سبالٹرن اسٹڈیز، جس میں تاریخ کو عام آدمی کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے

 اتوار 24 فروری 2013
عام طور پر تاریخ میں حکمرانوں کے کارناموں کا بیان ہوتاہے. فوٹو : فائل

عام طور پر تاریخ میں حکمرانوں کے کارناموں کا بیان ہوتاہے. فوٹو : فائل

سبالٹرن اسٹڈیزکا نظریہ ہے کہ تاریخ کو ریاست کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

عام آدمی پرکیا گزر رہی ہے، وہ حالات کو کس طرح سے دیکھ رہا ہے،اس کا بیان اس اسٹڈی کا بنیادی مقصد تھا۔عام طور پر تاریخ میں حکمرانوں کے کارناموں کا بیان ہوتاہے اور رعایا کی حالت زار اور ان کے نقطہ نظر کے بارے میں پتا نہیں چلتا، سبالٹرن اسٹڈیزاس سوچ کے ردعمل میں وجود میں آئی۔اس کو1981-82ء میں رنجیت گوہا ،نے اپنے چند شاگردوں جیسے شاہد امین،پارتھا چیٹرجی،دیپیش چکربتی، ڈیوڈ ہاڈی مین کے ساتھ مل کرشروع کیا۔ان کا خیال تھا کہ جتنی تاریخ لکھی گئی ہے، وہ اشرافیہ کے نقطہ نظر سے ہے۔اس سمے رنجیت گوہا نے بنگال میں ایک بغاوت پر لکھا، اس مضمون سے سبالٹرن اسٹڈی کا آغاز کیا۔اس سمے مائو ازم کا بھی زورتھا اور بنگال میں نیشنل ازم بھی چل رہا تھا۔ ہر دو سال میں وہ سبالٹرن اسٹڈیز پر ایک والیم نکالتے، جس میں تحقیقی مضامین شامل ہوتے۔

میں نے1992ء میں اس گروپ کوجوائن کیا۔90ء میں بہار میں بندھوا مزدوری پرمیری کتاب سامنے آئی،اس میں بھوت پربھی ایک باب تھا، اس زمانے میں رنجیت گوہا سے ملاتو وہ کہنے لگے کہ آپ بھوت پر لکھتے ہو، آپ بھی سبالٹرن ہو۔میں نے بھوتوں سے متعلق باب میں لکھا تھا کہ گائوں میں مزدوروں سے یہ کہا جاتاکہ مالکوں کا بھی ایک بھوت دیوتاہے، اور اگر مالک کی فصل چوری کرو گے تو وہ آکر سزا دے گا، جس سے یا تو کوئی مر جائے گا یا پھر کچھ اور ہوجائے گا۔مالک دیوتابھی ہوتا تھا اور مالک ڈائن بھی۔گوہا کا کہنا تھا کہ عام طور پر لوگ بھوت کے بارے میں نہیں لکھتے‘ کہ بھلا بھوت کا تاریخ میں کیا سوال؟رنجیت گوہا کے کہنے پرسبالٹرن اسٹڈیز میں شامل ہوگیا۔اس زمانے میں نئی نئی تبدیلیاں آرہی تھیں۔کئی لوگ امریکا اور انگلینڈ میں پڑھ رہے تھے۔

ہمارے کام کا لاطینی امریکا پر کام کرنے والوں نے خاصا اثر قبول کیا۔ہم نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر کئی کانفرنسیں بھی کیں۔انھوں اپنے ہاں جاکر لاطینی امریکا سبالٹرن اسٹڈیزکو کھولا۔سبالٹرن اسٹڈیزہندوستان سے شروع ہوئی، اور اسی کے لوگوں نے اسے شروع کیا۔اس کو بند اس لیے کیا گیاکہ 2006ء میں ہم نے فیصلہ کیا کہ سبالٹرن اسٹڈیز کو جس مقصد کے لیے شروع کیا گیاتھا، وہ ایک لحاظ سے پورا ہوگیا۔

مقصد یہ تھاکہ ہم نے کالونیل اور نیشنل ازم کے زیر اثر تاریخ کے خلاف لکھنا ہے، کیونکہ اس سمے تک جو تاریخ لکھی گئی تھی وہ تو امپریل یا پھر نیشنلسٹ نقطہ نظرسے لکھی گئی، جیسے تقسیم سے قبل تاریخ کے بارے میں کہا گیا کہ سب عوام کی جو منزل ہے ، وہ صرف آزادی ہے، سب کچھ اسی تناظر میں لکھا گیا،تو ہم نے اس کے خلاف لکھا اور یہ دکھایاکہ نیشنل ازم کے علاوہ لوگوں کی اور بھی خواہشات تھیں۔یہ سب جب ہوگیاتو سبالٹرن اسٹڈیزسے جڑے لوگوں کی دل چسپی اور کاموں کی طرف ہوگئی، جیسے ہم شہر پر کام کرنے لگے۔کچھ لوگ انٹیلکچویل ہسٹری پر کام کرنے لگے، تو وہ جومشترکہ مقصد تھا وہ ختم ہونے لگا۔دوہزار چار ، پانچ اور چھ کے سالانہ اجلاسوں میں سوال اٹھاکہ اب اسے ختم کردینا چاہیے۔

اس سے پہلے یہ ہوا کہ 96ء میںگوہا نے کہا کہ اب نوجوان آگے آئیں ۔وہ خود ریٹائر ہوکر پہلے آسٹریلیااور پھر آسٹریا چلے گئے،اس سے بھی فرق پڑا کیونکہ سبالٹرن اسٹڈی روزانہ نہ سہی پھر بھی کم سے کم ریگولر تعلقات کی بنیاد پر ہوتی ہے، صرف ای میل پر رابطے سے گزارانھیں ہوتا۔تو پھرہر سالانہ میٹنگ میں سوال ہوتاتھا کہ ایک جو ایجنڈاہے وہ تو ہوگیا۔آیندہ دنوں میں گوہا صاحب کی کتاب “Elementary Aspects of Peasant Insurgency in Colonial India”کو تیس سال ہونے کی مناسبت سے دہلی میں ہم لوگ اکٹھے ہورہے ہیں، ادھرپھر سبالٹرن اسٹڈیز پر بات ہوگی ۔

بہت سا کام جو سبالٹرن اسٹڈیزکے ذیل میں آتا ہے، وہ ان لوگوں نے کیا ہے، جو سبالٹرن اسٹڈیز کے براہ راست ممبر نہیں تھے۔پہلے زیادہ تر تاریخ انگریزی میں لکھی جارہی تھی، سبالٹرن اسٹڈیزکے بعد یہ ہوا ہے کہ اب ہندی، بنگالی اور تامل میں بھی تاریخ لکھی جارہی ہے۔دلت پرجو لوگ لکھ رہے ہیں ان میں سے کچھ لوگ صرف ہندی میں لکھ رہے ہیں،اور ان کا بیک گرائونڈبھی انگریزی نہیں ہے۔پہلے یہ ہوتا تھاکہ اگر آپ انگریزی میں تاریخ نہیں لکھ سکتے تو پھر آپ کچھ نہیں لکھ سکتے، اب ایسا نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔