ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان کرکٹ بحالی کے سفر کا آغاز ہے، ڈیوڈ رچرڈسن

اسپورٹس رپورٹر  بدھ 13 ستمبر 2017
سب کچھ ٹھیک چلتا رہا توآئی سی سی ایونٹ بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، چیف ایگزیکٹوآئی سی سی ۔
 فوٹو: اے ایف پی

سب کچھ ٹھیک چلتا رہا توآئی سی سی ایونٹ بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، چیف ایگزیکٹوآئی سی سی ۔ فوٹو: اے ایف پی

 لاہور: آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان بحالی کے سفر کا آغاز ہے اور ورلڈ الیون کے دورہ سے انٹرنیشنل کمیونٹی کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ 

قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اہم ہے جس پر بہت خوشی ہے، پاکستانی عوام کرکٹ سے محبت کرنے والے ہیں جب کہ پاکستان ٹیم آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آئی اور چیمپئنز ٹرافی بھی اپنے نام کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کمیونٹی کا ایک ناگزیر حصہ ہے اور یہاں عالمی کرکٹ کی بحالی کیلیے سنجیدہ ہیں جب کہ سب کچھ ٹھیک چلتا رہا تو آئی سی سی ایونٹ بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے۔

ڈیوڈ رچرڈ سن نے کہا کہ سیکیورٹی کا مسئلہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں ہے، کرکٹ کے علاوہ تمام کھیلوں کو بھی سیکیورٹی خدشات ہیں، جائلز کلارک کی مثبت رپورٹ کے بعد آئی سی سی نے ورلڈ الیون کو پاکستان بھیجنے کی حامی بھری جب کہ دونوں ٹیموں کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی بحالی ایک طویل مرحلہ ہے جس کیلیے مرحلہ وار اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ممبر ممالک کے دورے اس حوالے سے اہم ہوں گے۔ پی ایس ایل کے میچز کے انعقاد سے بھی عالمی کمیونٹی کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے بھرپور سپورٹ پر میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :ورلڈ الیون پاکستان کے مزید 2 دورے کرے گی

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے کہا کہ ہم انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس لانا چاہتے ہیں، پوری دنیا پاکستان کی ٹیم کو جانتی ہے اور ان کی قدر کرتی ہے جب کہ ڈیوڈ رچرڈسن کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں اور انہوں نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور عالمی کرکٹ کو خوش آمدید کہنے کیلیے بے قرار ہے، آئی سی سی کے تعاون سے آزادی کپ کا انعقاد ممکن ہوا، ایونٹ کے کامیاب انعقاد سے دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔