عراق: دارالحکومت بغداد میں کار بم دھماکے، 28افراد ہلاک، 100زخمی

خبر ایجنسیاں  پير 18 فروری 2013
بغداد: عراق کے شہر صدر سٹی میں کار بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوع کا معائنہ کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

بغداد: عراق کے شہر صدر سٹی میں کار بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوع کا معائنہ کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں تین کار بم دھماکوں میں28 افراد ہلاک اور100سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بغداد کے جڑواں شہر صدر سٹی کے علاقوں امین، الحسینیہ اور کمالیہ میں یکے بعد دیگرے تین کار بم دھماکے ہوئے اور بغداد کے وسط میں واقع علاقے قرادہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے چوتھا دھماکا ہوا۔ حکام نے ان بم دھماکوں میں28 افراد کی ہلاکت اور 100 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد عراق میں رواں ماہ اب تک تشدد کے واقعات میں مہلوکین کی تعداد ڈیڑھ سو ہو گئی۔

7

فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عراق میں القاعدہ سے وابستہ گروپ پر ماضی میں اس طرح بم دھماکے کرانے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے اور ریاست اسلامی عراق ہی کو اہل تشیع کے علاقوں میں ان بم حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ تاہم عراق میں فروری کے دوران متعدد خود کش بم دھماکے کیے گئے ہیں اور ان میں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں ہی کو بلا امتیاز نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراق کے سنی اکثریتی صوبوں سے تعلق رکھنے والے عوام وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ہزاروں عراقیوں نے بغداد سے اردن اور شام کی جانب جانے والے مرکزی تجارتی شاہراہ پر مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی کے نزدیک دھرنا دے رکھا ہے اور وہ وزیراعظم نوری المالکی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔