مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے؟

رئیس فاطمہ  اتوار 10 ستمبر 2017
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

عجیب دور ہے، کسی کو خوشامد میں سر پہ چڑھانا چاہیں تو آسمان پہ پہنچادیں اور اگر کسی کو دشمنی یا ذاتی عناد میں نقصان پہنچانا چاہیں تو پاتال میں دبا دیں۔ ہم سب کئی عشروں سے ’’آوے ہی آوے‘‘ اور ’’جاوے ہی جاوے‘‘ کی گردان سنتے چلے آرہے ہیں۔ جانے والے آنے والوں کو برا کہتے ہیں اور آنے والے جانے والوں کے بخیے ادھیڑتے نہیں تھکتے۔ در اصل محمد علی جناح کے بعد ہمیں کوئی لیڈر نہیں ملا، صرف حکمران ملے جو خوف و دہشت کی فضا پیدا کرکے حکومت کرتے رہے۔

حکمران اور لیڈر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ حکمراں صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے سوچتا ہے اور مال بناتا ہے۔ اس کے ارد گرد حواریوں اور خوشامدیوں کا جمگھٹا رہتا ہے۔ حکمران ہر اس خوشامدی کو وزیر بنادیتا ہے جس نے پارٹی فنڈ زیادہ سے زیادہ دیا ہو اور آیندہ وزیر بننے کے بعد بھی وہ اپنے گاڈ فادر کے کالے کرتوتوں پہ پردہ ڈال کر دولت جمع کرنے کے نت نئے طریقے بتاتا رہے۔ نعرے لگانے والے اکٹھا کرتا رہے اور اپنا کاروبار بھی ہوشیاری سے چلاتا رہے۔

حکمران طاقت کے نشے میں چور رہتا ہے۔ عوام کو چھوت کی بیماری سمجھتا ہے، ان سے دور رہتا ہے۔ ہر لمحہ وہ موت سے خوفزدہ رہتا ہے، نہ جانے کون کون اس کے دشمن ہیں، کہیں کوئی بم بلاسٹ نہ کردے، کوئی فائر نہ کردے۔ اسی لیے کاروں کی ایک لمبی قطار کے درمیان ان کا قافلہ چلتا ہے۔ ان کے محافظین کا بس نہیں چلتا کہ جن راستوں سے شہنشاہ معظم کو گزرنا ہے وہاں چرند پرند کی آمد اور پرواز پر بھی پابندی لگادیں۔ ہٹو بچو کے شور سے ڈرے اور سہمے ہوئے لوگ بادشاہ سلامت کی سواری کے گزرنے کے انتظار میں فٹ پاتھوں کے کونوں میں دہک جائیں۔

جان کا ایسا خطرہ کہ تخت شاہی پہ بیٹھتے ہی ظل سبحانی کا عام آدمی سے رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ جس طرح گائے بھینس جب دودھ دینا بند کردیتی ہیں تو انھیں قصائی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح الیکشن کے بعد عوام کو لٹیروں اور منافع خوروں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ کہنے کو وزیر داخلہ بھی ہوتا ہے لیکن اسے ملک کے داخلی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنی وزارت بچاتا ہے اورخواب خرگوش کے مزے لیتا ہے۔ حکمران کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ انتہائی ضروری دوائیں مہنگی کیوں ہورہی ہیں؟

جان بچانے والی دوائیں مارکیٹ سے کیوں غائب کردی گئی ہیں، منافع خور چار سو فی صد تک منافع کس طرح کمارہے ہیں اور پھر الٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔ جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں۔ اقتدار کا سورج غروب ہونے لگتا ہے تو قریبی ساتھی اس پارٹی میں جانے کے لیے پر تولنے لگتے ہیں جس کے اقتدار میں آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور پھر وہی حکمران جو عوام کو چھوت کی بیماری کی طرح دور رکھتے تھے اچانک محلات شاہی سے جلوس کی شکل میں برآمد ہوتے ہیں اور جن کی صورت دیکھنے کے روادار نہیں تھے ان کے درمیان کھڑے ہوکر فریاد کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔

جس طرح سورج نصف النہار پر جاکر شام کو غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی اپنی حاکمیت کا ماتم کرتے ہیں اور خود کو بے قصور اور دودھ کا دھلا ثابت کرنے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں لفافہ بردار کارندوں کو پہنچنے اور دھاڑنے کے لیے مائک اور قلم لے کر بٹھادیتے ہیں۔ عروج و زوال کی یہ کہانی صدیوں سے جاری ہے لیکن کسی کو عقل نہیں آتی۔

دوسری طرف لیڈر ہوتا ہے جو عوام کا نمایندہ ہوتا ہے اور عوام کے دلوں میں رہتا ہے۔ قائد اعظم واحد لیڈر تھے جن کے پیچھے پوری قوم چل پڑی تھی، انھیں نہ مال و دولت سے دلچسپی تھی نہ کرپشن سے۔ وہ ایماندار اور کھرے آدمی تھے۔ افسوس کہ ان کے بعد اب کوئی دوسرا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا۔ لیڈر نہ کاروں کے جھرمٹ میں دلہا بنا بیٹھتا ہے نہ اسے اقتدار سے دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے لیڈر کی پوجا کرتے ہیں اور حکمران کو کھلے عام کوسنے دیتے ہیں۔ لیڈر لالچی نہیں ہوتا اسی لیے اس کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔

افسوس کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے جن لوگوں نے جان کی قربانی دی انھیں پتہ نہیں تھا کہ جس آگ کے دریا کو پار کرکے وہ یہاں تک پہنچے ہیں اور خاک پاک کو سجدہ کیا ہے، کچھ ہی عرصہ بعد عصبیت کا شیش ناگ اقتدار کے منہ پہ بیٹھ کر پھنکارے مارنے لگے گا۔ کوئی کسی کو بغیر مطلب کے سلام بھی نہ کرے گا۔ چھین جھپٹ، لوٹ مار، جھوٹ، منافقت، رشوت، کرپشن وجہ افتخار ٹھہریں گے۔

خاندانی نجابت، ایمان داری اور شرافت شجر ممنوعہ بن جائے گی کہ ان چیزوں کی قدر نہیں ہوگی، رسہ گیر، بینکوں سے کروڑوں کے قرضے لینے والے اور انھیں باپ کا مال سمجھ کر ہڑپ کرنے والے، بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوںگے، ڈکیت، قاتل اور زنا بالجبر کے مجرم اقتدار کے ایوانوں میں، سازشوں اور چالبازیوں سے اپنی جگہ بنائیں گے۔

انصاف کا خون ہوگا، مایا سے مایا ملے گی کرکے لمبے ہاتھ، شرافت، بزدلی بن جائے گی۔ بدمعاشی اور داداگیری اعلیٰ نسبی کہلائے گی۔ کیونکہ پاکستان انھی قوتوں کے لیے بنا ہے جو جتنا بڑا بدمعاش اتنی ہی اس کی پگڑی کا شملہ اونچا۔ ایس پی ہو یا ڈی ایس پی، سب ان قوتوں کے آگے سر بسجود، بیورو کریسی کی اپنی چالیں ہیں۔ کب کس کی پگڑی اچھالنی ہے اور کب پیر کی جوتی کو سرپہ رکھنا ہے یہ انھیں خوب پتہ ہے۔

پاکستان ایک ایسا باڑہ ہے جہاں خطرناک سینگوں والے بیل لومڑیاں، بچھو، گیدڑ، ڈگڈگی پہ ناچنے والے بندر سب موجود ہیں۔ ڈگڈگی ہمیشہ بظاہر خدمت گزار ’’گائے‘‘ کے گلے میں نظر آتی ہے، لیکن یہ نظر کا دھوکا ہے۔ یہ گائے اس وقت بڑی خونخوار ہوجاتی ہے جب باڑے کے بیل من مانیاں شروع کردیتے ہیں۔ گائے صرف ڈگڈگی نہیں بجاتی بلکہ پاؤں بھی پٹختی ہے۔ تب بقول منٹوؔ ’’دھڑن تختہ‘‘ ہوجاتا ہے۔

انسان کتنا نادان ہے کہ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔ اقتدار کے لیے کتا بن جاتا ہے اور منہ کی کھاتا ہے۔ کیا لوگوں کو محمد رضا شاہ پہلوی یاد نہیں جس نے ایران میں ڈھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہت منوایا تھا۔ جب دانش وروں نے بتایاکہ ایران کی بادشاہت کو صرف پندرہ سو سال ہوئے ہیں تو شاہ ایران نے کیلنڈر آگے بڑھوا دیا جو دنیا بھر میں امریکا کا سب سے بڑا حلیف تھا جس کے ایک اشارے پر دنیا ادھر سے ادھر ہوسکتی تھی جس نے وارث تخت کے لیے فرح دیبا سے شادی کی۔ وارث پیدا ہوئے لیکن آج شاہ ایران کہاں مدفون ہے کسی کو نہیں معلوم۔ صرف اتنا پتہ ہے کہ قاہرہ میں کسی جگہ۔ جس تخت کے لیے ثریا اسفندیاری کو طلاق دی وہ تخت ہی نہ رہا۔

فرح دیبا آج کہاں ہے اور کس حال میں ہے کسی کو معلوم نہیں۔ رضا شاہ پہلوی پر ایرانی انقلاب کے بعد زمین تنگ ہوگئی تھی۔ کوئی ملک اس کی میزبانی کو تیار نہ تھا کیونکہ اب وہ امریکا کا چہیتا نہ تھا، دفن ہونے کے لیے دو گز زمین بھی کوئی دینے کو تیار نہ تھا۔ فرح دیبا شوہر کے انتقال کے بعد ایک عرصہ تک ان زیورات کو بیچ بیچ کر اخراجات پورے کرتی رہی جو وہ ایران سے اپنے ساتھ لائی تھی۔

شاہ کے ایک بیٹے اور بیٹی نے ڈیپریشن سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ ادھر صدام حسین، جسے مرد آہن کہا جاتا تھا، اس کی بیٹیاں کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم۔ پرنسس رغد، رعنا اور لالہ کیا کررہی ہیں کوئی نہیں جانتا۔ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم کا کیا حال ہوا…؟ شیخ مجیب الرحمٰن جسے عوام پاگلوں کی طرح چاہتے تھے اس کا انجام کیا ہوا…؟ اندرا گاندھی اور ان کی اولاد کہاں ہے…؟ اسی کرۂ ارض پر سکندر اعظم اشوک دی گریٹ، فرعون، نمرود، ہلاکو، چنگیز اور تیمور لنگ نے جنم لیا، اقتدار کے لیے خون کی ندیاں بہادیں، انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنادیے لیکن سونا چاندی ہیرے جواہرات اور مقبوضہ زمین انھیں لافانی نہ بناسکی۔ ان سب کا انجام مٹی میں دفن ہونا ہی لکھا تھا۔

انسان کیوں تکبر اور غرور کا کلف اپنی گردن میں لگالیتا ہے، کیوں دوسروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے…پھر جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ کہیں سے آنکلتا ہے۔ انسان کی اوقات کیا، کس بات پہ اتنا گھمنڈ…؟ ایک مچھر نمرود کو اس کی اوقات یاد دلا دیتا ہے…!! لیکن نہیں۔ انسان کو عقل نہیں آتی۔ یہ دولت کے پیچھے ’’عزت سادات‘‘ کی بھی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ عزت نام ہے اب پیسے کا۔ کچھ عرصہ پہلے تک کلرکی کرنے والا آج حاتم طائی بنا بیٹھا ہے۔ ہے کسی میں ہمت کہ پوچھے یہ دولت کہاں سے آئی۔ صرف نمود و نمائش، چند سکے غریبوں کی گود میں ڈال کر کہنا ’’اﷲ کا فضل ہے‘‘ کیا یہ واقعی اﷲ کا فضل ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔