اصولوں کی پاسداری

شیر محمد چشتی  پير 18 فروری 2013

مسلم لیگ(ن) ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے،اس جماعت کے روح رواں میاں نوازشریف ہیں جہاں ان کی سربراہی وقیادت میں پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔وہی شہباز شریف کی قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث صوبہ پنجاب کے عوام کو کافی ریلیف ملا ہے وہی پاکستان کے دیگر صوبوں کے باشعور عوام بھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش ان کے صوبے کو بھی میاں شہباز شریف جیسا متحرک وفعال وزیراعلیٰ نصیب ہوجائے ۔ان دونوں بھائیوں (میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف) کو اللہ تعالی نے جہاں عروج دیا، عزت دی، حکمرانی کی نوازشیں عطا کیں، وہاں ان کے اندر رعونت اور تکبر نام کو نہیں ہے۔ یہ خودنمائی سے نفرت کرتے ہیں۔ البتہ غلط کام کرنے والے ساتھیوں اور سرکاری عمال کو نہیں بخشتے۔ اس لیے کچھ تنگ ذہنیت کے لوگ ان کو بدنام کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی گردنوں میں سریا آگیا ہے جوکہ خلاف حقیقت بات ہے۔ مندرجہ ذیل واقعات سے حقائق سامنے آتے ہیں۔

1۔ میاں محمد نواز شریف پہلے صوبہ پنجاب کے وزیر خزانہ، بعد میں وزیر اعلیٰ اور اس کے بعد دو دفعہ وزیر اعظم پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ یہ آج کل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ چند ماہ پہلے ان کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے صوبہ خیبر پختونخوا مسلم لیگ کے تنظیمی معاملات میں ناجائز مداخلت کرکے ایک گروپ کی ناجائز حمایت شروع کی۔ جب یہ رپورٹ میاں نواز شریف کے پاس پہنچی تو انھوں نے اپنے داماد کو معطل کردیا۔ تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بٹھائی جس نے کیپٹن کے خلاف رپورٹ دی۔ میاں صاحب کے داماد نے اپنی غلطی تسلیم کی اور معذرت کی لیکن اس میں جناب نواز شریف نے اپنے داماد کا ذرہ بھر ساتھ نہیں دیا اور جماعتی ڈسپلن اور اصولوں کے مطابق اسے سزا دی۔

2۔ دوسرے بھائی محمد شہباز شریف ہیں۔ یہ پہلے بھی صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور یہ آج کل پھر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بناء پر گزشتہ ساڑھے چار سال سے ایک کامیاب وزیر اعلیٰ چلے آرہے ہیں اور پنجاب مسلم لیگ کے صدر بھی ہیں۔ ان کے بارے میں تازہ واقعہ یہ ہے کہ ان کی بیٹی ایک بیکری سے خریداری کرنے گئی۔ دکان وقفے کی وجہ سے بند تھی اور ملازم نے بیکری کھولنے سے انکار کردیا۔ وہ ناراض ہوکر واپس چلی گئی اور ایلیٹ فورس کے ملازمین کو بھیج دیا جنہوں نے بیکری کے ملازم پر تشدد کیا۔ جب یہ خبر میاں شہباز شریف تک پہنچی تو انھوں نے ایلیٹ فورس کے عمال کو گرفتار کروا دیا اور اپنے داماد کو شامل تفتیش ہونے کے لیے تھانے بھیج دیا جہاں پولیس نے اسے ہتھکڑی لگاکر گرفتار کیا اور لاک اپ میں بند کردیا، دوسرے دن ڈیوٹی مجسٹریٹ نے قانون کے مطابق جوڈیشل ریمانڈ پر 14 دن کے لیے اسے جیل بھیج دیا۔ وہاں سے بعد میں اپنی ضمانت کروا کر گھر واپس لوٹے۔ اس کیس میں میاں صاحب نے قانون کی پیروی کی ۔

3۔پنجاب اسمبلی کی ایک مسلم لیگی خاتون ممبر کے بارے میں رپورٹ ملی کہ اس نے کسی دوسرے کے کریڈٹ کارڈ سے کچھ خریداری کی ہے۔ میاں شہباز شریف نے اس خاتون سے اسمبلی کی ممبر شپ سے فوراً استعفیٰ لے کر اپنی پارٹی کو بدنامی سے بچالیا۔

4۔ اس واقعے سے بھی تھوڑے دن پہلے پنجاب کے ایک وزیر نے لاہور ایئرپورٹ کے ملازمین سے بدتمیزی کی تو میاں صاحب اس وزیر سے ناراض ہوگئے اور اسے کام کرنے سے روک دیا۔

5۔ان واقعات کے بعد ایک اور مشہور واقعہ رونما ہوا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان کیس میں یونس حبیب نامی ایک شخص نے 1990 کے انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے کچھ سیاستدانوں کو ناجائز طور پر کچھ رقوم تقسیم کرنے کا انکشاف کیا جن میں سے ایک نام میاں نواز شریف کا بھی آیا ہے۔

میاں صاحب نے اس رقم کی وصولی سے صاف انکار کیا ہے اور عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق ایف آئی اے کے سامنے بھی تفتیش کی خاطر پیش ہونے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ اس کا بائیکاٹ کرسکتے تھے اور ایک نیا بحران کھڑا ہوسکتا تھا۔ میاں صاحب کی دانشمندی نے یہ صورت حال پیدا ہی نہ ہونے دی۔

یہ چند واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ شریف برادارن قانون کی حکمرانی اور اصولوں کی پاسداری کو اولیت دیتے ہیں ۔الیکشن کی آمد آمد ہے اگر مسلم لیگ (ن) مرکز میں حکومت بناتی ہے یقینا پاکستانی عوام پرامید رہیں کہ ان کا قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔یہ ایسی روشن مثالیں ہیں جو اعلیٰ حکمرانی کا طرہ امتیاز ہیں ۔ ایسی درخشندہ اور تابناک مثالوں سے بہت سے حکمران، سیاستدانوں کے نامہ اعمال اور دفتر روزگار حیات تہی دست ہیں۔ ہاں! اگر کسی کی زندگی کے سرمایہ حیات میں ایسی کوئی مثال ہو تو سامنے آئے تاکہ یہ ملک و قوم اس پر بھی فخر کرسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔