ناقص کارکردگی: خفیہ ایجنسیوں کے300 اہلکار تبدیل کرنیکا فیصلہ

ایکسپریس ڈیسک  اتوار 24 فروری 2013
جن اہلکاروں کو تبدیل کیا جارہا ہے ان کی اکثریت ان دنوں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تعینات ہے. فوٹو: اے ایف پی

جن اہلکاروں کو تبدیل کیا جارہا ہے ان کی اکثریت ان دنوں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تعینات ہے. فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات خفیہ اداروں کے تین سو کے لگ بھگ اہلکاروں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ ملک میں حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے بارے میں قبل از وقت معلومات اکھٹی نہ کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے پر ہوا ہے۔جن اہلکاروں کو تبدیل کیا جارہا ہے ان کی اکثریت ان دنوں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تعینات ہے۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے بعد خفیہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کیبنٹ ڈویڑن کے حکام پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔جن خفیہ اداروں میں تبدیلیاں کی جائیں گی ان میں انٹیلیجنس بیورو، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے خفیہ یونٹ اور سپیشل انویسٹیگیشن گروپ شامل ہے۔

تاہم ان تبدیلیوں کا اثر آئی ایس آئی پر نہیں ہوگا جو بظاہر وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔جن اہلکاروں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اْن میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے لے کر اسسٹنٹ سب انسپکٹر عہدے تک کے اہلکار شامل ہیں۔ ان افسران کے بین الصوبائی تبادلے کیے جائیں گے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں اتنی بڑی تعداد میں کبھی بھی خفیہ اداروں کے حکام اور اہلکاروں کی تبدیلی کا فیصلہ کبھی نہیں ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔