عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی دوبارہ سماعت

ویب ڈیسک  بدھ 13 ستمبر 2017
کلبھوشن کو سزائے موت سنا کر پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی، بھارت۔ فوٹو: فائل

کلبھوشن کو سزائے موت سنا کر پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی، بھارت۔ فوٹو: فائل

دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں سزائے موت یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت آج دوبارہ شروع ہوگی۔

پاکستان اور بھارت آج عالمی عدالت انصاف کے جج رونی ابراہم کے سامنے کلبھوشن یادیو کے کیس میں دلائل دیں گے۔ بھارت کی جانب سے عدالت میں تحریری دلائل بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بھارتی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح کلبھوشن کو بے قصور قرار دلوادے۔ بھارتی وکیل عدالت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ کلبھوشن کو سزائے موت سنا کر پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم

عالمی عدالت انصاف نے 18 مئی کو ہونے والی پچھلی سماعت میں کیس کا فیصلہ آنے تک پاکستان کو کلبھوشن یادیو کو سزائے موت پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔ را کے ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا ، کلبھوشن ایران سے پاکستان مخالف نیٹ ورک چلارہا تھا اور حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے سرگرم تھا۔ وہ کئی مرتبہ پاکستان بھی آچکا تھا اور یہاں تخریب کاری پھیلانے کے لیے کام کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جاسوس کلبھوشن کو پھانسی کی سزا

کلبھوشن نے تفتیش کے دوران را کے لیے کام کرنے کا اعتراف کرلیا تھا جس پر فوجی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔