سوشلسٹ اکتوبر انقلاب

زبیر رحمٰن  اتوار 10 ستمبر 2017
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

انقلاب تو صدیوں سے آتے رہے۔ ان میں کچھ کامیاب اور کچھ ناکام انقلاب تھے مگر تھے انقلابات ۔ فلسطین پر 63 قبل از مسیح سلطنت روما کے شہنشاہ قیصر آ گیستس کا قبضہ تھا ۔ اکثریت یہودیوں کی تھی ، جن میں کاشتکار اورکاریگر یا محنت کش تھے، یہ طبقہ دہرے ظلم کا شکار تھا ۔ اس کو ایک طرف رومی حکمران ستاتے تھے اور دوسری طرف صدوقی اور فریسی لوٹتے تھے ۔ انھوں نے رومیوں کی اطاعت کبھی ہنسی خوشی  قبول نہ کی بلکہ جب کبھی موقع ملتا بغاوت کردیتے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے نجات دہندہ کے منتظر رہتے تھے، جس کی پیشن گوئی ان کے انبیا کرچکے تھے۔

ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا نجات دلانے والا ایک نہ ایک دن ضرور آئے گا  اور ان کا ظالموں کی غلامی سے آ آزاد کرکے ملک میں خدا کی بادشاہت قائم کرے گا ۔اس بادشاہت میںچھوٹے بڑے اور امیر وغریب کا فرق نہ ہو گا بلکہ عدل ومساوات کا بول بالا ہوگا ۔ خیالات کی ایک اور لہر تھی جس نے شام ، فلسطین کا دانشورطبقہ بہت متاثر تھا ۔ یہ روحانی فلسفہ تھا جس کا بانی زینو ا سی خطے سے تعلق رکھتا تھا ۔ زینو کہتا تھا کہ کائنات کی تمام اشیا  ایک واحد نظام کا جزو ہیں، اس نظام کو قدرت کہتے ہیں۔

انسان کی زندگی اسی وقت خیر کی زندگی ہوسکتی ہے جب وہ قدرت سے ہم آہنگ ہو اور قدرت کے قوا نین کی اطاعت کرے ۔488-531 ء کے عہد میں مزدک کی تحریک بہت نمایاں ہوئی۔  مزدک کا کہنا تھا کہ تونگر اور تہی دست برابر ہیں اورایک دوسرے پر فضیلت کا حق نہیں پہنچتا ۔ دنیاوی املاک میں سب کو مساوی حصہ ملنا چاہییے۔ تونگر کے پاس دولت کی فراوانی نا جائز ہے ۔ 1345 میں جب اٹلی میں اون بنانے والے مزدوروں نے اپنی انجمن بنانے کی کوشش کی تو ان کے رہنما جنتو بران سمیت نو افراد کو پھانسی دے دی گئی اور مزدوروں کا زور توڑ نے کے لیے باہر سے مزدور لائے گئے۔

1368میں ایک بہت بڑی بغاوت اون صاف کرنے والے مزدوروں نے فلورینس، اٹلی میں کی جس کا لیڈر مائیکل ریلاندو تھا۔ ول ڈیورینٹ کے بقول مزدوروں نے حکو مت کا تختہ الٹ دیا اور ریاست پر پرولتاریہ کی حکومت قائم کردی ۔ یونین سازی کی ممانعت کا قانون منسوخ کردیا ۔ تیسرے اور چو تھے درجے کے ہنرمند مزدوروں کو شہری حقوق مل گئے ۔ اجرتی مزدوروں کے قرضوں پر بارہ سال کی مہلت دی گئی اور سودی شرح گھٹائی گئی۔ 1382میں یہ مزدور راج ختم ہوگیا۔ تاجروں نے ہنرمند دستکاروں کے خلاف غیر ہنرمند کو بھڑکا کر مزدوروں میں  پھوٹ ڈال دی تھی۔

1789ء میں روسو سے متا ثر ہوکر انقلاب فرانس برپا ہوا ۔ جس میں لوئس دہم کا سر قلم کرکے شہر بھر میں گشت کیا گیا ۔1871ء میں پرودھون  کے فلسفے سے متاثر ہوکر پیرس کمیون قائم ہوا ۔ 200 افراد کی اسمبلی قائم ہوئی ، جس میں چھ مارکسسٹ اور 194انارکسٹ تھے ۔ مارکس نے ان انقلابی بہادر مزدوروں کو سلام پیش کیا ۔1886 ء میں شکاگو میں مزدور طبقہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کروانے کے لیے جدوجہد کی اور چھ انارکسٹوں نے پھانسیوں پہ لٹک کر دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی منوالی ، مگر سویت یو نین کا 1917ء عظیم سوشلسٹ اکتوبر انقلاب اس لیے زیادہ مقبول اور مشہور ہوا کہ انقلاب کے بعد 113نو آبادیاں سامراجی تسلط سے آزاد ہوئیں۔

پہلی باردنیا میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سمیت خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا ۔ صحت، تعلیم تمام عوام کو مفت فراہم کی گئی ۔ ٹرانسپورٹ اور رہائش تقریبا مفت تھیں ۔ اکتوبر سوشلسٹ انقلاب کی صد سالہ جشن منانے کا فیصلہ انٹر نیشنل کمیونسٹ اور ورکرز پارٹیوں کی میٹنگ میں ہوا کہ دنیا بھر میں  2017  کا پورا سال منایا جائے۔ اس سلسلے میں انجمن ترقی پسند مصنفین سندھ کی جانب سے حیدرآباد، سندھی لینگویج اتھارٹی کے ہال میں منعقد ہوا۔

اس سیمینار کی صدارت پہلے سیشن میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر سلیم راز نے کی جب کہ دوسرے سیشن کی صدارت سلیم احمد نے کی ۔اجلاس سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنر ل سیکریٹری ڈاکٹر جعفر احمد، ڈاکٹر امریتا سندھو، ڈاکٹر حمیرا، ڈ اکٹر توصیف احمد خان اورزا ہدہ حنا نے عظیم سو شلسٹ اکتوبر انقلاب  کے اثرات دنیا کے ادب پر کس طرح ،کتنی اور کہاں کہاں پڑے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس سیمینار میں دیگر لوگوں کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل  امداد قاضی بھی شریک تھے ۔ سوشلسٹ انقلاب دنیا پر نہ صرف اثر انداز ہوا بلکہ دنیا کی ہیت کو بدل ڈالا۔

دنیا میں آج تک ایسا کوئی ناول نہیں لکھا گیا جو دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اس بے مثال ناول کا نام ہے ’ ماں ‘ ۔ سوویت یو نین کے فلمی ڈائریکٹر گیگری کا آج تک دنیا میں کوئی مدمقابل نہیں آسکا۔ ایک بار سوویت یونین کا ایک فلمی وفد ہالی ووڈ آیا ، جس کا چارلی چپلن نے استقبال کرتے ہوئے پو چھا کہ’’ آپ لوگ یہاں کیا کرنے آئے ہیں ؟ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ’ ہم فلم بنانا سیکھنے آئے ہیں۔‘‘  اس پر چالی چیپلن نے جواب دیا کہ’’ یہاں فلم نہیں بلکہ پیسے بنائے جاتے ہیں‘ دنیا میں آج تک سائنس کو ادبی زبان میں کوئی ایسی معروف کتاب نہیں لکھی گئی ہے جیسا کہ’’انسان بڑا کیسے بنا‘‘ لکھی گئی۔

دنیا کی سب سے بڑی لا ئیبریری ماسکو میں تھی۔ لوممبا یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل میں 17 ہزار طلبہ رہائش پذیر تھے ۔آج بھی سوویت یونین کے معروف ڈرامہ نگار ’’چیخوف ‘‘کا کوئی ثانی نہیں ۔دنیا میں سب سے زیادہ سائنس دان سوویت یونین میں تھے ، تعلیم کی شرح سو فیصد ، سو میں سے ساٹھ ڈاکٹر عورتیں تھی اور پچاس انجینئرز۔  دنیا کے سب سے پسماندہ ترین خطے ایشیائے کوچک ،کوہ قاف اور  وسطی ایشیا تھے جہاں آج بھی سو فیصد لوگ خواندہ ہیں۔

ادب پر اثرات سوویت یونین کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی حصہ نہیں ہے جہاں نہ پڑے ہوں ۔ پابلو نرودا، جیولیس فیوچک ، فیض احمد فیض ، حبیب جالب، بلاس سہانی، جوش ملیح آ بادی ، سید سبط حسن، قاضی نذرالسلام ، مخدوم محی الدین ، سعید رضا سعید ،کیفی اعظمی، ہرستو بوتیو، ناصر کاظمی، کشور ناہید، سوکانتو بھٹہ چاریہ ، ساحرلدھیانوی ، بریخت اوراحمد فراز جیسے مایا ناز ادیب ، شعراء اور مصنف پیدا ہوئے ۔دنیا کے مشہور ومعروف گلوکاروں پر بھی انقلاب کے زبردست اثرات مرتب ہوئے۔

گزشتہ برس اقوام متحدہ  کے اجلاس میں شکیرا نے کامریڈ جان لینن کا’  قیاص توکرو‘ گانا گیا یا ۔ جان لینن کا تعلق بیٹلز موسیقی گروپ سے تھا ۔ وہ بر ٹش تھے اور انھیں  1980 میں نیو یارک میں گولی مارکرقتل کردیا گیا تھا ،اسی سال پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی سندھ کے سیکریٹری  نذیر عباسی کو بھی شدید جسما نی اذیت دے کر شہید کر دیا تھا ۔ جارج آر ویل کا ناول اس وقت دنیا میں پانچویں مقام پر تھا ،ان کا انتقال 1950 میں ہوا۔

آج بھی ہارورڈ یو نیورسٹی اور کراچی یو نیورسٹی میں ان کے ناول اینیمل فارم اور 1984 پڑھائی جاتی ہیں۔  ہارورڈ یونیورسٹی میں فیض احمد فیض کوبھی پڑھایا جاتا ہے۔راج کمار ہراجی کی تحریرکردہ پی کے فلم جس کے ہیروعرفان ہیں اتنی مقبول ہوئی ہے کہ امریکا کے بعد اب چین میں چینی زبان میں دکھائی گئی۔ ارتقا کا سفر جاری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔