قوم پرستی کی ڈھٹائی سے حمایت

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 14 ستمبر 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ظلم کرنے والوں کو سب سے زیادہ خوف اور خطرہ مظلوموں سے ہوتا ہے اور اس خطرے سے بچنے کے لیے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جن میں سب سے بڑا ہتھکنڈا عوام کو تقسیم کرنے اور انھیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردینا ہے۔ پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ اکیس کروڑ عوام 70 سالوں سے جس معاشی استحصال کا شکار ہیں اس کی وجوہات تو ایک سے زیادہ ہیں لیکن ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ان کی تقسیم ہے۔ انھیں 70 سالوں سے مختلف حوالوں سے تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے۔

اس تقسیم میں قوم پرستی یا شاؤنزم سب سے بڑی اور خطرناک تقسیم اس لیے ہے کہ ہمارے مدبرین ہمارے ادیب و شاعر ہمارے ماہرین لسانیات نے قوم پرستی کے نظریے کی اتنے حوالوں سے حمایت کی ہے کہ یہ انسان دشمن نظریہ ہمارے ذہنوں میں پتھر کی طرح جم کر بیٹھ گیا ہے یہ کس قدرحیرت کی بات ہے کہ معاشرے میں احترام کی نظروں سے دیکھے جانے والے ’’مدبرین‘‘ قوم پرستی کی اس ڈھٹائی  سے حمایت کرتے ہیں کہ انھیں یہ خیال تک نہیں رہتا کہ اس عفریت سے وہ خود بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

1971 کے بعد باقی بچ جانے والے ملک میں پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ہمارے ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ رہتا ہے۔ ہمارے مفاد پرست اور خودغرض سیاستدانوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے والا سیاستداں ہی ملک کا اصلی حکمران ہوتا ہے۔اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے جو جتن کیے گئے ہیں ان میں سب سے بڑا جتن یہ ہے کہ ان میں شاؤنزم کو مضبوط کیا جائے۔ غالباً اسی مقصد کے حصول کے لیے صوبائیت کا نعرہ ایجاد کیا گیا۔ اس ذہنیت کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے لگ بھگ 30 سال سے اقتدار پر وہی لوگ قابض ہیں جنھوں نے معصوم عوام کے ذہنوں میں شاونزم کا زہر پھیلایا تھا اور المیہ یہ ہے کہ آج بھی اس شاؤنزم کے ذریعے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایسی ذہنیت کی وجہ سے اس ملک کے 21 کروڑ غریب عوام ایسے لوگوں سے بے خبر ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام کا استحصال جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام ہی کے ذریعے کیا جا رہا ہے لیکن اس نظام کی پھیلائی ہوئی روایتوں نے بھی عوام کے استحصال کو مستحکم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب سے روزگار کی تلاش میں کراچی آنے والے غریب طبقات مزدوروں کے اڈے پر مزدوری کی تلاش میں بیٹھتے ہیں تو ان کے برابر غریب سندھی بھی بیٹھتا ہے غریب پختون بھی بیٹھتا ہے غریب بلوچی بھی بیٹھتا ہے غریب مہاجر بھی بیٹھتا ہے ان سب کا تعلق ایک ہی استحصال کا شکار ہونے والے طبقے سے ہے لیکن ان میں مختلف حوالوں سے دوری اور بیگانگی ہی نہیں بلکہ عداوت اور تنگ نظری بھی ہے اس کلچر کو برقرار رکھنے کے لیے کراچی میں بھی غریبوں کی بستیوں کو صوبوں اور قومیتوں کے حوالے سے بانٹ کر ان کے نام اسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں۔

یہ زہر ہماری اشرافیہ نے ملک بھر میں پھیلایا اور چاروں صوبوں میں رہنے والے غریب عوام کو سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سرائیکی اور مہاجر میں تقسیم کرکے ان کی اجتماعی طاقت کو اس طرح پاش پاش کرکے رکھ دیا ہے کہ وہ اپنے اصل طبقاتی دشمن سے بے خبر ہوگئے ہیں۔ غریب عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم کرکے ان کی طاقت کا شیرازہ بکھیرنے والی اشرافیہ نہ پنجابی ہے نہ سندھی نہ پختون ہے نہ بلوچ نہ مہاجر۔ یہ سب اپنی کالی بستیوں اور رنگین محلوں میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں اور اپنے اس اشرافیائی اتحاد سے غریب عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ اس تفریقی نظریے کو ہوا دینے میں بدقسمتی سے مڈل کلاس کے ان نادانوں کا بھی بڑا کردار ہے جو یا تو خود شاونزم کا شکار ہیں یا اشرافیہ کے کارندوں کی حیثیت سے عوام کو تقسیم کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج آپ چاروں صوبوں کی سیاست پر نظر ڈالیں ہر جگہ آپ کو یہ تفریق نظر آئے گی اور جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے اس تفریق کا شکار غریب عوام ہی ہیں اشرافیہ نہ پنجابی ہے نہ سندھی ہے نہ بلوچ ہے نہ پختون نہ اردو اسپیکنگ۔ وہ ایک جیسے عالی شان بنگلوں میں رہتی ہے ایک جیسی قیمتی گاڑیوں میں گھومتی ہے ایک جیسی غذا استعمال کرتی ہے ایک جیسا قیمتی لباس استعمال کرتی ہے ان میں دوستی ہی نہیں رشتے داریاں بھی ہیں۔ آپ ان کی شاطرانہ سیاست کو دیکھیں وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کرتی ہیں اور غریب عوام کو ان کے مسائل سے چھٹکارا دلانے کے وعدے بھی کرتے ہیں لیکن اس طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتے جو غریب کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔

پنجاب ہمارے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے آبادی کے حوالے سے وہ اتنا طاقتور ہے کہ سیاست اور حکومت پر ہمیشہ اس کی گرفت مضبوط رہتی ہے لیکن وہ سیاست اور حکومت پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے جن بھوکے اور مسائل کا شکار عوام کو استعمال کرتا ہے ان کی زندگی میں 70 سال سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی اسے دو وقت کی روٹی کے لیے سارا سارا دن محنت کرنی پڑتی ہے آج بھی اس کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ آج بھی اس صوبے کے غریب عوام علاج سے محروم ہیں، آج بھی اس بڑے صوبے کے غریب عوام روزگار سے محروم ہیں اور کراچی میں آکر روزی کے لیے جد و جہد کرتے ہیں لیکن ان تمام محرومیوں کے باوجود وہ اب بھی اشرافیہ کے پھیلائے ہوئے شاونزم کے جال سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب قومی دولت کا 80 فیصد حصہ 2 فیصد لٹیروں کے ہاتھوں میں جمع ہو جائے گا تو وہ غریب اور نادار ہی رہیں گے۔

2018 میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نئے نئے ہتھکنڈوں، نئے نئے خوش کن وعدوں کے ساتھ ان کے دروازوں پر آنے والی ہے مظلوم بن کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی بستیوں مڈل اور لوئر مڈل کلاس میں ایسے اہل ایماندار اور عوام کے حقیقی دوست موجود نہیں؟ اگر ہیں تو انھیں آگے لا کر قانون ساز اداروں میں کیوں نہیں بھیجتے، کب تک دھوکے کھاتے رہو گے؟ اب جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگنا چاہیے لیکن یہ نعرہ اپنے آپ کو تقسیم کرکے کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوکر اشرافیہ سے جان چھڑانے کے لیے لگایا جانا چاہیے اگر پنجاب جاگا تو سارا ملک جاگے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔