نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی لگادی

ویب ڈیسک  بدھ 20 ستمبر 2017

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی جائیداد کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نیب نے اسحاق ڈار کی جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی لگانےکی کاپپاں بینکوں کو بھی بھجوادی ہیں جس میں کہا گیا گیا ہے کہ وزیرخزانہ پرآمدنی سےزائد اثاثے بنانے کا الزام ہے اور نیب نےاسلام آباد کی احتساب عدالت میں ان کے خلاف ریفرنس دائرکررکھاہے۔

اس سے قبل نیب لاہور کی ٹیم عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے گرفتاری کا وارنٹ لے کر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر پہنچ تھی۔ نیب لاہور کی ٹیم نے منسٹرز انکلیو اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر پہنچی اور وہاں موجود ملازمین سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کے پاس اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری ہیں۔ نیب لاہور کی ٹیم نے گرفتاری کے احکامات اور تعمیلی سمن ملازمین سے وصول کرائے اور تلاشی لے کر اس بات کی تسلی کی کہ وزیر خزانہ گھر پر موجود نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملازمین نے نیب کے تفتیشی افسران سے ٹیلیفون پر کسی فرد کی بات بھی کرائی جس میں تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم قانون کے مطابق کارروائی کر رہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ ناجائز اثاثہ جات کیس میں اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری

قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی، سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے بجائے ان کے پروٹوکول آفیسر فضل داد عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ سمن جاری ہونے کے باوجود عدالت پیش نہ ہونے پر اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے ملزم اسحاق ڈار کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

 واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان پر 3 جب کہ اسحاق ڈار پر ایک ریفرنس دائر کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔