اربوں روپے کے قرضوں کی معافی

ایڈیٹوریل  اتوار 24 فروری 2013
قرض معافی کے 740 کیسز میں سے سیاستدانوں یا سول ملٹری بیوروکریٹس کے نام تھے۔ فوٹو: فائل

قرض معافی کے 740 کیسز میں سے سیاستدانوں یا سول ملٹری بیوروکریٹس کے نام تھے۔ فوٹو: فائل

1971ء سے 2009ء تک یعنی تقریباً 38 سال کے دوران بینکوں سے لیے گئے قرضے معاف کرانے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے جانے والے کمیشن نے دو ہزار دو سو صفحات پر مشتمل جو ضخیم رپورٹ تین جلدوں میں شایع کی ہے ‘اس کے مطابق گزشتہ چار دہائیوں میں معاف کرائے جانے والے قرضوں کی مجموعی مالیت 87 ارب روپے سے زائد ہے۔ اس میں 84.621 ارب روپے کے قرضے 1991ء سے 2009 ء کے دوران معاف کرائے گئے جب کہ 1971ء سے 1991ء تک معاف کرائے گئے قرضوں کی مالیت صرف 2.3 ارب روپے تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے 18,20برسوں میں پاکستان میں ارب پتیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب کچھ قرضے معاف کرانے کے چکر میں ہوا ہے۔ سیاست دانوں کی طرف سے قرضہ جات کو ری شیڈول کرانے کے حوالے سے کمیشن نے کہا ہے کہ 740 مقدمات کا جائزہ لیا گیا لیکن معاف کیے جانے والے قرضوں کے بارے میں مفصل اطلاعات فراہم نہیں کی گئی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اعدادوشمار پیش کرنے والے ادارے خوفزدہ ہیں۔یہ یقینی طور پر درست بات ہے‘ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے بھاری قرضے لیے ہیں وہ یقینی طور پر با اثر ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق 740 کیسز میں سے بہت تھوڑے معروف سیاستدانوں یا سول ملٹری بیوروکریٹس کے نام تھے۔

ان افراد کے ناموں کو اخفا میں رکھنے کا بڑا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ قرضے معاف کرانے والے بھی نادہندگان کے زمرے میں شامل ہو جائیں گے اور یوں آئین کے آرٹیکل 63 کے مطابق انتخاب لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ جہاں تک سیاستدانوں کے دوست احباب اور حامیوں کا تعلق ہے تو ان کے قرضے  بینکوں نے سیاسی دبائو کے باعث معاف کیے ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں چھوڑے گئے یا انھیں ابتدائی مرحلے میں ہی ضایع کر دیا گیا تھا۔ رپورٹ میںبا اثر گروپوں کے دبائو کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بالعموم با اثر افراد قرضے معاف کرانے کے بجائے انھیں ری شیڈول کرا لیتے ہیں۔

اس طرح چونکہ بینک کا منافع بڑھ جاتا ہے لہٰذا مالیاتی ادارے کو کوئی دقت نہیں ہوتی اور نہ ہی قرض دار کے نادہندہ ہونے کا کوئی خطرہ رہتا ہے۔ جہاں تک کاروبار یا صنعت و حرفت کے لیے قرضہ حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ بینکاری کے بنیادی مقاصد میں آتا ہے۔ایک فریق قرض لے کر کوئی کاروبار شروع کرتا ہے تو وہ دوسرے فریق کو اپنا قرضہ بھی واپس کرتا ہے اور اسے مارک اپ کی صورت میں منافع بھی دیتا ہے۔اس طریقے سے ہی بینکاری نظام چلتا ہے۔ اس لیے کاروباری مقاصد کے لیے قرض لینا کوئی بری بات نہیں‘ پوری دنیا میں پریکٹس جاری ہے لیکن محض سیاسی یا سرکاری اثرورسوخ کے ذریعے قرضہ حاصل کر کے اسے غیر پیداواری مد میں صرف کر دینے سے ظاہر ہے کہ اس قرضے کی واپسی ممکن نہیں رہتی ۔

یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کا تدارک ابتدائی مراحل میں ہی ہو سکتا ہے بعدازاں قرض دار کے ساتھ قرض خواہ کو بھی ذمے دار گردانا جاتا ہے۔پاکستان میں قرضے ڈوبنے کی یہی وجہ ہے کہ انھیں صحیح مد میں خرچ ہی نہیں کیا گیا۔یوں دیکھا جائے تو سیاسی بنیادوں پر جاری ہونے والے قرضوں کی جانچ پڑتال ضرور ہونی چاہیے۔ کمیشن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈوبنے والے قرضوں کی بڑی مقدار محض اوپر سے آنے والے زبانی احکامات پر جاری کی گئی جن کے لیے بنیادی دستاویز بھی داخل نہیں کرائی گئی تھیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق قرضہ معافی کے 740 مقدمات کی تحقیقات کی گئیں جن میں سنگین بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔

کمیشن نے قرضوں کی معافی کے لیے چار سفارشات دی ہیں اول یہ کہ جنہیں قرضہ دیا گیا ان سے صرف اصل زر وصول کیا جائے، دوسرا کہ پھر اصل رقم اور جمع شدہ رقم کا فرق وصول کر لیا جائے، تیسرا کہ قرضوں کی معافی کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج پر مشتمل ٹریبونل بنائے جائیں، چوتھا یہ کہ قرضوں کی معافی کے لیے نئی قانون سازی کی جائے تا کہ قومی خزانے کو پہنچائے گئے نقصان کی تلافی ہو سکے اور قرضہ معاف کرانے والوں کو سزا دی جا سکے۔اس رپورٹ سے بہت سے حقائق آشکار ہو گئے‘ اصولی طور پر تو قرضے کی معافی نہیں ہونی چاہیے‘ البتہ نادہندہ کو مناسب وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ قرضہ لوٹا سکے۔ بہر حال کاروباری دنیا میں قرض لینا اور واپس کرنا لازم و ملزوم ہیں‘ اس رپورٹ کی اشاعت سے اس معاملے میں موجود ابہام دور ہو گیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔