10 فیصد آبادی ذیابیطس اور تھائیرائیڈ میں مبتلاہے، ماہرین

اسٹاف رپورٹر  اتوار 24 فروری 2013
زندہ رہنے کے لیے کھانا کھایا جائے،ڈائو یونیورسٹی میںطبی آگاہی سیمینار کا انعقاد. فوٹو : فائل

زندہ رہنے کے لیے کھانا کھایا جائے،ڈائو یونیورسٹی میںطبی آگاہی سیمینار کا انعقاد. فوٹو : فائل

کراچی: پاکستان میں ذیابیطس کا مرض سرفہرست جبکہ تھائیرائیڈ دوسرے نمبر پر ہے اور یہ دونوں بیماریاں ملک میں عام ہیں۔

آبادی کا تقریباً 5سے 10فیصد حصہ اس بیماری میں مبتلا ہے، یہ بیماریاں مرد اورخواتین دونوں میں پائی جاتی ہیں، جب تک عوام میں مختلف بیماریوں سے بچائو کے لیے آگاہی نہیں ہوگی مرض میں اضافہ ہوتا رہے گا، ڈائو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں بیماریوں کا علاج جاری ہے، ان خیالات کا اظہارماہرین نے ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ذیابیطس اینڈ اینڈ وکروئنالوجی کے تحت ہونیوالے تھائیرائیڈ، شوگر اور موٹاپے سے بچائوکے موضوع پر منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ تھائیرائیڈ ایک ایسی بیماری ہے جس کے بروقت علاج سے اس سے بچاجاسکتا ہے، تھائیرائیڈکاعلاج دوائی اور آپریشن دونوں سے کیا جاسکتا ہے، لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی اشد ضرورت ہے اور اس بیماری میں ڈاکٹروںکے مشورے پرعمل کرنابہت ضروری ہے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ذیابیطس اینڈ اینڈوکرائنالوجی اورہارمونل ڈیزیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ نے کہا کہ تھائی رائیڈکی بیماری ہارمونل ڈیزیزہے جس کی وجہ سے گلے میں سوجن، چہرہ بگڑ جانا، سرکے بال جھڑجانا، بانچھ پن کاشکارہونا سمیت دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیںجبکہ شوگراورموٹاپا بھی ایسی بیماری میں مبتلاکردیتاہے جس کی وجہ سے مرد و خواتین مختلف مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

 

6

انھوںنے کہا کہ تھائیرائیڈ کے مرض سے آنکھیں موٹی ہوجاتی ہیں کھلنے کے بعد بند نہیں ہوتیں اور اندھا پند ہونا کا امکان بڑھ جاتاہے، دنیا بھر میں تھائیرائیڈ کی بیماری میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے جس میں چھوٹی عمر کی لڑکیوں میں ابتدائی10سال سے قبل جسمانی تبدیلی ہونا، بچوں کا قد نہ بڑھنا سمیت دیگر شامل ہیں جس کا علاج انتہائی مہنگا ہے لیکن ابتدائی علامات میں طبی ماہرین سے مشورہ کرنے سے خرچہ کم ہوتاہے، ڈائو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں اس طرح کی اور دیگر بیماریوں کا علاج جاری ہے، یونیورسٹی نے چند سال میں مختلف شعبہ جات قائم کرکے بیماریوں کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام صحت مند رہیں جن کو کم فیس میں علاج و معالجہ فراہم کیا جارہاہے۔

ڈائو انٹرنیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مسرور احمد نے کہا کہ تھائیرائیڈ، شوگر اور موٹاپا سمیت دیگر بیماریوں کے جنم لینے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اور ان کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے لہٰذا ایسی صورت میں فوری ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے، ڈاکٹر مدیحہ احمد نے موٹاپے کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موٹاپے کے مریضوں میں اضافہ ہورہاہے جس کی ابتدائی علامات میں مرد کی کمر35انچ اور خاتون کی کمر31انچ سے زائد ہے تو یہ خطرناک ہے اور موٹاپے کی طرف گامزن ہونے کا اشارہ ہے، ایسی صورت میں فوری علاج کرایاجائے۔

انھوں نے کہا کہ موٹاپے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، دل کی تکلیف، خون کے امراض،کینسر، فالج، دمہ جوڑ وں کے امراض سمیت دیگر امراض بھی ہوسکتے ہیں، جن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تازہ سبزیوں کا استعمال کریں اور روزانہ 15سے 30منٹ تک ورزش جاری رکھیں، انھوں نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ کھانے کے لیے زندہ رہنے کے بجائے زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائیں تاکہ مختلف بیماریوں سے بچ سکیں، اس موقع پر ڈاکٹر عبدالماجد، پروفیسر شفیق الرحمٰن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔