روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف انڈونیشیا کے صدر بھی سراپا احتجاج

ویب ڈیسک  پير 4 ستمبر 2017
انڈونیشیائی صدر جوکو ودودو کا کہنا ہے کہ میانمار میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی وہاں کی حکومت کو مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آتا۔ (فوٹو: فائل)

انڈونیشیائی صدر جوکو ودودو کا کہنا ہے کہ میانمار میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی وہاں کی حکومت کو مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آتا۔ (فوٹو: فائل)

کراچی: انڈونیشیا کے صدر جوکو جدودو نے کہا ہے کہ میانمار میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی میانمار کی حکومت کو مسلمانوں پر ہونے والا ظلم نظر نہیں آتا؛ مسلمانوں کے قتل عام پر میانمار کے صدر کی خاموشی افسوس ناک ہے۔

انڈونیشیائی صدر کا مزید کہنا تھا کہ میانمار میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ سیکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو شہید کرکے ان کے ہزاروں گھر جلادئیے گئے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: برما میں روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم کرکے لاشوں کو آگ لگائی جارہی ہے

دوسری جانب نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم بند ہونا چاہیے۔ معصوم بچوں کا کیا قصور ہے جنہیں قتل کیا جارہا ہے اور گھروں کو جلایا جارہاہے؟ میانمار کی صورتحال دیکھ کر ہمارا دل ٹوٹ چکا ہے۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر میانمار کی حکومت کا کردار انتہائی شرم ناک ہے۔ میانمار کی حکومت کو چاہیے کہ وہاں بسنے والے مسلمانوں کو شہریت دے اور ان کا قتل عام بند کرے۔

واضح رہے کہ میانمار (برما) میں روہنگیا مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں جاری مظالم اور بے رحمانہ سلوک کے خلاف عالمی رائے عامہ بتدریج بڑھ رہی ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کا انسانی المیہ؛ اہم حقائق

اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر میانمار کی حمکراں جماعت کی لیڈر اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی خاتون آنگ سانگ سوچی پر بھی شدید تنقید کی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اب تک مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کےلیے سرگرم حلقوں کا کہنا ہے کہ اپنی اس حرکت کی بناء پر آنگ سانگ سوچی اس انعام کی حقدار نہیں رہیں اور انہیں یہ انعام واپس کردینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔