پاکستان کو درپیش چیلنجز

ایڈیٹوریل  جمعرات 7 ستمبر 2017
وزیر دفاع نے استدلال پیش کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے زیادہ تر دہشت گرد افغانستان میں مارے جاتے ہیں . فوٹو : اے پی پی/فائل

وزیر دفاع نے استدلال پیش کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے زیادہ تر دہشت گرد افغانستان میں مارے جاتے ہیں . فوٹو : اے پی پی/فائل

وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے برکس اعلامیہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، افغانستان میں حکومت کے زیر کنٹرول نہ رہنے والا 40 فیصد علاقہ دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، پاکستان نے کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے جو امریکا، عراق و افغانستان بھی نہ کرسکا لیکن عالمی برادری نے ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کارروائیوں کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے۔ دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنرل نکلسن کی جانب سے پاکستان کو دھمکیاں دینے کو مسترد کرتے ہوئے مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اعلان نے جہاں عالمی قوتوں کی طرف سے جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر کی سیاسی جدلیات میں زبردست ارتعاش پیدا کیا ہے وہاں پاکستان کو سیاسی ، سفارتی ،عسکری اور تزویراتی محاذ پر اپنی تاریخ کی ایک غیر معمولی آزمائش کا بھی سامنا ہے اور پہلی بار اہل وطن کو محسوس ہورہا ہے کہ دہشتگردی کے عفریت کی زد میں پوری دنیا تو ہے ہی مگر کچھ طاقتوں نے وطن عزیز کو خاص ہدف پر رکھنے کی ٹھان رکھی ہے جس سے ہر دم خبردار رہنے کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ برکس اعلامیہ کے تناظر میں چین ، روس سمیت دیگر ممالک کے بدلتے سیاسی موقف اور ری الائنمنٹ کی ہولناکیوں کو بھی پیش نظر رکھنا ناگزیر ہوگیا ہے، اس لیے دانا کہہ گئے ہیں کہ سیاست میں دوستیاں ،دشمنیاں اور تعلقات دائمی اور مستقل نہیں ہوتے بلکہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔اس سیاق وسباق میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح تیزی سے سیاسی رہ ورسم ، دوستی ، تعلقات اور اسٹرٹیجیکل اور جیو پولیٹیکل موسم بھی تبدیلی کے عندیے دے رہا ہے ، ادھر شمالی کوریا میں بھونچال کی سی کیفیت ہے، ہمارے خطے میں پیراڈائم تزویراتی شفٹ برکس کے حالیہ اعلامیہ سے آیا ہے۔

وزیر دفاع نے استدلال پیش کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے زیادہ تر دہشت گرد افغانستان میں مارے جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں حملوں کے تانے بانے بھی وہیں سے ملتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے، عالمی قوتوں کو حقائق کی طرف دیکھنا چاہیے، برکس اجلاس میں بعض تنظیموں کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ غلط معلومات کی بنا پر اعلامیہ کا حصہ بنائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہم ہر صورت اپنے وطن کا دفاع کریںگے۔

برکس کے اعلامیے کے جواب میں دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ تاہم ملکی بیانیہ کے برعکس بھارت، افغانستان اور امریکی اشتراک عمل اورا سٹرٹیجیکل اتحاد سے پاکستان نے جن خدشات کا ذکر کیا ہے اور دہشتگرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کا جو ناقابل تردید حوالہ دیا ہے اس پر امریکا سمیت عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جب کہ ارباب اختیار بھی معروضی اور خطے کے حقائق کے تناظر میں زمینی صداقتوں کے ہم قدم رہتے ہوئے عالمی برادری کو باور کرائیں کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ملک ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان مسئلہ کا فوجی حل نہیں، امریکا پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ برکس کے باعث چین بھارت نئی مفاہمت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے ماضی قریب کا سرحدی تنازع بھلا کر بھارت کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات قائم رکھنے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔ چینی شہر شیامن میں برکس سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات ہوئی۔ چینی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیراعظم سے کہا کہ چین اور بھارت کے مضبوط اور مستحکم تعلقات ہونے چاہئیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہیں، چین نے غیر معمولی طور پر وضاحت کی ہے کہ بڑھتی ہوئی پرتشدد سرگرمیوں کے باعث جیش محمد اور لشکر طیبہ کو برکس کے مشترکہ اعلامیہ  میں شامل کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ گروپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور افغان ایشو پر گہرے اثر رکھتے ہیں۔ اس چشم کشا صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری جانب سے یہ اطلاع بھی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کوتسلیم نہیں کر رہا اورنہ ہی خطے کی ترقی،خوشحالی،امن واستحکام اور مستقبل کے ایجنڈے پر پاکستان کے ساتھ قریبی کام کرنے پر تیار ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے خطاب میں عجیب بات کی کہ شمالی کورین رہنما کم جانگ ان ’’جنگ کی بھیک‘‘  مانگ رہے ہیں ۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان امریکا سمیت برکس ممالک اور عالمی برادری کو قائل کرے کہ جنگ خطے کے مسائل کا حل نہیں، بلکہ امن کے قیام کے لیے تمام ممالک اکٹھے ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔