ورلڈ الیون کیخلاف سیریز کو آسان نہ سمجھا جائے، عبدالقادر

میاں اصغر سلیمی / اسپورٹس رپورٹر  ہفتہ 9 ستمبر 2017
کرکٹ کی بحالی کے لیے کوششیں کرتے ہوئے کراچی کونہیں بھولنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

کرکٹ کی بحالی کے لیے کوششیں کرتے ہوئے کراچی کونہیں بھولنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  عبدالقادر نے قومی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ الیون کے خلاف آنے والے خطرے سے پیشگی آگاہ کر دیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کے مطابق گرین شرٹس کا مہمان سائیڈ کے خلاف 3 میچوں کی سیریز میں کامیابی کا حصول آسان نہیں ہوگا، ورلڈ الیون فاف ڈوپلیسی، عمران طاہر، ہاشم آملہ سمیت دنیا کے ممتاز پلیئرز پر مشتمل ہے، سیریز کا نتیجہ اپنے نام کرنے کیلیے سرفراز احمد الیون کو ہر شعبے میں سخت محنت کرنا ہوگی۔

ماضی کے عظیم لیگ اسپنر کا نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کا پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ورلڈ الیون کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے، سپر لیگ کے فائنل میں اکا دکا ہی انٹرنیشنل پلیئرز شامل تھے جبکہ ورلڈ الیون دنیا کے 7 ممالک کے موجودہ بڑے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، اس ٹیم میں ایسے پلیئرز بھی شامل ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک سوال پر سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ ورلڈ الیون کا پاکستان آنا خوش آئند ہے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششیں کرتے ہوئے ہمیں کراچی کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے، اس شہر نے قومی ٹیم کو بڑے بڑے کرکٹرز دیے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیشنل ٹیموں کو ملتان، پشاور، فیصل آباد، حیدر آباد سمیت ملک کے دوسرے سینٹرز میں بھی بلانا چاہیے۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اب بھی اپنے پرانے موقف پر قائم ہوں کہ پاکستان میں مکمل امن کے بعد ہی انٹرنیشنل ٹیموں کوآنا چاہیے، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے موجودہ حالات میں چیلنج کو قبول کیا اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے بڑا فیصلہ کیا، زمبابوے کی ٹیم لاہور آئی تو کہا تھا کہ پیسوں کے ذریعے دنیا کے بڑے سے بڑے پلیئرز کو بھی مدعو کیا جاسکتا ہے اور آج میری یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی۔ یہ کھلاڑی ایک لاکھ امریکی ڈالر پر پاکستان آنے کیلیے راضی ہوئے ہیں تو اس سے بھی زیادہ قیمت ادا کرکے ان سے بھی بڑے کرکٹرز کو مدعو کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور سوال پر عبدالقادر نے کہا کہ پی سی بی کی طرف سے تاحال میچز کے ٹکٹس موصول ہوئے ہیں، نہ ہی کوئی باضابطہ دعوت نامہ آیا ہے، ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ کے چیئرمینوں کی دعوت پر ہی میچز دیکھنے کیلیے جاتا رہا ہوں، موجودہ چیئرمین پی سی بی نے خود دعوت دی تو ضرور جاؤں گا، ورنہ ٹی وی اسکرین پر ہی سیریز کے میچز سے لطف اندوز ہونے کو ترجیح دوں گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔