جماعت کے غریب ’’امیر‘‘ اور…!

عبدالقادر حسن  بدھ 13 ستمبر 2017
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

میری پسندیدہ جماعت بلکہ اسے جماعت نہیں ایک ادارہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ جماعت اسلامی کے روحِ رواںاور میرے پیرو مرشد مولانا ابواعلیٰ مودودی نے جب اس کی بنیاد رکھی تو اس کے مقاصد شاید کچھ اور تھے لیکن وقت کے ساتھ ان مقاصدمیں مزید اضافہ بھی ہو گیا اور میری جماعت کے سیاسی شعبہ نے بھی اس ملک کے عوام کو ایک نئی اور منفرد قسم کی سیاست سے روشنا س کرایا اور ابھی تک اپنی اس منفرد سیاست کی پہرہ داری بھی کرتی آرہی ہے کہ میری جماعت کے لوگ صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں اور مجھے ان کے صادق و امین نہ ہونے پر کبھی شک نہیں ہوا کہ جتنا میں جماعت کے لوگوں کو جانتا اور پہچانتا ہوں ان میں ولی قسم کے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے بارے میں بلا شک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ ترین لوگوں میں شمار ہوں گے اور ان کی زندگیوں کا میں عینی شاہد بھی ہوں۔

جماعت پاکستان کی واحد جمہوری جماعت ہے جو کہ اپنے امیر کا انتخاب ایک صاف شفاف انتخاب کے بعد ہی کرتی ہے اور اس انتخاب کے لیے کسی امیدوار کا امیر وکبیر یا کسی سابقہ امیر کا رشتہ دار ہونا ضروری نہیں ہوتا اور اب تک میں نے جماعت کے جتنے بھی امیر دیکھے ہیں وہ غریب ہی تھے میرا مطلب سے کہ ان کا تعلق کسی امیرخاندان سے نہیں تھا بلکہ وہ بھی ہم آپ جیسے جماعت کے عام ورکر قسم ہی تھے جو جماعت سے اپنی دیرینہ وابستگی کے بعد اس قابل ہو گئے تھے کہ امیر کے انتخاب کے لیے اپنے آپ کو پیش کر سکتے یا ان کو امیر منتخب کر لیا جاتا۔

بات جماعت اسلامی کی سیاست کے بارے میں شروع کرنا چاہ رہا تھا لیکن اپنی دیرینہ وابستگی کی وجہ سے جماعت کی یادوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو جب اُمڈ آئے تو اس سمندر کے آگے بند باندھنامشکل ہو جاتا ہے اور یادیں در آتی ہیں جو کہ محترم پیرو مرشد سے شروع ہو تی ہیں اور درجہ بدرجہ سفر کرتی ہوئی محترم سراج الحق صاحب تک پہنچ آتی ہیں۔

میرے جیسے غیر لاہوری کے لیے لاہور میں جماعت کا وجود ایک نعمت ِ مترقبہ سے کم نہیں کہ بڑے بھائی صاحب نے لاہور کے لیے روانہ کرتے وقت جماعت کے دفتر کا پتہ ہی جیب میں ڈالا تھا اور پہاڑوں میں زندگی کے صبح و شام کرنے والا نوجوان لاہور جیسے بڑے شہر میں جماعت کی محفوظ آغوش میں پہنچ گیا حالانکہ میری مرحومہ والدہ اس بات پر میرے بڑے بھائی سے شدید ناراض ہوئیں کہ وہ ان کے سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کو مولوی بنانے کے لیے راوی کے پار بھیج رہے ہیں اور جب ان سے کچھ نہ بن پڑا تو بیٹے کو حکم دیا کہ اس کو کچھ زیادہ پیسے دینا کہ سنا ہے لاہور میںتو پانی بھی خرید کر پینا پڑتا ہے۔

گو کہ اُس وقت تو پانی کے معاملے میں صورتحال ایسی نہ تھی بلکہ اسے محارواتی طور پر ہی کہا جاتا تھا لیکن اب جب میں اپنے گھر میں پانی کی بڑی بڑے بوتلیں دیکھتا ہوں تو ملازم سے کہتا ہوں کہ مجھے بھی ولایتی پانی پلا دے اور اس وقت اپنی والدہ کی بات بہت یاد آتی ہے کہ کیسے دوراندیش لوگ تھے جو آنے والے وقتوں کے بارے میں کیسی درست پیش گوئیاں کر گئے اور وقت نے ان کی دور اندیشی کو ثابت بھی کر دیا۔

میں آج بھی لاہور میں اگر کسی کو اپنا سمجھتا ہوں تو وہ میرے جماعت کے ہی لوگ ہیں جو اس دیار غیر میں میری خوشیوں اور غموں میں شریک رہتے ہیں اور وہ اُس نوجوان کو یاد دلاتے رہتے ہیں جو ذیلدار پارک اچھرہ میں آج سے کئی دہائیاں پہلے ان کا مہمان بنا تھا۔

محترم سراج الحق ان دنوں ملک بھر میں جماعت کا پیغام پہنچانے کے لیے جگہ جگہ عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیںجن میں ایک بات وہ بڑی وضاحت اور صاف الفاظ میں کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے اقتدار پر کئی دہائیوں سے مسلط کرپٹ ٹولے کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑیں گے اور ان کو کہیں چھپنے نہیں دیں اور کرپشن کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے بلکہ لوگوں کو مسلسل جگاتے رہیں گے۔وہ ایک بہت بڑی بات بھی کہہ گئے کہ جس دن بھی جماعت اسلامی کو حکومت ملی تو پھر کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اور کوئی بیروزگار نہیں رہے گا۔

جماعت کے امیر کی باتیں لوگ نہایت توجہ سے سنتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی امارت کے منصب پر بیٹھا شخص کوئی ذاتی ایجنڈا لے کر نہیں آیا اور نہ ہی یہ کوئی مفاد پرست ہے اس کی بات وزن رکھتی ہے اور جب بھی جماعت کے لوگ اقتدار کے کسی منصب پر بیٹھے انھوں نے وہ مثالیں قائم کیں جو کہ آج کے دور میں واقعی مثالیں ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب جناب نعمت اﷲ خان کراچی کے ناظم تھے تو کراچی اپنی روشنیوں کی جانب لوٹ رہا تھا اور اب جو حال کراچی کا ہے اس کے بارے میں آپ سب روز سنتے اور ٹی وی پر اس کا مشاہدہ کرتے  ہیں ۔

سراج صاحب نرم خو لیکن انتہائی مضبوط اعصاب کی شخصیت کے مالک ہیں اور ایک ایسی جماعت کی سربراہی ان کے ناتواں کندھوں پر ہے جس کی اپنی مخصوص روایات ہیں اور حالات چاہے کیسے بھی ہوں  اس پر کاربند نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے خطابات میں احتساب سب کا کے عزم کا اعادہ بھی کرتے نظر آئے کہ کرپٹ اور بداعمال حکمرانوں کی وجہ سے ہی ملک روز بروز نیچے ہی جا رہا ہے اوروہ سیاستدانوں کی بد اعمالیوں سے عوام کو خبردار کرتے رہیں گے۔

ایک بات تو بہر حال بڑے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ وقت بھی جلد ہی آنے والا ہے جب ہم جماعت اسلامی کی باتوں کی صرف مثالیں ہی نہیں دیں گے بلکہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کر کے ان کو اقتدار کے قریب بھی کرنا ہو گا کیونکہ ہم اب تک تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو آزما چکے ہیں اور اس آزمانے کے چکر میں اپنا مسلسل نقصان ہی کیے جارہے ہیں اس لیے شاید ہمارے معصوم عوام اب یہ بات سمجھ جائیں کہ ان کے دکھوں کا مداوا حقیقی طور پر کون کر سکتا ہے اور جس کی حکومت میں وہ اپنی بھوک مٹاتے ہوئے چین کی نیند سو سکتے ہیںکہ جماعت کے لوگوں کو اپنی کوئی بھوک نہیں ہے بلکہ وہ اپنی زندگیاں گزار نہیں رہے کاٹ رہے ہیں اور دنیاوی فکروں سے تقریباً بے نیاز ہیں اور کسی بے نیاز سے آپ بھلے اور خیر کی توقع ہی رکھ سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔