خوف کے یہ دو دن

عبدالقادر حسن  جمعرات 21 فروری 2013
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

سچ تو یہ ہے کہ جب سے ہماری یہ نام نہاد منتخب حکومت نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے تب سے سوائے کرپشن بدعنوانی اور رشوت ستانی اور بدنظمی کے اور کسی بات کو فروغ نہیں ملا اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اب پاکستان کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ پیر اور منگل کے دو روز پورا ملک بند رہا اور ایسی قہر زدہ بدقسمت صورت حال پہلی بار سامنے آئی ہے۔ ملک میں بہت کچھ ہوتا رہا کئی جلسے جلوس ہوئے احتجاج ہوئے۔ ابھی حال ہی میں ایک مولوی عبدالشکور عرف علامہ صاحب نے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا اور دھرنا دیا کئی احتجاجی جلسے جلوس پہلے بھی دیکھے۔

ایوب خان کے بعد کی سیاسی تاریخ میرے سامنے سے گزری ہے لیکن قوم پر ایسا خوف اور دہشت کبھی طاری نہیں ہوئی۔ وطن عزیز کے زمینی راستے بند کر دیے گئے آمدورفت ختم ہو گئی جیسے پاکستانیوں پر ان کی زمین تنگ ہو گئی ہے۔ سب سے بڑی شاہراہ موٹروے بند ہو گئی لاہور شہر بند کر دیا گیا اور میں اس وقت تو حیرت زدہ رہ گیا جب میرے گائوں جانے کے دونوں راستے یعنی موٹروے اور جی ٹی روڈ بند کر دیے گئے یعنی میں گائوں سے بالکل کٹ گیا۔ زمینی راستوں کی اس بندش کے ساتھ ساتھ ملک کے فضائی راستے یوں بند ہو گئے کہ ائر پورٹ تک جانے والی سڑکیں دھرنے کی زد میں آ گئیں۔

زمینی اور فضائی راستوں کی بندش اور اس وجہ سے عوام میں ایک عام خوف پاکستان کی تاریخ کے یہ قہر و بلا کے دو دن گویا اس ملک کی تاریخ سے نکال کر الگ کر دیے گئے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور بے کسی کی انتہاء اس وقت ہو گئی جب حکومت پر محاورتاً نہیں حقیقتاً جوں تک نہ رینگی۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ سپریم کورٹ کے سربراہ نے بالکل سچ کہا کہ ملک جل رہا ہے اور حکومت ابھی وقت مانگتی ہے اور اسلام آباد کی شاہراہ دستور کی چار عمارتوں تک محدود ہو جانے والی حکومت کیا اپنے آپ کو پورے پاکستان کی حکومت سمجھتی ہے۔ ذرا حالات کچھ نارمل ہوں تو بتائیں گے کہ یہ دھرنے فرقہ وارانہ سے زیادہ کچھ اور بھی تھے یعنی ان کا ایک محرک کچھ دوسرا بھی تھا عام لوگوں کو اس کا حصہ بنا کر ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی، بہر کیف ملک پر یہ دو دن اتنے بھاری گزرے کہ پاکستانیوں کی سانسیں اٹک گئیں اور بے سدھ سے ہو گئے جیسے ان پر جان کنی کی حالت طاری ہو۔

گزرنے والے یہ دو دن ایک کہانی سناتے ہیں اور وہ یہ کہ ہماری انتظامیہ کس قدر کھوکھلی ہو چکی ہے کہ اسے ناک کے سامنے ہونے والے واقعات سے بھی حرکت نہیں ہوتی اور وہ کسی بے خبر کی طرح اپنے آپ سے مست رہتی ہے۔ یہ صورت حال پتہ دیتی ہے کہ ہمارا ملک ایک ایسی حالت تک پہنچا دیا گیا ہے کہ اس کی گرتی ہوئی دیوار کو صرف ایک دھکے کی ضرورت ہے یعنی ہمارا کوئی دشمن جب چاہے ہمیں معطل اور بے کار کر سکتا ہے جیسے ہماری پوری قومی اور ملکی زندگی کسی دشمن کے اختیار میں چلی گئی ہے اب کوئی بتائے کہ گزشتہ دنوں میں کیا اس ملک میں کوئی حکومت موجود تھی۔ خدانخواستہ اگر کوئی ایمرجنسی پیدا ہو جاتی تو اس کا مقابلہ کون کرتا کیا دشمن کو ایک کھلا میدان نہ مل جاتا جس میں اسے روکنے والا کوئی نہ ہوتا۔

پاکستان کے ارباب حل و عقد کو تو ہروقت انتہائی ہوشیار اور چوکنا رہنا چاہیے کیونکہ دشمن ہر وقت ہماری تاک میں رہتا ہے اور کوئی مناسب وقت ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمارا دشمن ہمیں ٹیسٹ کر رہا ہے کہ ہمارے ہاں کتنی سکت باقی ہے اور ہماری حالت اب کہاں تک گر گئی ہے، کیا ایک ایٹمی قوت اس حد تک بے بس ہو گئی ہے کہ اس کے لیے حرکت ہی ممکن نہیں رہی۔ اس لیے کسی مخالفانہ کارروائی کے وقت دشمن کو زیادہ زحمت نہیں ہو گی بشرطیکہ ہماری حالت بھی ایسی ہی رہی جیسی اب ہے اور واقعہ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی اور انتظامی مشینری کسی مزاحمت کے قابل ہی نہیں رہی ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست مال و دولت کا بے پناہ لالچ ہے۔

ضروریات ہر ایک کی ہوتی ہیں اور زندگی ان کے بغیر نہیں گزرتی لیکن ہر بات کی کوئی حد ہوتی ہے ہمارے ہاں جب سب کے سامنے حکمرانوں کو کروڑوں کے محلات تحفوں میں ملتے ہوں تو کیا دوسرے اندھے ہیں اور ان کو معلوم نہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور موقع ملے تو وہ بھی ایسا کیوں نہ کریں، اس طرح پورے ملک کی فضا کرپشن کی فضا بن گئی ہے جہاں ہر کام کا معیار بدعنوانی ہے اورجو جتنا بڑا کرپٹ ہے وہ اتنا بڑا آدمی ہے۔ ایک اخبار نے ایک مشہور و معروف کاروباری کے بارے میں خبر چھاپی ہے کہ وہ صدارت کے امیدوار ہیں ملک کی اس فضا میں صدارت ایسے ہی لوگوں کو ملنی چاہیے اور یہی اس کے لیے وہی موزوں ہیں ۔اگر کوئی دیانت دار شخص کسی حادثے میں اس منصب تک پہنچ گیا تو یہ کرپٹ لوگ اسے پاگل کر دیں گے لیکن اب ضرورت کسی پاگل کی ہی ہے جو کسی دوسری مٹی کا بنا ہوا ہو۔ وقت کے ایک سب سے بڑے بادشاہ اور حکمران سے کہا گیا کہ عید آ رہی ہے اور بچیوں کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں۔

بیوی یعنی خاتون اول کی بات سن کر یہ بادشاہ پریشان ہو گیا کہ اس کی جیب بھی خالی ہے چنانچہ وہ کوئی اور راہ نہ پا کر سیدھا بیت المال گیا اور درخواست گزاری کہ میری اگلے ماہ کی تنخواہ مجھے پیشگی دی جائے۔ بیت المال کے افسر نے جواب دیا کہ امیر المومنین آپ اپنی تنخواہ ضرور لے لیں لیکن اس کی ادائیگی کیسے ہو گی کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ آیندہ ماہ تک زندہ رہیں گے کیونکہ آپ کے وارث اس قابل نہیں کہ یہ ادائیگی کر سکیں گے۔ یہ امیر المومنین جو ایک شہزادہ تھا اور اپنی جوانی میں ایک لباس دوسری بار نہیں پہنتا تھا کہ لباس لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے جب ایک بار لوگوں نے دیکھ لیا تو پھر اسے دوبارہ کیوں پہنا جائے۔ اس کی زندگی عیش و عشرت کی زندگی تھی اور اس کی بیوی بھی ایک شہزادی تھی لیکن دونوں کے پاس بچیوں کے لیے عید کے نئے کپڑے نہیں تھے کہ ان کی آمدنی صرف وہ تنخواہ تھی جو روز مرہ کی ضروریات کو سامنے رکھ کر طے کی گئی تھی۔

عمر بن عبدالعزیز نام کے اس حکمران نے ہمارے آج کے جعلی شہزادوں کی طرح زندگی بسر کی تھی لیکن جب قوم نے اس پر کوئی ذمے داری ڈال دی تو حلف اٹھاتے ہی وہ بالکل ایک نیا انسان بن کر سامنے آیا اور معاشی اصلاحات اپنے شاہی خاندان سے شروع کیں۔ یہ عذر بالکل جھوٹ ہے کہ پرانے زمانوں کے لوگوں کا ہم کیا مقابلہ کر سکتے ہیں میں جس حکمران کا ذکر کر رہا ہوں وہ تو دولت مند ہی نہیں شاہی خاندان کا رکن تھا۔ عرض یہ ہے کہ آج بھی دنیا بدل سکتی ہے۔ ہم یورپ میں دیکھتے ہیں اور جاپان وغیرہ میں بھی جہاں کے حکمران اسی معیار پر پورے اترتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حکمران جب کوئی بند ے کا بچہ آئے گا تو ہماری قوم کا مقابلہ دنیا میں کوئی قوم نہیں کر سکتی جس کے پاس دنیا داری کی دیانت ہو اور جس کا دل ایمان کی حرارت سے دھڑکتا ہو۔ تب اس ملک میں کوئی دن ایسا نہیں آئے گا جب حکومت عملاً ختم ہو چکی ہوگی اور ہمارے منصف اعلیٰ کے بقول اسلام آباد کی صرف چار ایسی عمارتوں تک محدود ہو گی جہاں اختیارات پائے جاتے ہیں اور لوگ ان عمارتوں میں بیٹھ کر خود کو ملک بھر کا حکمران سمجھنے لگتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔