برا نہ ہونا بھی نیکی ہے

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 30 ستمبر 2017

تانگ عہد کا ایک چینی وزیراعظم بادشاہوں کی برائیاں یوں گنواتا ہے۔ جیتنے کی ترجیح، اپنی غلطیوں کا سن کر غصے میں آجانا، اپنے اختیار میں اضافہ اور اپنی مضبوط خواہش پر قابو پانے میں ناکامی۔ وہ بتاتا ہے کہ جب انھیں یہ جراثیم لگ جائیں تو پھر وہ لوگوں کی باتوں پر کان دھرنا بند کردیتے ہیں اور انتشار وافراتفری کے بیج پنپنا شروع کردیتے ہیں۔

یہ عقیدہ بہت قدیم زمانوں سے چلا آتا ہے کہ سیاست کے پیشے کا انتخاب کرنے والے افراد ان عہدوں کے لیے ناموزوں ہوتے ہیں کہ جن کے حصول کی انھیں جستجو ہوتی ہے۔ افلاطون کی جمہوریہ میں سقراط کہتا ہے کہ یہ بات بڑی سیدھی سادی ہے کہ ان افراد میں کہ جو اقتدار حاصل کرنے کے سب سے زیادہ خواہاں ہوتے ہیں، اس پر فائز رہنے کی صلاحیتیں ہونے کے امکانات سب سے کم ہوتے ہیں۔

اچھے لوگ پیسے یا عزت کی خاطر حکومت میں آنے کا نہیں سوچتے۔ وہ کہتا ہے، وہ حکمرانی کے بارے میں نہیں سوچتے کہ یہ کوئی اچھی چیز ہے یا اس میں کوئی مزا آتا ہے بلکہ وہ حکومت میں آنے کو محض ایک مجبوری خیال کرتے ہیں، کیونکہ اسے ان سے کسی بہتر یا ان جیسے ہی کسی اور شخص کو سونپنا ممکن نہیں۔ اچھے لوگوں کے شہر میں اگر یہ کبھی معرض وجود میں آتا ہے شہری آپس میں اس بات پر لڑا کریں گے کہ مجھے حکومت نہیں کرنی، عین اسی طرح کہ جیسے وہ آج کل حکومت کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص جو واقعی ایک سچا لیڈر ہوتا ہے فطری طور پر اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنی رعایا کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے اور ہر وہ شخص جسے اس بات کا شعور ہے وہ چاہے گا کہ وہ دوسروں سے مستفید ہو بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی مصیبت میں پڑا رہے۔ دوسرے لفظوں میں حکمرانی ایک ایسا بوجھ ہے جو اچھے لوگوں پر لادا جاتا ہے اور جسے برے لوگوں کے عزائم سے بچایا جاتا ہے۔

عموماً ہوتا یہ ہے کہ بہت سے سیاست دانوں کی نفسیات اچھی حکمرانی کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ بعض سیاست دانوں کی طرف دیکھ کر تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی تگ و دو کے پیچھے صرف وہ مجنونانہ مسرت کارفرما ہے جو وہ مسند اقتدار پر بیٹھ کر محسوس کرتے ہیں۔ بعض لوگ لگتا ہے کہ بچپن کی کسی محرومی کو پورا کرنے کے لیے لیڈر بنتے ہیں۔

بہت سے لیڈر ایسے ہوتے ہیں جن کی والدہ یا والد ان کے بچپن میں ہی فوت ہوگئے ہوتے ہیں اور وہ اپنے سیاسی کیریئر میں محبت اور پہچان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، بعض نامساعد حالات کی وجہ سے لیڈر بنتے ہیں، بعض اشخاص ایسے بھی اس میدان میں آٹپکتے ہیں کہ بظاہر جن میں قیادت کی کوئی قابلیت یا خوبی دکھائی نہیں دے رہی ہوتی۔ اقتدار کے متلاشیوں میں سے کون اس کے قابل ہوتا ہے اور کون نہیں، اس کا اندازہ افلاطون کی جمہوریہ میں مذکورہ جائجیز کی انگوٹھی والی کہانی سے بھی ہوتا ہے۔ اس انگوٹھی کا کمال یہ تھا کہ اسے پہن کر کوئی جب چاہے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوسکتا تھا۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ طلسم یا اقتدار سے وابستہ تحریصات سے بچ نکلنا کسی شخص کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔

کنفیوشس کا کہنا ہے کہ حکمرانی کا مطلب خود کو ٹھیک راستے پر چلانا ہے، کیونکہ اگر آپ خود میں درستی پیدا کرکے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہو تو پھر کس کی مجال ہے کہ وہ خود کو درست نہ کرے۔ کنفیوشس کے نظریات نے اس کے بعد کے زمانوں میں حکمرانوں کے کردار پر بہت زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ قدیم دنیا میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ لیڈروں کو راہ راست پر رکھنے کے معاملے میں ان کی شخصی خوبیاں بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں جتنے کہ قوانین اور ڈھانچے۔ افلاطون نے جمہوریہ، کوٹلیہ نے ارتھ شاستر اور کنفیوشس نے اپنے اقوال میں ان خوبیوں کو کسی نظام میں لانے اور یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ لیڈروں کو اخلاقیات کیسے سیکھنی چاہیے، اچھے قوانین کے ساتھ داخلی ضبط بھی ضروری ہے۔

کوٹلیہ لکھتا ہے کہ صرف قانون کے مطابق چلنے والی حکومت ہی زندگی کے تحفظ اور لوگوں کی بہتری کی ضمانت دے سکتی ہے، لیکن ایسی حکومت کا دارومدار بھی بادشاہ کے ضبط نفس پر ہوتا ہے۔ یہ ضبط نفس دو طرح کا ہوتا ہے، خلقی اور اختیار کردہ۔ خود پر قابو، جو کہ علم اور ضبط کی بنیاد ہے، ہوس، غصے، لالچ، گھمنڈ، غرور اور حماقت سے چھٹکارا پاکر حاصل کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں لیڈروں کو خود میں اچھے خصائل کوشش کرکے پیدا کرنے چاہئیں۔

جدید مغرب میں لیڈروں کی اخلاقیات کے بارے میں بہترین بات میکس ویبر کے ان خطبات میں ملتی ہے جو انھوں نے 1918-19 میں جنگ کے بعد کی افسردہ سردیوں میں دیے تھے اور جو بعد میں Politiks als Beruf کے عنوان سے کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ ان خطبات میں ویبر نے سیاست دانوں کی تین اہم خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے پہلی خوبی نصب العین کے لیے حب اور وفا، دوسری اس نصب العین کے معاملے میں احساس ذمے داری اور تیسری اشیا و افراد سے غیر وابستگی کے معاملے میں تناسب کا خیال ہے۔

جو معاشرہ اخلاق سے عاری ہوتا ہے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ یاد رہے تاریخ کی ساری ناکامیاں اخلاقی ناکامیاں تھیں۔ بیسویں صدی کے شروع میں امریکا بدترین بحران کا شکار تھا، پورے ملک کی دولت تین ماہ میں برباد ہوگئی، پیداوار میں 77 فیصد کمی آگئی، ایک چوتھائی لیبر فورس بے روزگار ہوگئی، کئی شہروں میں اسکول بند کردیے گئے۔ نیویارک کا یہ حال تھا کہ اکثر اسکولوں میں بچوں کو موزوں خوراک نہیں دی جاسکتی تھی۔

ایک وقت ایسا آیا کہ ساڑھے تین کروڑ افراد کسی بھی قسم کی آمدنی سے محروم تھے۔ اس بدترین بحران میں بھی صدر روز ویلٹ اپنے ریڈیو پر نشر ہونے والے خطاب میں کہہ رہے تھے کہ خدا کا شکر ہے ہماری مشکلات صرف مادی ہیں، اخلاقی نہیں۔ جب کہ ہماری ساری مشکلات ہمیشہ اخلاقی رہی ہیں۔ ہم 70 سال کے دوران اپنے اکثریتی سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اخلاقی اقدار سے محرومی کی وجہ سے بدترین بحرانوں کا شکار ہوئے ہیں۔

تانگ عہد کے چینی وزیراعظم نے بادشاہوں کی جو برائیاں گنوائی ہیں بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں میں وہ ساری کی ساری برائیاں جوں کی توں موجود ہیں۔ ہم قائداعظم کے بعد اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کے کردار پر نظر دوڑائیں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ان کی اکثریت احساس محرومی کا شکار نظر آتی ہے، جو صرف اپنا احساس محرومی دور کرنے کے لیے، صرف طاقت حاصل کرنے اور اپنے عیش و عشرت کی خاطر سازشیں کرکے اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچے۔ انھیں نہ تو ملک کی کوئی پرواہ تھی اور نہ ہی عوام کی اور نہ ہی ان کا اخلاقیات سے دور دور تک کا کوئی واسطہ تھا۔ آج جب ہم اپنے چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ماضی کے شرمناک کردار آج پھر زندہ ہوگئے ہیں۔

قسمت کردار سے بنتی ہے، لگتا ہے شکسپیئر نے ہمارے انھی اکثریتی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لیے کہا تھا کہ اپنے خیالات کو اپنا جیل خانہ مت بناؤ۔ جب کہ جون مارلے نے کہا ہے کوئی انسان اپنے کردار کی حدود سے زیادہ اونچی پرواز نہیں کرسکتا۔ لیکن بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ آئیں ہم سب اپنے اپنے بند ذہنوں اور دلوں کے دریچے کھول دیں۔ کیونکہ گوئٹے نے کہا کہ اچھے خیالات بے باک بچوں کی طرح اچانک اور یکایک سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں اور چلا چلا کر کہنے لگتے ہیں ہم یہاں ہیں، ہم یہاں ہیں۔ اچھے خیالات ہمارے سامنے آکر چلا چلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ ہمارے حکمران انھیں اپنے دل اور دما غ میں رہنے کے لیے مستقل جگہ دے دیں، پھر دیکھیں ہمارے سیاستدان، ہمارے حکمران اور ہمارے عوام کس طرح خوشی، مسرت اور سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیونکہ برا نہ ہونا بھی نیکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔