اپنی دُم سے مٹی میں دھنسنے والا چھپکلی روبوٹ

ویب ڈیسک  جمعرات 7 ستمبر 2017
یونیورسٹی آف سانتیاگو کا چھپکلی روبوٹ۔ فوٹو: بشکریہ نیوسائنٹسٹ

یونیورسٹی آف سانتیاگو کا چھپکلی روبوٹ۔ فوٹو: بشکریہ نیوسائنٹسٹ

سان تیاگو: چلی کے سائنسدانوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے ایک روبوٹ تیار کیا ہے جو فطرت سے سبق لیتے ہوئے اپنی دم گھما کر مٹی اور ریت میں سوراخ کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس روبوٹ کو حادثات کے بعد لوگوں کی جان بچانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگرہم قدرت کے کارخانے پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کئی بیکٹیریا خلیے کے گاڑھے محلول میں اپنی گھومنے والی دُم کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ اسی طرح بعض بیجوں سے لچھے دار مرغولہ نما ابھار نکلتا ہے جو مٹی میں گڑ کر پودے کو گہرائی تک لے جاتا ہے۔

چلی میں یونیورسٹی آف سان تیاگو کے بیپٹسٹ ڈربوئس ٹیکسیئر اور ان کے ساتھیوں نے تھری ڈی پرنٹر سے ایک سادہ پلاسٹک روبوٹ بنایا ہے جو اپنی اسپرنگ نما دم ریت، مٹی اور دیگر دانے دار اشیا میں جگہ بناکر روبوٹ کو اندر پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

اگر کہیں دانے دار اجزا مثلاً ریتیلے کنکروں کا ڈھیر لگا ہو تو اس کے اندر گھسنا محال ہوتا ہے یہاں تک کہ گاڑی بھی اس پر چلنے سے قاصر ہوتی ہے۔ لیکن مرغولہ دار گھومتی ہوئی دم اس کے اندر راستہ بناکر کسی بھی شے کو اندر پہنچاسکتی ہے۔

ایسے روبوٹ جنگوں اور عام حالات میں زمین کے اندر دھنس کر لوگوں کو بچانے اور خبرگیری کا کام کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔