پاکستان میں آکیوپیشنل تھراپی کی اہمیت

فرزانہ اشفاق  جمعرات 12 اکتوبر 2017
آکیوپیشنل تھراپی کے ذریعے کئی اقسام کی معذوری میں مبتلا مریضوں کی زندگی بہتر بناکر انہیں خودمختار بنایا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

آکیوپیشنل تھراپی کے ذریعے کئی اقسام کی معذوری میں مبتلا مریضوں کی زندگی بہتر بناکر انہیں خودمختار بنایا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

یہ معین صاحب کی کہانی ہے۔

60 سالہ معین صاحب کو جب ہسپتال لایا گیا تو بلڈ پریشر حد سے بڑھ جانے پر وہ بے ہوش تھے۔ دماغی رگ متاثر ہونے سے ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ وہ کئی روز ہسپتال کے بستر پر رہے جہاں ان کی فزیوتھراپی بھی شروع کردی گئی۔ ایک ماہ کے طویل عرصے بعد انہیں گھر منتقل کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں دیکھنے والے عزیزوں کی آمد کم ہوتی گئی یہاں تک کہ خود اہلِ خانہ بھی ان سے کترانے لگے۔ اب معین صاحب بستر پر بے بس پڑے اسی انتظار میں رہے کہ کوئی بیٹا ان کا منہ دھلادے یا کوئی بیٹی کھانا پیش کردے۔ یا بہت دن ہوئے کوئی انہیں نہلادے۔ اس نفسانفسی میں کون تھا جو معین صاحب کی مددکرتا؟

اب ہر روز معین صاحب خود کو بے بس و لاچار محسوس کرنے لگے اور مایوسیوں نے انہیں گھیرلیا۔ لیکن اس مایوس کن بے بسی سے انہیں نکالنے والا کوئی نہ تھا۔ اسی طرح گزرتے دن ہفتوں میں تبدیل ہوئے اور پھر مہینوں میں اور پھر ایک سال بیت گیا۔ یہاں تک کہ دو سال گزرگئے اور معین صاحب کی بے بسی و مجبوری بڑھتی چلی گئی۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہوا؟ اور کیا اس کا کوئی حل موجود نہیں؟ کیا وہ پھر سے اپنے روزمرہ کام انجام نہیں دے سکتے؟

یقیناً اس کا حل موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فالج کے شکار معین صاحب دوبارہ اپنے معمولات انجام دے سکیں اور اس کا مؤثر حل ’’آکیوپیشنل تھراپی‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

اگر معین صاحب جیسے مریضوں کو ایک سال کے دوران کسی تجربہ کار آکیوپیشنل تھراپسٹ کے پاس لایا جائے تو یقیناً ان کی مایوسی کو امید میں بدلا جاسکتا ہے۔

آکیوپیشنل تھراپی کیا ہے؟

آکیوپیشنل تھراپی کے ذریعے کسی مرض یا حادثے میں معذور یا جزوی طورپر اپنے امور انجام دینے میں دقت کا سامنا کرنے والے مریضوں کی اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کام کرسکیں۔ بسا اوقات کسی جسمانی و نفسیاتی صدمے سے بھی مریض چلنے پھرنے، ہاتھوں میں لرزش یا بازو مکمل طور پر اٹھانے میں دقت محسوس کرتے ہیں اور کھانے پینے، کپڑے بدلنے اورغسل و صفائی تک کےلیے دوسروں کے محتاج ہوکر رہ جاتے ہیں۔ آکیوپیشنل تھراپی کئی طرح سے انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے یہ ذاتی کام خود کرسکیں۔

اس اہم مسئلے کو دور کرنے کےلیے کراچی میں واقع ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں آکیوپیشنل تھراپی کا ایک مؤثر ادارہ قائم کیا گیا ہے جو شعبہ فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کے تحت کام کررہا ہے۔ یہاں موجود عملہ اور طلبہ و طالبات ایسے مریضوں کی مدد کرتے ہیں جو حادثے، فالج، سیریبرل پالسی، ذہنی پسماندگی (مینٹل ریٹارڈیشن)، ڈپریشن، شیزوفرینیا اور دیگر امراض کی وجہ سے اپنے معمولات زندگی انجام دینے کےلیے دوسروں کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے ہونہار طالب علموں نے مریضوں کےلیے خصوصی معاون آلات اور اشیا انتہائی کم خرچ میں تیار کیے ہیں۔ بیرونِ ملک یہ آلات بہت مہنگے ہیں جن میں سے بعض میں جدت پیدا کرکے انہیں مقامی طور پر بنایا گیا ہے یا پھر ریورس انجینیئرنگ کے ذریعے ان کی کم خرچ لیکن یکساں طور پر کارآمد پاکستانی نقول بنائی گئی ہیں۔

ڈی یو ایچ ایس کے شعبہ فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں فزیوتھراپی کا شعبہ بھی قائم ہے جہاں ورزش اور مشقوں کے ذریعے معین صاحب جیسے ان گنت مریضوں کے پٹھوں اور عضلات کو دوبارہ قوت فراہم کی جاتی ہے اور وہ دھیرے دھیرے اپنے معمولات کی جانب لوٹنے لگتے ہیں۔

آکیوپیشنل تھراپی کا یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جہاں کے طالب علم خاص آلات یا ’’ایڈاپٹیو ڈیوائسز‘‘ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں اور انہیں پاکستانی آبادی کے لحاظ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اب اس کی بعض مثالیں نوٹ کیجئے:

ہاتھ میں شدید رعشہ محسوس کرنے والے مریض چمچہ منہ تک نہیں لے جاسکتے۔ اس کے لیے سیدھے چمچوں کی بجائے ایسے چمچے بنائے گئے جن کے دستے گول اور آرام دہ ہوتے ہیں جبکہ کھانا رکھنے والا اگلا حصہ خاص زاویے پر موڑا جاتا ہے۔

اسی طرح لمبے ہینڈل والے خمیدہ برش غسل اور صفائی کے لیے تیار کیے گئے ہیں جو مریض کی گرفت میں آسانی سے آتے ہیں اور مریض انہیں اچھی طرح استعمال کرسکتا ہے۔

اسی ادارے میں مسکولر ڈسٹروفی کے مریضوں کو توانائی بچانے اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے کئے طریقے سکھائے جاتےہیں اور تیزی سے بڑھنے والے مرض کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پورے پاکستان میں مریض کے لحاظ سے گھر میں بنیادی تبدیلی کرنے والا یہ واحد ادارہ ہے جو ’’ہوم موڈیفکیشن‘‘ کے ذریعے مریض کے گھر جاکر اس کی مختلف جگہوں پر رسائی کو دیکھتے ہوئے گھر میں تبدیلی کی سفارش کرتا ہے تاکہ مریض آرام سے اپنے معمولات انجام دے سکے اور کسی ناخوشگوار حادثے سے بھی بچا جاسکے۔ اس کے علاوہ مریض کے لیے بیت الخلا اور غسل خانے تک جانے کےلیے درست سہولیات اور رسائی اس کے عین موافق بنائی جاتی ہے۔

اس سب کے علاوہ مختلف تکنیکوں کے ذریعے مریض کے ذہن کو ڈھالنے اور مسائل سے توجہ ہٹانے پر کام کیا جاتا ہے۔

آکیوپشنل تھراپی کی اہمیت پر یہ پہلا بلاگ ہے۔ اگلے بلاگ میں پاکستان میں اوکیوپیشنل تھراپی کی تاریخ اور دیگر پہلو پر بات کی جائے گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

فرزانہ اشفاق

فرزانہ اشفاق

ڈاکٹر فرزانہ اشفاق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن میں سینئر لیکچرار اور آکیوپیشنل تھراپسٹ ہیں۔ ملک میں اس علم کے ذریعے مریضوں کی بحالی اور قابل طلبا وطالبات کی تربیت ان کی زندگی کے اہم اہداف ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔