گوادر کی بندرگاہ کا مکمل انتظام چین کی کمپنی کے حوالے کردیا گیا

ویب ڈیسک  پير 18 فروری 2013
معاہدے کے موقع پر صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی موجود تھے۔  فوٹو : ایکسپریس نیوز

معاہدے کے موقع پر صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی موجود تھے۔ فوٹو : ایکسپریس نیوز

اسلام آباد: گوادر کی بندرگاہ کا مکمل انتظام چین کی کمپنی کے حوالے کردیا گیا اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر دستخط کردیئے گئے ہیں۔

ایوان صدر اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے موقع پر صدر آصف زرداری  اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سمیت دیگر وفاقی وزرا اور غیر ملکی سفارتکار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صدر آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ  پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے سے ناصرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی جہت کا آغاز ہورہا ہے بلکہ یہ معاہدہ گوادر اور مکران سمیت بلوچستان بھر کی تاریخ کا نیا باب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو خطے میں اس کے جغرافیائی محل و وقوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس بندرگاہ سے ملک میں ترقی کے نئے باب کا اضافہ ہوگا۔ اس اہم سنگ میل میں وہ وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر خان غوری کی کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ آج ہمارے ساتھ اس اہم موقع پر موجود نہیں۔

صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ چین کے کئی علاقوں سے گوادر ان کی اپنی  بندرگاہوں سے زیادہ قریب ہے جبکہ وسط ایشیائی ممالک کے لئے بھی گوادر کی بندرگاہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو مثالی قرار نہیں جاسکتا لیکن جلد ہی اس پر بھی قابو پالیا جائے گا ۔

معاہدے کے تحت گوادر کی بندرگاہ کا مکمل انتظام چین کی کمپنی سنبھالے گی تاہم اس کی ملکیت پاکستان ہی کے پاس رہے گی، معاہدے کی رو سے چین کی کمپنی گوادر میں فری اکنامک زون  اور بندرگاہ سے رتو ڈیرو تک دو رویہ سڑک تعمیر کرے گی۔

واضح رہے کہ گوادر بندرگاہ کو چین ہی کے تعاون سے سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ اس کا انتظام سنگاپور پورٹ کو سونپا گیا تھا تاہم بعد میں حکومت نے کمپنی سے معاہدہ ختم کردیا تھا۔

گوادر کی بندرگاہ چین کے حوالے کرنے پر بھارت نے شدید اعتراض اٹھایا تھا تاہم پاکستان نے اسے داخلی معاملہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔