افغانستان کی بنیاد پر پاک امریکا کشیدگی

تنویر قیصر شاہد  پير 25 ستمبر 2017
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر نے جو نئی پالیسیاں وضع کی ہیں، اُن پر عملدرآمد بھی ہونے لگا ہے۔ پاکستان کے بارے میں امریکی انتظامیہ کا لہجہ بھی سخت ہوتا جا رہا ہے۔ایک طرف بھارت ہے اور دوسری جانب افغانستان۔ امریکی شہ اور ایما پر ہمارے دونوں مشرقی اور مغربی ہمسایوں کا رویہ پاکستان کے خلاف جارحانہ ہے (دو دن قبل یو این جنرل اسمبلی میں بھارتی اور افغان نمایندگان کے پاکستان کے خلاف بیانات تازہ واقعات ہیں) افغانستان کے معاملے میں امریکا، پاکستان کا سر جھکا کر اپنے ڈھب پر لانا چاہتا ہے۔ ڈیڑھ ہفتہ قبل’’فاٹا‘‘ میں امریکی ڈرون حملہ اِسی نہج پر امریکی اقدام ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کی مغربی سرحد پر یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔

یوں پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی بھی بڑھی ہے اور امریکا پر پاکستانی اعتماد کو بھی سخت دھچکا اور صدمہ پہنچا ہے۔پاکستان کی اس ناراضی ہی کا شائد شاخسانہ تھا کہ تازہ ڈرون حملے کے دو دن بعد جب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل پاکستان آئے تو ہمارے وزیر دفاع (خرم دستگیر خان) نے اُن سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔پاکستان پر حالیہ امریکی ڈرون حملے سے تین دن پہلے، 15ستمبر2017ء کو برطانیہ کے مشہور اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ میں امریکی دھمکیوں پر مشتمل کیٹرینا مانسن کی ایک مفصل رپورٹ شایع ہُوئی ۔

اس کا عنوان تھا US weighs dropping Pakistan as an allyاِس رپورٹ میں امریکی ذرایع سے خبر دی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا اتحادی درجہ ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔الزامات وہی پرانے دہرائے گئے ہیں کہ پاکستان میں 20کے قریب ’’دہشتگرد تنظیمیں‘‘ سر گرم ہیں اور ’’امریکا ایسے ملک کو اپنا اتحادی بنانے کا مزید رسک لے سکتا ہے نہ ہی پاکستان کو سویلین و فوجی امداد جاری رکھی جا نی چاہیے۔‘‘ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی پاکستان کی 26کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک چکی ہے، حالانکہ یہ پاکستان کا حق تھا۔ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاک امریکا کشیدگی مزید بڑھی تو ’’ورلڈ بینک‘‘ اور ’’آئی ایم ایف‘‘ سے قرضے لینے میں پاکستان کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صاف نظر آرہاہے کہ پاک امریکا تعلقات میں حالیہ کشیدگی کی تہہ میں مسئلہ افغانستان کارفرما ہے۔افغانستان میں گزشتہ سولہ برسوں کے دوران امریکی فوجیں اور تین ’’منتخب‘‘ افغان حکومتیں جس بُرے طریقے سے ناکام ہُوئی ہیں، امریکی اِن ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالتے ہیں۔ یہ سرا سر غلط فہمی بھی ہے، حقیقت سے فرار بھی اور امریکیوں کی دانستہ کذب بیانی بھی۔ امریکا مگر پاکستان پراس لیے بھی اپنی ناکامیوں اور نامرادیوں کا بوجھ ڈالنا چاہتا ہے کہ نئے حالات میں پاکستان نے، افغانستان کے حوالے سے، امریکی احکامات ماننے سے انکار کر دیاہے۔واقعہ یہ ہے کہ امریکیوں کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی عادت بھی پاکستانی حکمرانوں ہی نے ڈالی۔افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑتے ہُوئے پاکستان نے ہر شعبہ حیات میں اپنی ہی انگلیاں جلائی ہیں۔

خود پاکستان کے سرکاری ذمے داران جب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی کی جنگ لڑتے ہُوئے ایک سو ارب ڈالر اپنے (کمزور) خزانے سے پھونک ڈالے ہیں تو یہ بیانیہ آخر کس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے؟ امریکیوں کے کہنے پر سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں کُود کر پاکستان نے ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کیا تھا۔ افغان جنگ کی کھلم کھلا حمایت کرنے والوں نے تو امریکی دوستی نبھائی ہی مگر اب تو یہ بھی ثابت ہونے لگا ہے کہ پاکستان کے وہ گروہ اور جماعتیں جو بظاہر افغانستان میں ’’افغان جہاد‘‘ کی مخالف تھیں،بباطن وہ بھی امریکی مفادات کا تحفظ کررہی تھیں۔ بس اسلوبِ حمایت مختلف تھا۔ اِ س کا انکشاف ممتاز سیاستدان رسول بخش پلیجو نے اپنے تازہ انٹرویو میں کیا ہے۔

ستاسی سالہ بزرگ سیاستدان جناب پلیجو نے 17ستمبر 2017ء کو ’’ایکسپریس‘‘ کے سنڈے میگزین کو انٹرویو دیتے ہُوئے ایک جگہ یوں کہا: ’’افغان جنگ کے دوران مَیں عوامی نیشنل پارٹی(ولی خان صاحب کی جماعت، جو 80ء کے عشرے میں افغان جہاد کی سخت مخالف رہی) کا جنرل سیکریٹری تھا۔ اُنہی دنوں میرا افغانستان میں جانا ہُوا۔وہاں میری ملاقات افغان صدر، ڈاکٹر نجیب اللہ، سے ہُوئی۔ وہ مجھ سے بہت پُر تپاک انداز میں ملے۔ رسمی گفتگو کے بعد انھوں نے مجھ سے کہاکہ’اب ہم جنگ سے بیزار ہو چکے ہیں۔تم جا کر اپنی پارٹی سے کہو کہ کوئی ایسا طریقہ نکالے جس سے ہمیں لڑائی ترک کرنے کا بہانہ مل جائے۔ ہم خود سے ترک کریں گے تو خوار ہوں گے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم مّلاؤں اور اپنی قیادت سے کہو کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں جمہوریت قائم کرنے کا مطالبہ کریں۔تم (پاکستان) بھی بیزار ہو اور ہم بھی بیزار ہیں۔ اگر ہم جنگ بندی کے لیے تمہارے(پاکستان) پاس آئیں تو یہ ہماری بدنامی ہے اور تم آئے تو تمہاری بدنامی۔تم لوگ اپنی حکومت سے کہو کہ ہم مغربی یورپ کے کسی چھوٹے ملک میں بیٹھ کر بات کرکے جنگ بند کر دیتے ہیں۔‘‘ جناب رسول بخش پلیجو مزید کہتے ہیں: ’’روس سے واپس پاکستان آکرمَیں نے دوبارہ ولی خان سے یہ بات کہی۔ اِس بار بھی مگر انھوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ ‘‘

جہاندیدہ رسول بخش پلیجو صاحب کے اِس چشم کشا ذاتی تجربے کو بغور دیکھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ امریکا نے رُوس کے خلاف افغانستان میں اس لیے جہاد کا آغاز نہیں کروایا تھا کہ وہ افغانستان اور افغان عوام کی خیر خواہی کا متمنی تھا۔ نہیں، بلکہ اُس کے اپنے وسیع تر مفادات تھے جو پاکستان کے حکمرانوں اور افغان ’’مجاہدین‘‘ کی آنکھوں سے اوجھل اور پوشیدہ رہے۔نتیجے میں تباہی ہم دونوں کے حصے میں آئی۔امریکا سولہ سال قبل خود بھی براہ راست جب افغانستان پر حملہ آور ہُوا تو اس کا مقصد قطعی یہ نہیں تھا کہ وہ افغان عوام کو ’’بنیاد پرست طالبان کی آہنی گرفت‘‘ سے نجات دلانے آیا تھا۔ نہیں، بلکہ یہ حملہ بھی اِس خطے میں اُس کے وسیع تر مفادات اور عالمی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ امریکا اب بھی افغانستان سے ہر گز نہیں نکلنا چاہتا، نہ ہی وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے اور نہ ہی وہ جنگجو افغان طالبان کے خاتمے میں دلچسپی رکھتاہے۔ بہانے کی خاطر وہ دہشتگرد تنظیموں کے نام پر محض پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر افغانستان میں اپنے قیام کو طول دے رہا ہے۔

اِسی غرض سے امریکی فوجوں نے 6 ستمبر2017ء کو افغان صوبے (پروان)میں جہازوں کے ذریعے ایسے پمفلٹ گرائے جو سخت توہین آمیز بھی تھے اور اسلام دشمنی پر مبنی بھی۔ تمام امریکی اور مغربی میڈیا نے اِس گندی حرکت پر امریکی فوجوں کی مذمت کی ہے۔ اورجب امریکی فوجیوں کے خلاف افغانستان بھر میں افغان عوام اور افغان طالبان کااشتعال اور غصہ پھیلنے لگا تو افغانستان میں متعین امریکی جنرل(میجر جنرل جیمز لِنڈر) نے معافی مانگ لی۔ یہ صورتحال نہایت خطرناک اور سنگین ہے۔ پاکستان کو بڑی حکمت، تحمل اور تدبّر سے قدم اُٹھانا ہوں گے۔ ہماری سویلین اور عسکری قیادت کو نہایت احتیاط سے وہ فیصلے کرنا ہوں گے جن کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی مزید آگے نہ بڑھ سکے۔

پاکستان کسی بھی شکل میں امریکا سے تصادم اختیار کرکے فائدے میں نہیں رہے گا کہ ہماری معیشت بھی کمزور ہے اور عالمی سطح پر ہماری سفارتکاری بھی۔ پاکستان کی طرف سے امریکیوں کو یہ بھی باور کروانے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں اگر حالات درست نہیں ہورہے تو اس کا ایک سبب افغانستان میں بھارتی مداخلت ہے۔ شائد اِسی پس منظر میں وزیراعظم عباسی صاحب نے 20 ستمبر2017ء کو ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مارک لینڈلر کو انٹرویو دیتے ہُوئے بجا کہا ہے کہ ’’افغانستان میں (مزید ) بھارتی مداخلت صورتحال کو (مزید)گھمبیر کرنے کا سبب بنے گی۔‘‘ اور یہ کہ ’’پاک،افغان بارڈر کو مینج کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ کاش، شاہد خاقان عباسی صاحب ہی کی بات امریکیوں کے دل میں اُتر جائے!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔