امریکا سے دوستی اور ہماری معیشت

نصرت جاوید  جمعـء 22 فروری 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

1950 کی دہائی کے شروع ہوتے ہی پاکستانی فوج کے پہلے ’’دیسی‘‘ چیف نے اس وقت کے سول حکمرانوں اور سیاستدانوں سے بالابالا امریکی حکومت سے طویل المدتی اور بین الاقوامی نوعیت کے معاہدے کر ڈالے ۔ان معاہدوں کا پاکستان کے دفاع کو بالآخر جو ’’فائدہ‘‘ پہنچا وہ 1965 میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ہم سب نے دیکھ لیا۔فیلڈ مارشل ایوب خان حقیقتوں کے اس ہولناک انکشاف سے اداس ہوگئے اور الطاف گوہر سے ’’جس رزق میں آتی ہو‘‘ نامی کتاب لکھوانے کے بعد گھر چلے گئے ۔

مگر امریکا سے دوستی نبھاتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی سرکاری معیشت چلانے کی جو راہ اپنائی ہم ابھی تک اس سے جان نہیں چھڑاپائے ۔ایوب خان کے زمانے سے ہماری سرکاری معیشت میں متعارف ہونے کے بعد دن بدن گہری ہوتی گئی اس روایت کا مختصر زبان میں خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ پاکستانی ریاست اپنے لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کرکے اپنے اخراجات پورا کرنے کو تیار نہیں ۔یہ خسارے کے بجٹ بناتی ہے۔ٹیکسوں کے ذریعے آمدن اور ریاست کے روزبروز بڑھتے اخراجات میں ہوشربا اضافے کے درمیان جو فرق ہوتا ہے، اسے غیر ملکی قرضوں اور امداد سے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

غیر ملکی قرضوں اور امداد کا تمام تر انحصار اس بات پر رہا ہے کہ امریکا کو اپنے دفاعی اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کی کب اور کہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے۔امریکا کو اس ضمن میں ہماری سب سے زیادہ ضرورت آنجہانی سوویت یونین کے افغانستان میں گھس آنے کے بعد محسوس ہوئی۔اس ملک کی آزادی کے لیے ’’جہاد‘‘ فرماتے ہوئے غازی ضیاء الحق نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اس کے پورے دور میں ہمارے ملک میں رونق سی لگی نظر آتی رہی۔پھر سوویت یونین افغانستان سے اپنی فوجیں نکال کر ٹوٹ گیا اور امریکا نے ہمیں بھلادیا۔

ضیاء الحق بھی طیارے کے ایک حادثے میں شہید ہوگئے۔ملک میں جمہوریت آئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے دودوباریاں لیں۔مگر معیشت پُر رونق نہ رہی۔ایسے میں میرے جیسے صحافیوں کی اکثریت نے پاکستان کے سادہ لوح عوام کو یہ بتانا بھی شروع کردیا کہ ہماری معیشت میں برکت اس لیے نظر نہیں آرہی کہ ہم جن حکمرانوں کو منتخب کرتے ہیں وہ بدعنوان ہیں۔ملک کی بجائے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بیرون ملک اثاثے بنانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ایسا کرتے ہوئے ہم میں سے کوئی بھی لوگوں کو یاددلانے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت تک طویل المدتی معاشی استحکام اور ترقی کا سوچ ہی نہیں سکتا جب تک وہاں کی حکومت اپنے خوشحال لوگوں سے محاصل اکٹھا کرنے کی ٹھوس نیت ،ہمت اور سکت نہ پیدا کرلے۔

ایسی’’بور‘‘ باتیں کچھ اس لیے بھی نہیں کی جاتیں کیونکہ نامور سیاستدانوں کی پرتعیش زندگی کی تفصیلات سن اور پڑھ کر لوگوں کو زیادہ مزہ آتا ہے۔یہ ان پارسا لوگوں کے دل کو بھی بہت بھاتا ہے جو حرام کھانے والوں کو سرعام پھانسی پرچڑھا دیکھنا چاہتے ہیں۔شاید ایسے ہی لوگوں کی تسلی کے لیے جنرل مشرف نے اکتوبر1999ء میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔اس وقت کے امریکی صدر کلنٹن نے اپنے جنرل زینی کے کہنے پر جنرل مشرف کا قبضہ تو ہضم کرلیا ۔مگر اس کو قرضے اور مدد فراہم کرنے پر ہرگز تیار نہ ہوئے۔اسی لیے تو جنرل مشرف احتساب بیورو کو جنرل امجد کے حوالے کرنے پر مجبور ہوا۔اس ادارے نے چن چن کر ’’بڑے بڑے مگرمچھوں‘‘ کو جنگی قیدیوں کی طرح تھانوں میں بند کردیا۔مگر حاصل وصول کچھ خاص نہ ہوا۔اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت عزیز کو فوجیوں کے ساتھ کاروباری لوگوں کی آمدنی کا سروے کرانے کے لیے ٹیکس والوں کی ٹیمیں بازاروں میں بھیجنا پڑیں اور تاجروں نے ’’انقلابیوں‘‘ کی طرح ان ٹیموں کی مزاحمت کرنا شروع کردی۔

خزانہ خالی دیکھتے ہوئے جنرل امجد کو ہٹاکر خالد مقبول لائے گئے جنھوں نے Plea Bargainکے ذریعے تھانوں میں ڈالے مگر مچھوں سے مک مکا شروع کردئیے ۔امریکا سے اس کے ابتدائی ایام میں جنرل مشرف کی دوریاں شاید ہماری ریاست کو اپنے اخراجات ملکی محاصل سے پورا کرنے کی راہ پر ڈال دیتی۔مگر ہماری بدقسمتی اور مشرف کی خوش قسمتی کہ نائن الیون ہوگیا۔کلنٹن چلا گیا اور بش کے ہوتے ہوئے اس واقعے نے امریکا کو War on Terrorبرپا کرنے پر مجبور کردیا۔پاکستان کی عملی مدد کے بغیر یہ جنگ لڑی ہی نہ جاسکتی تھی ۔

لہذا تھانوں میں بند’’مگر مچھ‘‘ تیزی سے رہا ہونا شروع ہوگئے ۔ایف بی آر والوں نے سروے کے فارم ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دئیے ۔امریکا سے ڈالر آنا شروع ہوگئے ۔ہماری ریاست کا موڈ بن گیا اور معیشت ایک بار پھر پررونق نظر آنا شروع ہوگئی۔یقین مانیے یہ رونق لگانے میں جنرل مشرف کے لیے کام کرنے والے کسی بھی ’’ماہرِ اقتصادیات‘‘ کا کوئی کمال نہ تھا۔جن میں سے ایک ڈاکٹر اشفاق حسن خان آج بھی ہر ہفتے انگریزی اخباروں میں مضمون لکھ کر اپنے ’’سنہری دور‘‘ کی یاددلاتے رہتے ہیں ۔شاید اس خیال سے کہ انھیں حکومت کی معاشی پالیسیاں بنانے کے بوجھ سے فارغ کرنے کے بعد پاکستان کے لوگ اور ریاست اب پچھتارہے ہوں گے ۔

جنرل مشرف کے معاشی حوالے سے ’’پُر رونق‘‘ دور کا ذکر کرتے ہوئے اشفاق حسن خان جیسے لوگ پتہ نہیں کیوں بھول جاتے ہیں کہ جیکب آباد کے بوسٹن یونیورسٹی سے PHDکیے ہوئے حفیظ شیخ بھی اسی دور کے معاشی نابغوں میں سے ایک سمجھے جاتے تھے۔موصوف کی چونکہ شکارپور کے سومرو خاندان سے رشتے داری تھی اس لیے اس وقت کے گورنر سندھ محمد میاں سومرو نے انھیں مشرف کے حضور پیش کیا۔موصوف سندھ کے وزیر خزانہ بنے اور سنا ہے اپنے تین سالہ دور میں انھوں نے پہلی بار اپنی صوبائی حکومت کو خسارے والے بجٹ بنانے کی لت سے آزاد کرالیا۔سندھ میں کارنامے سرانجام دینے کے بعد شیخ صاحب نے 2002ء کے انتخابات میں سینیٹ کا رکن بن کر مرکز میں اپنے جلوے دکھانا چاہے ۔یہاں مگر شوکت عزیز بیٹھے تھے

۔پوری طرح جانتے تھے کہ اقتدار کی میان صرف ایک ہی تلوار قبول کرسکتی ہے اور ان سے بڑا کلاکار ویسے بھی کون ہوسکتا تھا۔انھوں نے حفیظ صاحب کا اسلام آباد میں جینا دوبھر کردیا۔حساس آدمی تھے بالآخر دوبئی جاکر روٹی روزی کمانے لگے۔پھر2010ء ہوا۔اسلام آباد کو ایک بار پھرایک معاشی نابغے کی ضرورت پڑگئی اور آپ نے آصف علی زرداری کو یاددلوایا کہ ان کے والد تو پاکستان پیپلز پارٹی کے بھٹو صاحب کے بنائے ضلع جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ صدر ہوا کرتے تھے۔خورشید شاہ نے اس کہانی کی تصدیق کی اور شیخ صاحب تین سال تک وزارتِ خزانہ کو اپنی مرضی اور موڈ سے چلاتے رہے۔منگل کو بالآخر انھوں نے استعفیٰ دے دیا ۔پیپلز پارٹی کی دی گئی سینیٹ کی سیٹ ابھی تک نہیں چھوڑی۔ عبوری وزیر اعظم نہ بن پائے تو آئندہ ’’استحقاق ‘‘ وغیرہ جتانے کے کام آئے گی اور کم از کم ایک تنخواہ تو ملتی رہے گی جو سینیٹ کے رکن کو ہر ماہ ملاکرتی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔