پاکستان کی پکار؛ کوئی سن رہا ہے؟

امجد طفیل بھٹی  جمعرات 12 اکتوبر 2017
اس وقت پاکستان کو ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو اس کا کھویا ہوا مقام اسے واپس دلائے اور یہاں کے غریب عوام کی زندگیوں میں آسانی کا سبب بنے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس وقت پاکستان کو ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو اس کا کھویا ہوا مقام اسے واپس دلائے اور یہاں کے غریب عوام کی زندگیوں میں آسانی کا سبب بنے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کبھی ہمارے ملک پاکستان کے کرتا دھرتا لوگوں نے یہ سوچا کہ آج اگر وہ پاکستان میں شہنشاہوں والی زندگی جی رہے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ صرف اور صرف ’’پاکستان‘‘ ہی ہے، کیونکہ پاکستان کی بدولت ہی وہ عہدوں اور سہولیات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کیوں نہ آج ایسے لوگوں کو یاد دلایا جائے اور دعوت دی جائے کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا، اللہ کے کرم سے پاکستان قائم و دائم ہے۔ آئیے سب مل کر، خدمت کے جذبے سے قدم بڑھائیں۔ سازشیں، نفرتیں، دوریاں، دشمنیاں، مخالفتیں، اور سب سے بڑھ کر ذاتی مفادات کو ایک جانب رکھ کر اپنے ملک کے تحفظ اور بقا کی فکر کریں۔ نجانے ہماری دھرتی ہمیں دن میں کتنی بار پکارتی ہوگی کہ سب اپنی اپنی فکر میں ڈوبے ہوئے ہو! کچھ میرا بھی سوچ لو۔

لیکن ہمارے ملک کا ’’اشرافیہ‘‘ آنکھیں بند کرکے عیش و عشرت میں ایسا ڈوبا ہوا ہے کہ اسے نہ تو ملک کی ڈوبتی معیشت کی فکر ہے اور نہ ہی غریب اور پِسے ہوئے عوام کا کوئی درد- اُسے فکر ہے تو مال و دولت سمیٹنے کی اور اپنے ٹھاٹھ باٹھ کی۔ اسے فکر ہے تو اپنی جھوٹی شان و شوکت کی۔

ایک طرف تو ہمارے ملک کا وہ امیر طبقہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا تو دوسری جانب غریب اور بے بس طبقہ یعنی وہ عوام ہے جسے بیک وقت کئی فکریں لاحق ہیں۔ سب سے پہلی فکر جو اسے روز سونے نہیں دیتی، وہ ہے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا۔ اس کے بعد اپنی باقی ضروریات یعنی کہ دوائیں، کپڑے، رہنے کا ٹھکانہ اور خوشی غمی۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اسے، یعنی غریب طبقے کو اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں کیونکہ وہ تعلیم کو اپنے بچوں کا حق ہی نہیں سمجھتا۔ اور وجہ صرف وہی احساس محرومی ہے۔

پاکستان میں ہمارے ذہین و فطین معیشت دانوں نے ’’بڑے‘‘ لوگوں کےلیے ایسی ایسی پالیسیاں بنائی ہیں کہ جن سے غریب کے رہن سہن اور اسے دستیاب سہولیات میں تو کوئی فرق نہیں پڑا البتہ ’’بڑے لوگ‘‘ آئے روز خوشحالی کی منازل طے کرتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے تک معاشرے میں عوام کے تین طبقات یعنی ’’کلاسز‘‘ ہوتے تھے: اپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس۔ اب ہمارے نام نہاد معیشت دانوں کی بنائی جانے والی معاشی پالیسیوں کے سبب (جو کہ سراسر بیرونی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کےلیے بنائی جاتی ہیں) مڈل کلاس ختم ہوکر لوئر کلاس میں تبدیل ہوگئی ہے جبکہ اپر کلاس بدل کر ’’ایلیٹ‘‘ کلاس میں تبدیل ہوگئی۔

اس طبقاتی ناانصافی کو دیکھ کر نہ جانے ہماری دھرتی پر کیا گزرتی ہو گی؟ کیونکہ پاکستان اس مقصد کے تحت بنا تھا کہ یہاں بسنے والے مسلم اور غیر مسلم، تمام لوگ برابری کی سطح پر زندگی بسر کریں گے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں آئے روز ناانصافی، غربت، ناخواندگی، جرائم، لوٹ مار، جعل سازی، دھوکہ دہی، ملاوٹ اور دوسرے تمام جرائم وجود رکھتے ہیں جبکہ ان میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ قانون کے رکھوالے اور قانون بنانے والے خود ہی قانون توڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

ہمارا ملک پاکستان پچھلے ستر سال سے مخلص رہنما کی تلاش میں ہے مگر ہر آنے والا حکمران اس کے ساتھ پہلے والے سے بھی بدتر سلوک روا رکھتا ہے۔ نجانے ہمارے اہل اقتدار کو کس نے گھٹی پلائی تھی کہ جنہیں صرف اور صرف ذاتی مفاد ہی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

اس وقت پاکستان کی پکار ہر محب وطن پاکستانی اچھی طرح سن سکتا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ضرورت ہے محب وطن اور عوام کا درد رکھنے والے رہنما کی، پاکستان کو ضرورت ہے ایسے رہنما کی جو ساری دنیا کے ساتھ برابری کی سطح کے تعلقات قائم کرے۔ پاکستان کو ضرورت ہے تو ایسے حکمران کی جو اپنے وسائل پر انحصار اور مسائل کا حل نکالے۔ پاکستان کو ضرورت ہے تو بے باک اور نڈر رہنما کی جو پاکستان کے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کوضرورت ہے ایسے مخلص لیڈر کی جس کا جینا مرنا اپنی عوام کے ساتھ ہو، نہ کہ اقتدار کے خاتمے پر۔ یا پھر وہ کسی بیماری کے علاج کےلیے بیرون ملک چلا جائے اور پاکستان کی عوام دیکھتی ہی رہ جائیں۔

پاکستان کے بے رحم سیاستدان اور حکمران پاکستان کا سوچے بغیر ہی یہاں اپنے پروٹوکول کی خاطر نہ صرف حکومت اور سیاست کرتے ہیں بلکہ اپنی سیاست کے بل بوتے پر ہی فیکٹریاں، اسٹیل ملز، شوگر ملز، پولٹری کا کاروبار، ادویہ کے کارخانے اور طرح طرح کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں، غرض ہر کاروبار کے ذریعے اپنے ہی ملک کی غریب اور مفلس عوام کا خون نچوڑنے میں مصروف ہیں اور یہاں سے پیسہ کما کر بیرون ملک بینکوں کی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ ان کے بچے بھی غیرممالک میں اسی پیسے سے کاروبار اور عیاشی کرتے ہیں اور پھر اپنی سیاست کی غرض سے پاکستان تشریف لاکر اسی عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ غلام اس لیے کہا کہ جو شخص اپنی مرضی کی زندگی نہیں گزار سکتا، اسے غلام کہتے ہیں اور پاکستان کے عوام کا حال بھی غلاموں سے کم نہیں کیونکہ ہمارے حکمران جب اپنی جائیدایں اور مال و دولت بیرونِ ملک رکھیں گے تو پھر وہ کیسے ان ہی غیر ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے ہیں؟ نتیجتاً یہاں کے عوام بھی اسی غلامی کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جس کے نیچے ہمارے ’’بڑے‘‘ اپنی شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ہمارا ملک ہمیں پکارتا ہوگا کہ مجھے تو آزادی کے نام پر حاصل کیا گیا تھا پھر یہ غلامی میرا مقدر کیسے بنی؟ پہلے ایک انگلستان کی غلامی تھی اور اب ہر بڑے ملک کا مقروض کرکے مجھے اس کی غلامی میں دے دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس کے پاس میرے نام کا پاسپورٹ ہوتا ہے، اس کی دنیا میں کوئی عزت نہیں جبکہ ایک وقت تھا کہ میرے نام کی عزت تھی اور دنیا کے بڑے بڑے حکمران اور لیڈر میرے حکمرانوں کی دل سے عزت کرتے تھے اور اب صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔

اس وقت پاکستان کو ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو اس کا کھویا ہوا مقام اسے واپس دلائے اور یہاں کے غریب عوام کی زندگیوں میں آسانی کا سبب بنے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی

بلاگر پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور انجینئرنگ کے قومی ادارے نیسپاک سے وابستہ ہیں۔ سماجی و سیاسی موضوعات پر پاکستان کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر آپ کی تقریباً تین سو تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ سے فیس بک آئی ڈی Amjad Tufail Bhatti پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔