چینی خواتین پلاسٹک سرجری کے بعد کوریا کے ایئرپورٹ پر پھنس گئیں

ویب ڈیسک  منگل 10 اکتوبر 2017
جنوبی کوریا میں آپریشن سے چہرے مکمل تبدیل کروانے کے بعد ایئرپورٹ حکام نے انہیں روک لیا۔  فوٹو: ڈیلی میل

جنوبی کوریا میں آپریشن سے چہرے مکمل تبدیل کروانے کے بعد ایئرپورٹ حکام نے انہیں روک لیا۔ فوٹو: ڈیلی میل

بیجنگ: جنوبی کوریا میں پلاسٹک سرجری کرانے کے بعد تین چینی خواتین کی شکل اتنی بدل گئی کہ جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر انہیں روک لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کے مطابق 3 چینی خواتین جنوبی کوریا میں پلاسٹک سرجری کی غرض سے آئیں اور جب وہ آپریشن کے بعد دوبارہ لوٹنے لگیں تو ان کی شکلیں پاسپورٹ تصاویر سے یکسر مختلف نکلیں اور اسی بنیاد پر انہیں ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔  ۔

جنوبی کوریا میں چہرے کی پلاسٹک سرجری بہت اعلیٰ اور مناسب قیمت پر ہوتی ہے اسی وجہ سے چینی، جاپانی اور دیگر ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد ہر سال جنوبی کوریا میں پلاسٹک سرجری کے لیے آتے ہیں ۔ اس رحجان کو پلاسٹک سرجری سیاحت کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ناک ستواں کروانے، چہرے کو بہتر بنانے اور بوٹوکس انجیکشن لگوانے کے بعد چہرے اتنے تبدیل ہوجاتے ہیں کہ اکثر سیاحوں کو ان کے ملک واپس جاتے ہوئے ایئرپورٹ پر روک لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حالیہ صورت پاسپورٹ تصویر سے یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔

اس مسئلے کے بعد پلاسٹک سرجری کلینک بیرونِ ملک افراد کو باقاعدہ ایک سرٹیفکیٹ بھی جاری کرتے ہیں تاکہ امیگریشن کے دوران  افسران کی تسلی ہوسکے۔ سرٹیفکیٹ میں ان کے پاسپورٹ نمبر نام اوراہسپتال کی مہر وغیرہ لگائی جاتی ہیں۔ لیکن تین چینی خواتین کا چہرہ اتنا بدل چکا تھا کہ وہ کسی بھی طرح پاسپورٹ تصویر سے مشابہہ نہیں تھا۔

جب یہ خواتین ایئرپورٹ پہنچی تو ان کے منہ پر پٹیاں بندھی تھی اور چہرے سوجے ہوئے تھے۔ امیگریشن حکام نے ان کی تصویر سے انہیں پہچاننے کی لاکھ کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اب ان جنوبی کوریا ایئرپورٹ پر ان خواتین کو تصاویر تیزی سے شیئر ہورہی ہیں اور لوگ ان پر دلچسپ تبصرے کررہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا کے اسپتالوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سرجری کرانے والے افراد  مزید کچھ دن ان کے ملک میں قیام کریں اور چہرہ نارمل ہونے کے بعد ہی وہاں سے اپنے ملک کا رختِ سفر باندھیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔