قربانی کی روح زخمی

محمد سعید آرائیں  ہفتہ 2 ستمبر 2017

عیدالاضحی پر کی جانے والی قربانی سنت ابراہیمی ہے جس کی ابتدا کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے قیمتی اور پیاری اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا اور یہ قربانی دونوں نے اپنی باہمی رضامندی اور اللہ پاک کی خوشنودی کے لیے پیش کی تھی جو امر ہوگئی۔

سنت ابراہیمی کی یاد میں ہر سال مسلمان اللہ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، جس میں قربان کیے جانے والے جانوروں کا گوشت، خون اورکھال سب یہیں رہ جاتی ہے اور قربانی کا عمل ہی اللہ پاک کے یہاں مرغوب قرار پاتا ہے، مگر اس قربانی کے نتیجے میں ہر اس غریب مسلمان کو بھی قربانی کا گوشت میسر آجاتا ہے، جو آج کے مہنگائی کے دور میں خاص طور پر غریبوں کے لیے خریدنا بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

قربانی ہر اس مسلمان کے لیے ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو اور یہ ضرور ہے کہ شرعی طور پر قربانی کے جانور کا گوشت 3 برابر کے حصوں میں بانٹ کر تقسیم کیا جائے۔ قربانی کے گوشت کا ایک حصہ صرف غریبوں کو دوسرا رشتے داروں اور تیسرا اپنے لیے مختص کیا جاتا ہے اور اس کی بھی پابندی نہیں ہے کہ اپنے لیے زیادہ گوشت رکھ لیا جائے۔ قربانی کے گوشت پر زیادہ حق غریبوں اور قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والوں کا ہے مگر اگر صرف سارا گوشت اپنے لیے رکھ کر ڈی فریزر اور فریج بھر لیے جائیں تو گناہ تو نہیں مگر قربانی کا مقصد ضرور متاثر ہوتا ہے اور غریب محروم رہ جاتے ہیں۔

قربانی کے جانوروں کی پیدائش میں اللہ نے برکت بھی رکھی ہے روزانہ لاکھوں جانور عام استعمال کے لیے ذبح کرکے فروخت کیے جاتے ہیں اور جانور پالنا ایک وسیع اور منافع بخش کاروبار ہے جانورگھروں میں تو پالے ہی جاتے ہیں اور فروخت ہوتے ہیں مگر اب قربانی کے جانور پالنے کے لیے بڑے بڑے مویشی فارم قائم ہوچکے ہیں جہاں پرورش کیے جانے والے جانور عام نہیں بلکہ وی آئی پی قرار دیے جاتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی خاص نوعیت کے خوبصورت، دراز قد اور بھاری وزن کے جانور بھی خصوصی خوراک کھلانے کے دعوؤں کے ساتھ پالے جاتے ہیں جو مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں اور یہ جانور خصوصی توجہ سے پالے جاتے ہیں اور عیدالاضحی پر ہی فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ وی آئی پی ہر شخص نہیں خرید سکتا ان کی فروخت کے لیے وی آئی پی انتظام ہوتا ہے اور وی آئی پی لوگ ہی ان کے خریدار ہوتے ہیں۔

وی آئی پی جانور وہ کہلائے جاتے ہیں جن کی خریداری کا عام مسلمان سوچ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ خاص جانور لاکھوں روپے مالیت کے ہوتے ہیں اور اب ان جانوروں کو بڑے بڑے ارب پتی اور کروڑ پتی ہی خرید سکتے ہیں۔ ان مہنگے جانوروں کی فروخت مویشیوں کی عام اور چھوٹی منڈیوں میں نہیں بلکہ بڑی اور پوش علاقوں کی منڈیوں میں خوبصورت ٹینٹ لگا کر صفائی کے ماحول میں فروخت کیا جاتا ہے اور یہ ٹینٹ جانوروں کی نمائش کے لیے بھی ہوتے ہیں جہاں جانوروں کے لیے پنکھوں اور ان کی صفائی کے لیے ملازمین مخصوص کیے جاتے ہیں۔ یہ مہنگے جانور خریدنے کے لیے آنے والوں کی خاص آؤ بھگت اور بیٹھنے کا انتظام کیا جاتا ہے اور مہنگے جانوروں کے میڈیا میں چرچے کرائے جاتے ہیں جس کے ذریعے پبلسٹی کرائی جاتی ہے کہ یہ خاص جانور کہاں سے لائے جاتے ہیں ان کی نسل، وزن اور خصوصی خوراک کا خاص ذکر کیا جاتا ہے۔

کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس غریب ملک کے کروڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اس ملک میں قربانی کے جانوروں کو دودھ پلایا جاتا ہے، بادام اور مکھن کے علاوہ نہ جانے کیا کیا کھلانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ عام گائے، بیلوں، بکرے بکریوں کو مویشی منڈی میں کھلے آسمان تلے گندی جگہ پر گھاس کھلانے کے علاوہ ان کا وزن بڑھانے کے لیے وافر مقدار میں بیسن کا پانی پلایا جاتا ہے جنھیں خریدنے کے لیے آنے والوں کو دھوپ اور اندھیرے میں کھڑے ہو کر سودے کرنا پڑتے ہیں۔یہ عام جانور بھی انتہائی مہنگے فروخت کیے جاتے ہیں۔

درمیانہ بیل گائے ایک لاکھ اور بکرا چالیس پچاس ہزار سے کم دستیاب نہیں۔ مہنگائی کی وجہ منڈی میں جگہ کا کرایہ، مختلف اداروں کے ٹیکس منڈی میں ملنے والی مہنگی خوراک بتائی جاتی ہے کیونکہ منڈی لگوانے والے سرکاری اداروں نے بھی مذہبی قربانی کا فریضہ ادا کرنے والوں کے لیے مشکلات اور مہنگائی بڑھا دی ہے۔

مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگا کر وہ خود بھی جانور لانے والوں کو لوٹ رہے ہیں اور منڈی میں مختلف کاروبار کرنے والوں سے بڑی بڑی رقموں کے عوض اپنا مال فروخت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ مویشی منڈیوں میں جانور لانے والوں کے لیے کرائے اور ٹیکسی زیادہ سہولتیں برائے نام دی جاتی ہیں۔ منڈیوں میں صفائی و روشنی کا انتظام ناقص، پانی کی کم فراہمی، ٹینٹوں کے بھاری کرائے، جانوروں کی مہنگی خوراک، خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے مہنگے ہوٹل، مہنگے داموں جانوروں کے لیے پانی خریدنے جیسے اہم مسائل کی وجہ بھی جانوروں کی ہر سال بڑھتی قیمتیں ہیں۔

جس نے سنت ابراہیم ادا کرنی ہے وہ تو مہنگی خریداری پر مجبور ہے اور حصہ لینے والے اجتماعی قربانی پر مجبور ہیں۔ پوری گائے و بیل کی قربانی اب صرف امیروں کے لیے ممکن ہے جب کہ بکروں کی قربانی بھی اب آسان نہیں رہی اور بہت سے لوگ مہنگے جانور خریدے بغیر مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری طرف قربانی کے جانوروں کے تماشے لگانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ مہنگے جانور اور زیادہ تعداد میں قربانی کرنے والے بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ اتنے لاکھ میں خریدے ہیں۔

ان مہنگے جانوروں کو خرید کر نمائشی قربانی کرنے والوں سے اگر کسی غریب کو راشن دلانے یا مدد کے لیے کہا جائے یا کسی غریب بیمار کا مہنگا علاج کرانے کے لیے کہا جائے تو ان کے پاس کسی نیک کام کے لیے پیسے نہیں ہوتے مگر مہنگے سے مہنگے اور زیادہ قربانی دکھانے کا تماشا دکھانے کے لیے یہ فراخدلی کی انتہا کردیتے ہیں۔ قربانی کا یہ دکھاوا کرنے والے سرمایہ دار اپنے خریدے جانوروں کی نمائش کا بھی خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ وہ جانور اپنے بڑے بنگلوں میں باندھنے کے بجائے بنگلوں سے باہر راستے قناتوں سے بند کرکے راستوں پر باندھتے ہیں۔

بعض علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی نمائش کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے جہاں جانور دیکھنے آنے والے تماشائیوں کی خاطر و مدارت کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ فقیر کو پانچ روپے کی خیرات نہیں دیتے مگر تماشائیوں کی خدمت ضرور کراتے ہیں۔

قربانی کا گوشت مستحق اور ضرورت مندوں کو کم ملتا ہے بڑے لوگوں اور افسروں میں بکروں کی رانوں کے تبادلے زیادہ ہوتے ہیں۔ عیدالاضحی پر گوشت اسٹاک کرنے اور محرم پر حلیم یا خیرات کے لیے ڈی فریزر بھی زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔ ادلے بدلے کے لیے گوشت تقسیم ہوتا ہے غریب بستیاں بڑوں کی قربانی کے گوشت آنے کی منتظر رہتی ہیں اور بڑھتی مہنگائی کے ساتھ دکھاوے کی قربانی اور قربانی کے لیے تماشا بڑھ رہا ہے اور قربانی کی سکت نہ رکھنے والے یہ تماشا دیکھ کرکڑھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔