نیب ریفرنس؛ فردجرم عائد نہ کرنے سے متعلق کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست مسترد

ویب ڈیسک  جمعرات 12 اکتوبر 2017
احتساب عدالت نے آرٹیکل 265 سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 جن بعد فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے، درخواست کا متن : فوٹو : فائل

احتساب عدالت نے آرٹیکل 265 سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 جن بعد فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے، درخواست کا متن : فوٹو : فائل

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے نیب ریفرنسز میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ ملتوی کرنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے فرد جرم عائد ہونے کی تاریخ کو چیلنج کرنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر نے  اپنے وکیل امجد پرویز کے ذریعے احتساب عدالت وفاق، نیب اور احتساب عدالت کے جج کو فریق بناتے ہوئے درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے 7 روز کا وقت دیا جاتا ہے جب کہ احتساب عدالت نے صرف 4 جن بعد ہی فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے جو آرٹیکل 265 سی کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی حکم نامے کو معطل کرکے احتساب عدالت کو 13 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے سے روکا جائے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر شریف خاندان سے ماہانہ 1500 ریال وصول کرتے ہیں

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورتٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست کی سماعت کی، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا ایسا کوئی فیصلہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہو کہ سات دن سے پہلے فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی، کیپٹن (ر) صفدر کئ وکیل کی جانب سے انکار پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ کیپٹن صفدر کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے احتساب عدالت اپنی کارروائی جاری رکھے ۔

واضح رہے کہ نیب ریفرنسز میں وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف، صاحبزادی مریم نواز اوران کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کررکھی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: کیپٹن(ر) صفدر پاکستان پہنچتے ہی گرفتار



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔