کوئٹہ میں دھرنا، دہشت گردوں کیخلاف کارروائی تک تدفین نہ کرنے کا فیصلہ

نمائندہ ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  پير 18 فروری 2013
کوئٹہ: ہزارہ برادری کی خواتین سانحہ کوئٹہ کیخلاف دھرنے میں دہشت گردوں کیخلاف نعرے لگارہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ: ہزارہ برادری کی خواتین سانحہ کوئٹہ کیخلاف دھرنے میں دہشت گردوں کیخلاف نعرے لگارہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ: سانحہ ہزارہ ٹائون کیرانی روڈ کے خلاف کوئٹہ میں اتوار کو مکمل شٹرڈائون ہڑتال کی گئی۔

تمام دکانیں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ ہزارہ ٹائون اور علمدار روڈ پر ہزارہ قبیلے کے افراد اورمذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا اور میتوں سمیت دھرنا دے کر48گھنٹوں میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے اور دوسرے مطالبات کی منظوری تک میتوں کی تدفین نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔خواتین کی بڑی تعداد اورہزارہ قبیلے کے افراد نے میتوں سمیت ہزارہ ٹائون میں دھرنا دیا جو رات گئے تک جاری رہا۔ ان کا کہناتھا کہ علاقے کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ جب تک فوج کے ذریعے ٹارگٹڈ آپریشن نہیں کیاجاتا، میتوں کی تدفین نہیں کی جائے گی۔

دریں اثنا سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 89 ہوگئی،دوسری طرف مشتعل افراد نے بروری روڈ اورہزارہ ٹائون میں ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور ٹریفک معطل رکھی۔ ہزارہ ٹائون میں خواتین نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شام کوئٹہ کے مغربی نواحی علاقے علی آباد کرانی روڈ پر المناک بم دھماکے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ، مجلس وحدت مسلمین ، تحریک نفاذ جعفریہ کی اپیل پر کوئٹہ شہر میں شٹرڈائون ہڑتال کی گئی ۔ ہڑتال کی حمایت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ، مسلم لیگ (ن) ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی کی تھی ۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید دائودآغا نے پریس کانفرنس میں کہاکہ سانحہ علمدار روڈ کے بعد بلوچستان میں قیام امن کیلیے صرف گورنر راج کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صوبے میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور ہمارے خلاف قائم مقدمات کے خاتمے سمیت10مطالبات پیش کیے تھے جن میں سے ایک پر عمل ہوا باقی 9پر عملدر آمد باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسلام دشمنوں کی خواہشات پر ملک چلانے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکمرانوں نے ملک کی سلامتی کو دائو پر لگا کر دہشت گردی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ہزارہ برادری کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، ہم اپنی برادری کی آواز کو عالمی سطح تک پہنچائیں گے۔

2

 

انھوں نے کہا کہ ہم نے سابق نااہل حکومت کی برطرفی کامطالبہ اس لیے کیا تھا کہ حکومت میں شامل ان وزرا کے چہرے بے نقاب ہوں جو ہمارے قبیلے کے افراد کے خون میں شامل ہیں، لیکن ایسا نہیںہوسکا۔ ہمیں گورنر بلوچستان کی شخصیت اوردیانتداری پر کوئی شک نہیں لیکن چند دیانتدار افسران کی تعیناتی سے قیام امن کویقینی نہیں بنایاجاسکتا۔ اتنے ریاستی اداروں کے باوجود ایک کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جو نام بدل بدل کر کارروائی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ84افراد کی میتیں ہمارے پاس ہیں جبکہ 26 افرادتاحال لاپتہ ہیں، مذہبی اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے ان واقعات کے خلاف صرف بیانات کی حد تک محدود رہنے پر افسوس ہے۔

انھیں اس طرح کے واقعات کے خلاف عملی طور پر ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔تدفین کے حوالے سے باہرسے آنے والے قائدین سے مشاورت کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے تاحال یہ فیصلہ نہیںہوا کہ تدفین کب کی جائے گی۔ ہم میڈیا، وکلا، تاجربرادری اور سول سوسائٹی کاشکریہ اداکرتے ہیںجنھوں نے غم کی گھڑی میں ہماراساتھ دیا ۔اتوار کو ہزارہ ٹائون اور علمدار روڈ وملحقہ علاقے ماتم کدہ بنے رہیجبکہ شہر بھر کی فضا بھی سوگوار رہی۔کوئٹہ شہر بدستور میتیں لے جانے والے ایمبولینسوں کے سائرن کی آوازوں سے گونجتا رہا کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے ۔

پنجابی امام بارگاہ کی حفاظت کے لیے فوج جبکہ فوج کے دیگر علاقوں میں ایف سی اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی، ایف سی نے کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں اضافی مورچے قائم کیے اور اہلکار ہر قسم کی ٹریفک کی تلاشی لیتے رہے۔ہزارہ خواتین کے زیراہتمام ہزارہ ٹائون میں خود کش حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، مظاہرین نے بینرزاور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سیددائودآغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کاقلع قمع کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ مظاہرین نے حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف شدیدنعرے بازی کی اور پرامن طور پرمتشر ہوگئے۔ دوسری طرف علمدار روڈ پر بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور دھرنادیاگیا۔

غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق شہرمیں آنے کیلیے ایک بریگیڈ فوج کو تیار رہنے کا حکم دیدیا گیا ہے ۔دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ فوج کا چھوٹا دستہ مخصوص علاقوں میں گشت کرنے کے بعد واپس چلا گیا ، یہ دستہ علاقے میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے آیا تھا جو اس بارے میں حکام کو رپورٹ دے گا اور ضرورت پڑنے پر شہر میں فوج تعینات کی جائے گی تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ علاقے میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی ریلیاں اور دھرنے دیے گئے۔بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے سانحہ کرانی روڈ کے خلاف پیر کو بلوچستان بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، بلوچستان بار کے جنرل سیکریٹری عطاء اﷲ لانگو کے مطابق وکلا عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے لیے پیش نہیں ہونگے۔

دریں اثنا ایم کوی ایم کے اعلامیے کے مطابق متحدہ کے وفد نے سانحہ کوئٹہ میں شہید افراد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلیے ہزارہ ٹائون میں دیے گئے دھرنے میں شرکت کی اور قائد تحریک الطاف حسین کی جانب سے دہشت گردی کے اس بدترین واقعے کی شدید مذمت اور ہزارہ برادری ، شیعہ علما اور شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی و دلی تعزیت بھی کی۔وفد میں ایم کیو ایم کی سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کے رکن سید سلیم اختر ایڈوکیٹ، کوئٹہ زون کے اراکین اور ایم کیو ایم علمدار روڈ یونٹ کے ذمے داران و کارکن شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے اس موقع پر کہا کہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کا مسلسل عمل، سفاک دہشت گردوں کا قانون کی گرفت سے محفوظ رہنا اور مظلوموں کی جانب سے انصاف کے حصول کیلیے میتوں سمیت دھرنے دینا ملک بھر کے عوام کیلیے لمحہ فکریہ ہے۔

ایم کیو ایم کے وفد نے شہدا کے درجات کی بلندی، متاثرہ خاندانوں کیلیے صبر جمیل اور زخمیوں کی فوری و مکمل صحتیابی کی دعائیں بھی کیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر کے مظلوموں کو صرف الطاف حسین سے ہی توقعات ہیں اور مظلوموں کا واحد سہارا و مسیحا الطاف حسین ہی ہیں۔قبل ازیں ایم کیو ایم کے وفد نے سانحہ علمدار روڈ کے شہدا کے چہلم میں بھی شرکت کی اور شہیدوں کے اہل خانہ، علمائے کرام اور کوئٹہ یکجہتی کونسل کے سردار سعادت ہزارہ سے ملاقات کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔