نیند کی کمی الزائیمر کی وجہ بن سکتی ہے

ویب ڈیسک  جمعرات 12 اکتوبر 2017
نیند کی کمی الزائیمر اور دیگر خطرناک دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

نیند کی کمی الزائیمر اور دیگر خطرناک دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک رات کی نیند کی خرابی، دماغی سرکٹ میں تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے اور مستقبل میں یہ الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

نیند کی کمی دماغ میں ان پروٹین کو بڑھاتی ہے جو الزائیمر کی وجہ بنتے ہیں۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر ڈیوڈ ہولزمین اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی ’خرابی سے دماغ میں کم ازکم ان دو پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو الزائیمر کی وجہ قرار دیئے گئے ہیں۔‘

ماہرین کا خیال ہے ادھیڑ عمری میں نیند کی مسلسل کمی زندگی میں آگے چل کر الزائیمر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ صرف امریکہ میں ہی اس وقت 50 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں جس میں دھیرے دھیرے یادداشت غائب ہوجاتی ہے اور دماغی صلاحیت بھی شدید متاثر ہوتی ہے جبکہ گزشتہ 15 برس میں اس سے اموات میں 55 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین اب تک الزائیمر کی اصل وجوہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اب تک یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ ٹاؤ اور امیلوئڈ بی ٹا نامی دو پروٹین اس بیماری میں بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ نیند اور الزایئمر کے تعلق سے ہم پہلے بھی واقف تھے لیکن اب دو پروٹین کی صورت میں یہ بات مزید مستحکم ہوچکی ہے۔

اگر صرف ایک رات کی نیند خراب ہوجائےتو دماغ میں امیولوئڈ بی ٹا بڑھ جاتا ہے اور اگر بدقسمتی سے ایک ہفتے کی نیند خراب ہوجائے تو ٹاؤ پروٹین بھی بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہے تو اس سے دماغ شدید متاثر ہوسکتا ہے اور متعلقہ فرد الزائیمر کے دہانے پر جا پہنچتا ہے۔

اس کےلیے سائنسدانوں نے 35 سے 65 برس تک کے 17 صحت مند افراد کو سروے میں شامل کیا اور ان پر نیند نوٹ کرنے والے آلات دو ہفتے تک لگا کر ان کی نیند کا دورانیہ نوٹ کیا۔ اس کے بعد ایک ڈارک روم میں بھی کھوپڑی پر برقیرے (الیکٹروڈز) لگا کر رضاکاروں کی نیند کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران نصف لوگوں کی نیند کو متاثر کیا گیا۔

کچھ روز بعد جن کی نیند خراب کی گئی تھی، ان کے دماغوں میں مذکورہ بالا دونوں پروٹین کی زیادتی نوٹ کی گئی جو دس فیصد تک تھی۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کی نیند بہتر ہوتی ہے تو دماغ میں ان مضرپروٹین کی تعداد معمول پر آنا شروع ہوجاتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔