سمندری آلودگی؛ ٹاسک فورس قائم کی جائے

ایڈیٹوریل  جمعـء 8 ستمبر 2017
اگر اسی طرح غفلت برتی جاتی رہی تو یہ سب کچھ ملکی معیشت کوکمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

اگر اسی طرح غفلت برتی جاتی رہی تو یہ سب کچھ ملکی معیشت کوکمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

کراچی کی دلکشی اور رعنائی میں اضافے کا سبب طویل ترین سمندری ساحلی پٹی ہے، جب کہ سمندری جہازوں کے ذریعے تجارت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ہزاروں مچھیروں کا روزگار بھی اسی سے وابستہ ہے اور لاکھوں شہریوں کی غذائی ضروریات مچھلیوں اور دیگر آبی مخلوق کی صورت میں پوری ہوتی ہیں جب کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف ساحلی مقامات پر بغرض تفریح جاتے ہیں، لیکن ہمارے نمایندے کی خبر کے مطابق ساحل سمندر پر ڈیول پوائنٹ کے قریب پھیلی تیل کی باریک تہہ سے سمندری آلودگی میں اضافے کے سبب پانی کا رنگ کالا پڑگیا ہے۔

سمندری حیات اور سمندر میں نہانے والے شہریوں کا مختلف جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دنیا بھر میں ساحلی مقامات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ تفریح کی غرض سے آنے والے سیاحوں کی وجہ سے ہر ملک کو لاکھوں، کروڑوں کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے، اسی لیے ان کی صفائی وستھرائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر سمندری آبی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں، لیکن یہاں توگنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ اول تو ہم کراچی اورگردونواح کی ساری گندگی، کچرا اورسیوریج کا پانی سمندر میں ڈال دیتے ہیں، جس سے نہ صرف سمندر آلودہ ترین ہو جاتا ہے بلکہ اس کے مضر اثرات آبی حیات پر بھی پڑتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ ساحل سمندر میں بحری جہاز سے بھی تیل لیک ہوسکتاہے یا پھر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی کے ذریعے بھی تیل سمندر میں شامل ہوسکتا ہے، لیکن پاکستان کو چھوڑکر ہر ملک میں ایسی صورتحال پر قابو پانے کے لیے سمندری جہاز اور کشتیاں موجود ہوتی ہے جو تیل ملے سمندری پانی کو فوری طور پر صاف کردیتی ہیں۔

حکومتی حکام کی خاموشی معنی خیز اور متعلقہ محکمے کی کارکردگی صفر ہونے کا نقصان عام شہریوں کے کھاتے میں چلا جاتاہے۔ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے کہ ساحل سمندر پر مقامی ہوٹلوں کے اطراف 8 کلومیٹر پر مشتمل محدود علاقے میں تیل کی باریک تہہ نمایاں ہے،جب کہ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ مون سون موسم میں سمندری لہریں شدت اختیار کرجاتی ہیں جس کے باعث تیل تیز سمندری ہواؤں کی وجہ سے ساحل سمندر پر پھیل جاتا ہے۔ اگر اسی طرح غفلت برتی جاتی رہی تو یہ سب کچھ ملکی معیشت کوکمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔سمندری ساحلی پٹی کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جانی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔