاشق تھے۔ اپنے متعلق بتایا کہ میں نے کم و بیش اپنے گیارہ سال غالب کے مطالعے میں کھپائے ہیں۔ اس کی شاعری اس کے خطوط کا ایک ایک حرف پڑھا۔ ساتھ میں غالبیات کا مطالعہ۔ غالب پر فلم بنانے کی نیت تھی مگر فلم والوں نے تعاون نہیں کیا۔ پھر دور درشن کے لیے غالب کی زندگی پر ساڑھے چھ گھنٹے کا ایک سیریل تیار کیا اور غالب اور اس کے عہد پر پوری تحقیق کے بعد اس کام میں ہاتھ ڈالا۔

’’کیا مضائقہ ہے کہ آپ کے مختصر افسانوں کے بارے میں تھوڑی بات ہو جائے۔‘‘

بتایا کہ میں نے شاعری زیادہ کی ہے کہانیاں کم لکھی ہیں۔ ویسے میرے حساب سے تو مختصر افسانہ بھی ایک نوع کی شاعری ہی ہے۔ مختصر افسانے کو بس یوں سمجھو کہ جیسے رواں دواں زندگی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر کاغذ پر منتقل کر دیا۔

تو یہ ہیں گلزار صاحب۔ آگے فلم کے فن میں اپنے جوہر دکھائے تھے۔ اب شاعری اور مختصر افسانے کی اصناف میں اپنا تخلیقی جوہر آشکار کر رہے ہیں۔ ایک اقلیم کا فاتح اب دوسری اقلیم  میں فتوحات کر رہا ہے۔ افسانہ اور شاعری دونوں اصناف میں قلم رواں ہے۔

لگے ہاتھوں ایک اور ہندوستانی مہمان سے تعارف ہو جائے۔ یہ ہیں مہر افشاں فاروقی، انھیں الٰہ آباد کا گل تازہ کہیے جو اب امریکا میں مہکتا ہے۔ ورجینیا یونیورسٹی میں سائوتھ ایشین ادب کی پروفیسر ہیں۔ انگریزی میں لکھتی ہیں۔ اردو ادب سے شغف ہے اور تنقیدی بصیرت انھیں والد گرامی شمس الرحمن فاروقی سے ورثے میں ملی ہے۔ بتاتی ہیں کہ جدیدیت کا کلمہ ابھی بچی تھی کہ کان میں پڑگیا تھا۔ مطلب یہ کہ ابھی پالنے میں جھول رہی تھیں کہ جدید اردو ادب کے مباحث سے کان آشنا ہوتے چلے گئے۔ اب قلم انگریزی میں رواں ہے۔ مضامین اردو ادب سے برآمد ہوتے ہیں۔ دو ضخیم جلدوں میں اردو ادب کا ایسا انتخاب انگریزی ترجمہ میں پیش کیا ہے جو اس ادب کے سو برسوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اور خالی شاعری اور افسانے کا انتخاب نہیں۔ دوسری ضمنی اصناف کو بھی سمیٹا ہے۔

اگر پدر نتواند پسر تمام کند۔ مگر شمس الرحمن فاروقی کے یہاں بیٹے کا خانہ خالی ہے۔ باپ کی روایت کو دو بیٹیاں آگے بڑھانے پر تلی نظر آتی ہیں۔ ویسے بھی ہمارے زمانے میں بیٹیاں بیٹوں کو پیچھے چھوڑ کر باپوں کے ورثے کی حق دار بنتی چلی جا رہی ہیں۔ ایک محقق ہمیں بتا رہا تھا کہ میں ایسے ادیب باپوں پر تحقیق کر رہا ہوں جو اولاد کے نام پر دو دو بیٹیوں پر قانع نظر آتے ہیں۔ یہ فہرست فیض و راشد سے شروع ہوتی ہے۔

ہاں تو لیجیے اس بی بی کے دوسرے تحقیقی کام کا بھی تھوڑا تذکرہ ہو جائے جو حال ہی میں کتابی شکل میں سامنے آیا ہے۔ عنوان ہے Urdu Literary Culture-Vernacular Modernism

اور زیر بحث ہیں اردو کے نامی گرامی نقاد محمد حسن عسکری۔ اس نام کی وجہ انتخاب بھی سن لیجیے۔ کہتی ہیں کہ مغربی ادب میں ادبی نقاد کی جو تعریف متعین کی گئی ہے اس تعریف پر تو اردو میں صرف محمد حسن عسکری پورے اترتے ہیں۔ کتاب کا آغاز ہی اس بیان سے ہوتا ہے۔ پھر چل سو چل۔

صحیح آدمی کو چنا۔ عسکری صاحب ہمارے زمانے کے سب سے بڑھ کر متنازع فیہ نقاد تھے۔ ہونا ہی تھا۔ مروجہ ادبی نظریات و تصورات کو چیلنج کرنے کا جو انھیں اتنا شوق تھا۔ اسی چکر میں وہ اکیلے ترقی پسند تحریک سے بھڑ گئے جو اس زمانے میں اردو کے ادبی منظر پر چھائی ہوئی نظر آتی تھی۔ یہ سب بجا۔ مگر مہر افشاں نے انھیں اس حوالے سے جا بجا پکڑا ہے کہ پہلے کیا کہہ رہے تھے اب کیا کہہ رہے ہیں۔ اس پر ان کی پکڑ ہونی ہی تھی۔ ان کی فکر و نظر کو قرار کہاں تھا۔ اور بے قراری سی بے قراری۔ شروع ہوئے تھے بے دین جوائس سے اور ختم ہوئے مولانا اشرف علی تھانوی پر جا کر  ؎

ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بہ کجا

اے لو ہم اس مہمان عزیز کو تو بھولے ہی جا رہے ہیں جن کے دم سے اس جشن کی اردو نشستوں کی رونق دوبالا ہوئی ہے۔ بھلا کون شمیم حنفی، بھلا ان کا تعارف ہم کیا کرائیں گے وہ کیا محتاج تعارف ہیں  ؎

ایسا بھی کوئی ہے کہ جو غالب کو نہ جانے

اردو نقادوں کی جو صف اول ہے۔ ارے یہ صف اول گھٹتے گھٹتے کتنی مختصر رہ گئی ہے۔ گنتی کے دانے ہیں۔ مگر گنتی کو کتنا ہی محدود کر لو شمیم حنفی ان کے بیچ نمایاں نظر آئیں گے۔

مہمان آتے چلے جا رہے ہیں۔ ادھر کاغذ بھی نبڑ گیا اور ہمارے کالم کی بھی حد آخر آ گئی۔ ویسے بھی ہم کیا ہمارے تعارفی کلمات کیا۔ بس سمجھ لو کہ اپنا تعارف آپ ہیں؎

آفتاب آمد دلیل آفتاب

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔