یونیورسٹی، انتہا پسندی اور انتظامی اقدامات

ڈاکٹر توصیف احمد خان  بدھ 13 ستمبر 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد قاتلانہ حملے میں ملوث شخص کی ہلاکت کے بعد شناخت سے کراچی یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں میں  انصار الشریعہ کے انتہاپسندوں کی پرورش، ڈاکٹر شکیل اوج کے قاتلوں کی نشاندہی کے امکانات اور انتظامی اقدامات کے ذریعے مذہبی انتہاپسندوں کی سرکشی کی خواہش نے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران پولیس افسروں اور جوانوں کو نشانہ بنانے والے تین گروہوں کا خاتمہ ہوگیا۔

ذرایع ابلاغ پر دستیاب معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ انصار الشریعہ میں شامل نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل تھے۔ یہ لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر تھے اور واٹس ایپ پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ماہرین اور ان کے پاس دستیاب ٹیکنالوجی اس مواصلاتی رابطے کا پتہ نہیں چلا سکتی تھی ۔

پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے افسروں نے چند ماہ قبل کراچی میں قائم سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور اعلیٰ افسروں کو سیمینار میں دی گئی بریفنگ میں بتایا تھا کہ مذہبی انتہاپسندوں کی سرگرمیاں دینی مدارس سے یونیورسٹیوں میں منتقل ہورہی ہیں ۔ ان افسروں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی مختلف وارداتوں کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ بعض یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

اس سیمینار میں سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور دیگر اعلیٰ افسروں نے شرکت کی تھی مگر اس مجلس کی سفارش پر ان تعلیمی ماہرین نے توجہ نہ دی۔ ایک پولیس افسر نے اس سیمینار میں کہا تھا کہ مذہبی تعلیم سے متعلق سرگرمیوں اور انتہاپسندی کے درمیان بہت باریک سی لکیر ہے۔

کراچی میں گزشتہ ہفتے یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ کی نگرانی اور ان کے دستاویزات کی متعلقہ تھانے سے تصدیق سے متعلق متعدد تجاویز پر مختلف سطحوں پر بحث و مباحثہ ہوا اور مذہبی انتہاپسندی کے تدارک کے لیے انتظامی نوعیت کے اقدامات پر غور ہوا ۔ یونیورسٹیوں میں مذہبی انتہا پسندی کا سہرا جنرل ضیاء الحق کے دور سے ملتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یونیورسٹیوںکو اسلامائز کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔

اس تحریک میں اساتذہ، طلبہ، نصاب اور تحقیق کے شعبوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ جماعت اسلامی کے دوسرے امیر میاں طفیل محمد اور جنرل ضیاء الحق کے درمیان طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی کے بعد ایک مخصوص رجعت پسند ذہن رکھنے والے طلبہ کو اساتذہ کے عہدوں پر فائزکیا گیا۔ یہ اساتذہ سائنس، سوشل سائنس، انجنیئرنگ سائنس غرض ہر شعبے میں داخل کیے گئے۔

اس رجعت پسندانہ رجحان نے مذہبی تعلیم، زبانوں کے علوم، سماجی علوم، نیچرل سائنس اور میڈیکل سائنس کے شعبوں کو براہِ راست متاثر کیا۔ اسلامک لرننگ فیکلٹی میں فرقوں کی بنیاد پر شعبے قائم ہوئے۔ ہر فرقے کے استاد نے اپنے پسندیدہ شاگردوں کو استاد بنانے کے لیے اقرباء پروری کے ریکارڈ توڑ دیے۔ تحقیق محض محدود قسم کے عنوانات تک محدود ہوگئی۔

ڈاکٹر شکیل اوج جیسے عالم نے سائنٹیفک تحقیق کے طریقے استعمال کیے اور اپنی معروضات پیش کیں تو وہ قتل کردیے گئے۔ سماجی سائنس اور نیچرل سائنس کو بھی مذہبی نقطہ نظر سے پڑھایا جاتا رہا۔ سائنسی ذہن سازی کی حوصلہ شکنی کی گئی اور رجعت پسندانہ ذہن سازی کے لیے تمام وسائل پیدا کیے گئے۔ یہ وہی دور تھا جب ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی میں جن کی حرارت سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر سیمینار منعقد ہوا، پھر  تاریخ اور سماجی علوم کے نصاب سے حقائق مٹا دیے گئے۔

نوجوانوں کے ذہنوں کو محدود کرکے دنیا کے ہر ملک سے خاص طور پر پڑوسی ممالک کے لوگوں کے خلاف نفرت آمیز مواد شامل کیا گیا۔ حتیٰ کہ غیر مسلم شہریوں کے عقائد کی ہتک کی گئی۔ رجعت پسندانہ ذہنیت اتنی قوی ہوگئی کہ بائیولوجیکل سائنس کا کوئی پروفیسر ڈاکٹر چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو اس کی روح کے مطابق پڑھانے کے لیے دستیاب نہ ہوا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ڈارون کا نظریہ آج بھی میڈیکل سائنس کی بنیاد ہے۔

رجعت پسند تنظیموں نے یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو جہاد کے لیے افغانستان بھیجنا شروع کیا۔ جب افغانستان کا محاذ تھما توکچھ انتہاپسند بھارت کے زیرِکنٹرول کشمیر میں جا کر جہاد کرنے لگے۔ کراچی میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں ملوث کئی نوجوان افغانستان سے تربیت حاصل کرکے آئے تھے اور بعض کشمیر کے جہاد میں حصہ لے چکے تھے۔  رجعت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ جامعہ کراچی میں اور دیگر یونیورسٹیوں میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تقاریب کا منعقد ہونا عام سی بات بن گئی۔

کہا جاتا ہے کہ معاشیات، تجارت، نظمیات کاروبار اور ابلاغ عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے بعض اساتذہ کے موضوعات کا براہِ راست تعلق مذہبی علوم سے ہے۔ یوں اب ان یونیورسٹیوں میں رجعت پسند ذہن صرف طالب علموں میں ہی نہیں بلکہ پروفیسر، ڈین اور بعض تو وائس چانسلروں تک کے عہدوں پر فائز ہیں۔

جامعات میں صدی کے اوائل میں نصاب سے مذہبی انتہاپسندی کے خاتمے، جدید سیکیولر بنیادوں پر مختلف سطحوں کے نصاب کی تیاری کا سلسلہ شروع ہوا مگر رجعت پسند حلقوں کے دباؤ ، ذرایع ابلاغ کا پیغام کنٹرول کرنے والے با اثر افراد کے تنقیدی رویے کی بنیاد پر یہ معاملہ ایک خاص سطح پر رک گیا۔ اب سندھ حکومت نے جدید خطوط پر نصاب سازی کے لیے اقدامات کیے مگر یہ اقدامات اسکول کی سطح تک محدود رہے۔ یہ کوشش کالجوں اور یونیورسٹیوں تک نہیں پہنچ سکی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے نصاب سازی کے بارے میں نشستیں منعقد کیں مگر رجعت پسند اساتذہ نے نصاب کو جدید خطور پر استوار کرنے کی ہر کوشش ناکام بنادی۔ اسکول سے یونیورسٹی تک کے نصاب کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ رجعت پسندانہ موضوعات پر تحقیق کی ممانعت ہونی چاہیے۔

رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلرکو خط لکھ کر اچھی روایت شروع کی ہے مگر انھیں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ سینیٹروں کے ایک گروپ کو وائس چانسلروں، اساتذہ اور طلبہ کی رائے لینی چاہیے اورایک متفقہ قانون منظور ہونا چاہیے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دے کر اس ملک کے مستقبل کو بچایا جاسکتا ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔