72ء کے بعد قرضے معاف کرانے والوں کی تفصیلات عام کرنیکا حکم

نمائندہ ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  جمعرات 21 فروری 2013
تفصیلات سامنے سے اہم نام بے نقاب ہونے اور کئی سیاستدانوں پر نااہلی کی تلوار لٹکنے کا امکان  فوٹو: فائل

تفصیلات سامنے سے اہم نام بے نقاب ہونے اور کئی سیاستدانوں پر نااہلی کی تلوار لٹکنے کا امکان فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے1972 سے اب تک قرضے معاف کرانے والوں کے حوالے سے جسٹس سید جمشید علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت3 ہفتے کیلیے ملتوی کردی اور فریقین کو نوٹس بھی جاری کردیے۔

بدھ کو عدالت نے تمام ریکارڈ فریقین کے روبرو منگو ایا اور کھولنے کا حکم دیا۔ ریکارڈ 20 آہنی صندوقوں پر مشتمل ہے جن میں سپلیمنٹری پیپر بکس بھی موجود ہیں۔ اس رپورٹ کا کا کوئی بھی جائزہ لے سکتا ہے، عدالت کی جانب سے رپورٹ اوپن کرنے کے حکم سے کئی سیاستدانوں پر نااہلی کی تلوار لٹک سکتی ہے اور اہم نام بے نقاب ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ قواعد کے مطابق کمیشن کی رپورٹ کاجائزہ لیا جا سکتا ہے اس کے لیے طریقہ کار رجسٹرار آفس خود طے کرے گا،عدالت نے طریقہ کار طے ہونے کے بعد رپورٹ عام کرنے کی بھی ہدایت کی۔

8

آن لائن کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بدھ کو خواجہ صدیق پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر وفات پاچکے ہیں اور ابھی نئے وکیل کو اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا، اسلیے وقت دیا جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آج تو ہم نے رپورٹ اوپن کرنا تھی اسے اوپن کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردیں گے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ اوپن کرنے کیلیے عدالتی معاون کو ہدایت کی کہ وہ تمام آہنی باکس کھول دیں اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت کے روبرو عدالتی معاون نے رپورٹ کھولی اور اس کا والیم نمبر1اور 2 ججوں کے حوالے کیا جنھوں نے رپورٹ کا کچھ دیر تک مطالعہ کیا۔ بعدازاں چیف جسٹس نے آرڈر تحریر کراتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کو عوام کیلیے پیش کردیا گیا ہے تمام فریقین اس کی کاپی حاصل کرسکتے ہیں اور اس حوالے سے جواب بھی دے سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔