کوٹا سسٹم ترقی و تبدیلی کی نوید دے

ایڈیٹوریل  جمعرات 12 اکتوبر 2017
سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کی شفافیت کا فالٹ فری میکنزم قائم کیا جائے۔فوٹو: فائل ۔ فوٹو: فائل

سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کی شفافیت کا فالٹ فری میکنزم قائم کیا جائے۔فوٹو: فائل ۔ فوٹو: فائل

وفاقی کابینہ نے منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے جب کہ صوبائی کوٹہ سسٹم میں توسیع کے بجائے اس کا از سر نو جائزہ لینے کا انکشاف ہوا ہے اور بعض ارکان اسمبلی کے مطابق وزیراعظم نے اس سلسلہ میں جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت کا نام تبدیل کر کے وزارت میری ٹائم رکھنے سمیت مختلف کنونشنز سمیت پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزہ ختم کرنے کے معاہدہ کے مذاکراتی مسودہ پر دستخط کے علاوہ سری لنکا، نیپال، فرانس، تیونس، مراکش اور پرتگال کے ساتھ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ اور آمدنی پر ٹیکسوں کے حوالہ سے مالیاتی اجتناب کی روک تھام کے موجودہ کنونشن میں ترمیم کی منظوری دی گئی، کابینہ نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور بلغاریہ کی زرعی اکیڈمی کے درمیان زرعی تحقیق کے میدان میں سائنسی و تکنیکی تعاون کے لیے ایم اویو پر دستخط، وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے ممبر (ایڈمنسٹریشن) کے تقرر جب کہ ویلفیئر سٹیزن بل 2017ء پر بھی غور و خوض کیا۔

مجوزہ بل کا مقصد بزرگ شہریوں کو سہولت دینا اور ان کی ضروریات پورا کرنا ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اسلام آباد میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایڈ ہانم ٹیڈروس نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے صحت کے قومی ویژن کے تحت صحت سمیت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کا عزم کررکھا ہے، پاکستان پولیو کے تدارک کے ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہے، وزیراعظم سے پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر طارق احسن نے ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی اہمیت اور موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کی ضرورت کو اجاگر کیا اور دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے مابین رابطے بڑھانے پر زور دیا۔

وزیر اعظم سے گلگت بلتستان کونسل کے ممبران نے ملاقات کی اور گلگت بلتستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے، بڑے منصوبوں کی تکمیل سے خطے میں معاشی انقلاب برپا کرنے کے حوالہ سے یقین دہانی کرائی گئی۔

تاہم ذمے دار ذرایع کے مطابق وفاقی کابینہ میں صوبائی کوٹہ سسٹم کے 40 سالہ دورانئے پر تفصیلی اظہار خیال کیا گیا، مگر دیکھنا یہ ہے کہ اراکین اسمبلی نے اس سسٹم کے مثبت و منفی پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے اس بات کو پیش نظر رکھا کہ اب تک کوٹہ سسٹم سے ملک کو کتنا فائدہ ہوا اور میرٹ کے قتل سمیت  وڈیرہ شاہی، اشرافیہ اور بااثر سیاسی خاندانوں نے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے اہداف انصاف کی مساویانہ بنیاد پر حاصل کیے یا نہیں۔ کوٹا سسٹم چار دہائیوں قبل ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے اس فارمولہ کے تحت قائم کیا کہ مراعات یافتہ طبقات سرکاری ملازمتوں پر میرٹ یا کسی دوسرے طریقے سے تقرریوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر ہاری اور کسان کا بیٹا یا غریب آدمی کا تعلیم یافتہ بیٹا سفارش اور حمایت نہ ہونے کے باعث روزگار سے محروم رہتا ہے اور اسے میڈیکل اور دیگر اہم سرکاری ملازمت پر تقرری کا موقع نہیں ملتا، سندھ میں اسے ناانصافی کا غیر حقیقت پسندانہ فارمولا سمجھا گیا مگر اسے توسیع دی جاتی رہی۔

اس کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن پر عملدرآمد روکا گیا۔ سندھ کے رورل اور اربن آبادی سمیت باقی صوبوں میں دیہی اور شہری افراد کو ان کے سماجی ، معاشی اور طبقاتی استحصال کے خدشہ اور مروجہ دہرے تعلیمی نظام کے باعث کم مراعات یافتہ اور غریب شہریوں کو ایڈوانٹیج دینے کی انسانی ہمدردی اور سپورٹ کے مد نظر اس سسٹم سے استفادہ کی سہولت دی گئی۔ اس لیے موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ صائب ہے کہ پارلیمنٹ اس پر مزید غور وفکر کرے، مگر خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں فاٹا اصلاحات اور انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر ایشوز بھی وفاق اور ریاستی اداروں کے لیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں ، لہذا ایسا نہ ہو کہ کوٹا سسٹم کا معاملہ سرد خانہ کی نذر ہوجائے، وزیراعظم شاہد خاقان کا یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ چالیس سال گزر گئے اس سسٹم پر عمل کرنے سے حالات بہتر کیوں نہیں ہوئے؟ وجہ کرپشن اور زور زبردستی کی ہو سکتی ہے کہ جس کو موقع ملا اس نے کوٹا سسٹم کی آڑ میں دھاندلی کی۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے لیے کوٹا سسٹم کو غیر ترقی یافتہ علاقوں میں انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ، سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کی شفافیت کا فالٹ فری میکنزم قائم کیا جائے، ایلیٹ کلاس کے بچوں کو تو سرکاری ملازمت مل جاتی ہے، نوکر شاہی کا دست شفقت ان پر رہتا ہے مگر پسماندہ علاقوں کے غریب اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کوٹا سسٹم کے تحت جائز طریقے سے سہولتیں ملنی چاہئیں تاکہ صوبائی انتظامیہ کو اہلیت کی بنیاد پر نیا خون مہیا ہو ، نقل مکانی کا متبادل بھی یہی طریقہ ہے کہ صوبوں کو صنعت و حرفت، روزگار، رہائش، ٹرانسپورٹ ، تعلیم اور زرعی ترقی کے لیے وافر فنڈز مہیا کیے جائیں، کوٹا سسٹم صرف نوکریاں ملنے تک محدود نہ ہو بلکہ اس سسٹم کو صوبوں کے محروم طبقات کو جدید ترین سہولتوں کی فراہمی کے ملکی نیٹ ورک سے مربوط کیا جائے اور پسماندگی کو جڑ سے اکھاڑکر ترقی کی رفتار تیز کی جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔