طلبا تنظیمیں یا نکمے بدمعاشوں کے متحارب گروہ؟

غلام مجتبیٰ خان  جمعرات 12 اکتوبر 2017
قائداعظم یونیورسٹی کا مجروح ہوتا وقار بحال کرنے کےلیے طلبا تنظیموں کی سرگرمیاں قانونی طور پر محدود کی جائیں۔ (فوٹو: فائل)

قائداعظم یونیورسٹی کا مجروح ہوتا وقار بحال کرنے کےلیے طلبا تنظیموں کی سرگرمیاں قانونی طور پر محدود کی جائیں۔ (فوٹو: فائل)

کسی معاشرے کی نوجوان نسل کی اخلاقیات اس پورے معاشرے کی اخلاقیات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ پڑھی لکھی نوجوان نسل پوری قوم کا سرمایہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی کردار سازی، اس میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کےلیے تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ جن اداروں میں یہ تنظیمیں اپنے مخصوص دائرہ کار میں رہ کر کام کرتی ہیں، وہ ادارے اور معاشرے ہر شعبے میں ترقی کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جہاں ہمارے ملک کا تعلیمی نظام پہلے ہی خستہ حال ہے، وہیں رہی سہی کسر طلبا تنظیمیں پوری کررہی ہیں۔ حالیہ مثال ملک کی اول نمبر کی یونیورسٹی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی طلبا تنظیمیں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کو مکمل طور پر بند کیے ہوئے ہیں۔ طلبا اپنے جائز مطالبات منوانے میں حق بجانب ہیں جیسے کہ ٹیوشن فیس نہ بڑھانا، ہاسٹلز میں تمام ضروری سہولیات فراہم کرنا اور دیگر جائز مطالبات، جو پورے ہونے چاہئیں۔ لیکن ایک مطالبہ انتہائی غیر مناسب ہے، اور اس سارے احتجاج کا مقصد واضح کرتا ہے۔ اور وہ ہے: ’’نکالے گئے طلبا کو فی الفور بحال کیا جائے۔‘‘ اس مطالبے سے ایک بات عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ اکثریتی احتجاج نہیں بلکہ چند بااثر طلبا کا یہ مخصوص مطالبہ پورا کروانے کےلیے اقلیتی احتجاج ہے۔

اسی سال اپریل/ مئی میں طلبا کی یہی لسانی تنظیمیں آپس میں لڑ پڑی تھیں۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی، یونیورسٹی کئی روز تک بند رہی۔ دور دراز کے علاقوں سے آئی ہوئی طالبات ہاسٹلز میں بند ہو کر رہ گئیں۔ معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تو رینجرز اور پولیس کو آپریشن کرکے معاملات سدھارنے پڑے اور تفتیش بعد تقریباً چالیس انتشار پسند طلبا کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ کئی سیاسی رہنما بشمول چند سینیٹرز، جن کے زور بازو پر یہ طلبا اپنی تمام تر سرگرمیاں انجام دے رہے تھے، دباؤ ڈالتے رہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو یونیورسٹی میں رکھنے سے یکسر انکار کردیا۔

حالیہ احتجاج کی روزانہ کی رپورٹ، تصویریں اور ویڈیوز دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ اس احتجاج میں کس قسم کے طلبا شریک ہیں۔ صبح و شام ناچ گانوں کی محفلیں وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں کتنے بڑے پیمانے پر منشیات کا استعمال ہورہا ہے اور شراب پی کر لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس کر انہیں ہراساں کرنا گویا معمول بن چکا ہے۔ سینئر ریسرچ اسٹوڈنٹس، غیر جانب دار اور محنتی طالب علموں سمیت یونیورسٹی انتظامیہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تحقیق میں مصروف اساتذہ کو باہر نکال کر ان کے دفتروں کی تالا بندی کردی جاتی ہے۔

سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کا مستقبل سمجھے جانے والے طلبا آخر کس راہ پر گامزن ہیں؟

اپنے حقوق کے حصول کے نام پر احتجاج کرتی ان تنظیموں نے یہ اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے رکها ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ قائم معاشیات کے اعلٰی تحقیقی ادارے ’’پائیڈ‘‘ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس) کو اپنی سرگرمیاں کب جاری رکھنی ہیں اور کب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ پائیڈ (PIDE) کی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آئے روز ادارے کا نظام مفلوج کرنے والی تنظیموں کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ اس سوال کے جواب میں چند گزارشات ہیں:

اول تو یہ کہ حالیہ بحران کو ختم کرنے کےلیے یونیورسٹی کے آئینی سربراہ یعنی جناب صدر پاکستان سخت نوٹس لیتے ہوئے جائز مطالبات پورے کرنے اور شرپسند عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیں۔

دوسرا یہ کہ طلبا فی الفور خود کو موجودہ تنظیموں سے لاتعلق کرلیں۔

تیسرا یہ کہ ان تنظیموں کی لسانی گروہ بندی ختم کی جائے اور انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے ایسی قانون سازی کی جائے کہ یہ تنظیمیں اپنے دائرہ کار سے باہر نہ نکل سکیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ادارہ اپنی داخلہ پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے اور آئے روز پیدا ہونے والے ان حالات کے ذمہ دار ’’کوٹا سسٹم‘‘ کو ختم کرکے میرٹ پر داخلے کی پالیسی بنائی جائے کیوں کہ کوٹا سسٹم کا سہارا لے کر بہت سارے نااہل طلبا، ادارے میں داخل ہوتے ہیں اور پھر ان تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں اکثر وہی طلبا نظر آتے ہیں کہ جن کی تعلیمی کارکردگی انتہائی ناقص ہوتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ یونیورسٹی کے مخلصین اس بات کو تسلیم کرلیں کہ موجودہ شکل میں یہ طلبا تنظیمیں ادارے کےلیے ایک بوجھ، ایک قرض (Liability) بن چکی ہیں جسے جلد از جلد اتار پھینکنا ضروری ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے مجروح ہوتے وقار کو بحال کرنے کےلیے ضروری ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیوں کو قانونی طریقے سے محدود کرتے ہوئے انتظامیہ کی عمل داری یقینی بنائی جائے؛ وگرنہ زہر قاتل کی طرح پنپتی یہ تنظیمیں کھوکھلے تعلیمی نظام کی دیمک زدہ دیواروں کو زمین بوس کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیں گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected]۔com۔pk پر ای میل کردیجیے۔

غلام مجتبیٰ خان

غلام مجتبیٰ خان

بلاگر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس سے معاشیات میں ماسٹرز کرچکے ہیں۔ ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور فیس بک پر ’’ادب‘‘ کے نام سے ادبی صفحہ بھی چلاتے ہیں۔ حالات حاضرہ اور سماجی و معاشرتی مسائل پر گہری نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں لکھنا بھی پسند کرتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔