اخوّت کا بیاں ہوجا

قدسیہ ملک  جمعرات 12 اکتوبر 2017
مسلم نشاۃ الثانیہ کا خواب باہمی اخوت و یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ دیئے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

مسلم نشاۃ الثانیہ کا خواب باہمی اخوت و یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ دیئے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

پچهلے دنوں انگلی میں معمولی آپریشن کی زحمت اٹهانا پڑی جس کی بهاری فیس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شدید تکلیف بهی برداشت کرنا پڑی۔ انگلی کا معمولی زخم اتنا اہم ہوگیا کہ اس زخم نے پوری رات سونے نہ دیا، ذہن کو بےقرار رکها اور آنسوؤں کی روانی رکنے نہ پائی۔ جسم کا انگ انگ دکهتا رہا۔ پورے ہاتھ میں تکلیف اس قدر شدت کی تهی کہ نہ بیٹهے چین آرہا تها نہ کهڑے نہ لیٹے۔ غرض ایک عضو کے زخم نے پوری رات اتنے بڑے انسانی جسم کو جس میں خلیات، عضلات اور نظاموں کا ایک جال سا بچها ہے، مضمحل کیے رکها۔ نہ رات کو چین سے آنکهیں اپنا کام سر انجام دے پارہی تهیں جبکہ دماغ کے سسٹم نے بهی درست طریقے سے سوچنے اور عمل کرنے کا عمل جاری نہیں رکها۔ جب نیند ہی نہ آئے تو بهوک لگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ غرض یہ کہ تمام انسانی وجود ایک معمولی زخم کے باعث تناؤ کی کیفیت سے دوچارہو گیا۔

ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ ایک ہی جیسے خلیات ایک ہی جیسا کام سرانجام دیں تو ان سے مل کر ایک عضو (organ) بنتا ہے۔ جیسے کہ دل ایک عضو ہے اور گردہ ایک عضو۔ جب ایک جیسے تمام عضو یکساں نوعیت کی خدمت انجام دیں تو ایک نظام (system) وجود میں آتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق انسانی جسم میں دس بنیادی نظام مل کر کام کرتے ہیں جن میں نظام ہاضمہ، نظام تنفس، نظام مدافعت، عضلاتی نظام، اعصابی نظام، نظام تولید، نظام استخوان (ڈھانچہ)، نظام اخراج اور نظام دوران خون وغیرہ۔ یہی تمام نظام جب ایک ساتھ مستقل طریقے کے ساتھ مل کر اپنی اپنی ذمہ داری انجام دیں تو ایک انسانی جسم وجود میں آتا ہے۔ اشرف المخلوق کو ’’اسفلاسافلین‘‘ سے ہٹا کر ’’احسن تقویم‘‘ بنانے رکھنے کے حکمِ ربانی میں، کہ جس پر عمل ہر لحظہ جاری ہے، یقیناً کوئی مقصد تو ہوگا۔

مجهے اس وقت نبی مہربان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی وہ حدیث بڑی شدت سے یاد آئی جس میں آپ ﷺ نے مسلمان امت کو ایک جسم سے تشبیہ دی ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ کیا واقعی مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں؟ یقیناً مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔

اس لیے تو عالمی استعماری طاقتوں کی ایجنڈا سیٹنگ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کی شبانہ روز سازشوں، یہود و نصاریٰ میں گٹھ جوڑ، خلافت کے مرکز کے خاتمے، نیو ورلڈ آرڈر کی وقوع پذیری، طاقتور ممالک کی بدترین عالمی معاشی، سماجی، تہذیبی و ثقافتی بدمعاشی کے باوجود آج کا باشعورمسلمان جرمنی میں مسلم مروہ کی بے گناہ موت پر دل سوز ہے، چین کے صوبے سنکیانگ میں ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر مضطرب ہے، ترکی میں بیٹها برما میں ہونے والی مسلم نسل کشی پر سراپا احتجاج ہے، عراق و شام میں مسلمانوں کی مظلومانہ موت پر حکمرانوں کی بے حسی کے باوجود پریشان و مضمحل ہے۔ کشمیر میں ہونے والے بہیمانہ تشدد پر دل گرفتہ ہے۔

لیکن کیا یہ بے چینی، بےسکونی، پریشانی، اضطراب کافی ہے؟ بلاشبہ نہیں، کیونکہ آج کے معاشرے میں وقعت و حیثیت ان ہی کی ہے جو متحد ہیں، مستحکم ہیں، مضبوط ہیں، تعلیم یافتہ و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہیں۔ مسلمانوں کی مرکزیت سوچی سمجهی منصوبہ بندی اور سازش کے تحت ختم کی گئی ہے۔ لارنس آف عریبیہ کے کردار سے کون واقف نہیں؟ مسلمانوں کے اندر بیٹهے، اسلام کا لبادہ اوڑهے، مسلمانوں کے اندر نفرت کا بیج کس خوبصورتی سے بویا گیا۔ خلافت اسلامیہ کا خاتمہ مسلمانوں کے خلاف بہت بڑی سازش تهی جس کا خمیازہ ابهی تک مسلم امہ بهگت رہی ہے۔

کسی بهی وقت، کسی بهی جگہ، کسی بهی خطے میں ہونے والی دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنا نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔ حال ہی میں لاس ویگاس کلب پر حملہ کرکے 50 افراد کو موت کے گهاٹ اتارنے اور 400 افراد کو زخمی کرنے والا ایک کیتھولک عیسائی اسٹیفن پیڈاک نہ تو کوئی مسلمان ہے اور نہ ہی طالبان۔ پهر بهی مغربی میڈیا اپنے ناظرین و قارئین کو مسلسل یہ باور کرائے جارہا ہے کہ اس مجرم نے چند دن قبل اسلام قبول کر لیا تها۔ کیا یہ مکروہ فریب نہیں؟ کیا یہ مسلم دنیا کے ساتھ کهلی ’’میڈیا دہشت گردی‘‘ نہیں؟

نائن الیون کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ نقصان اگر کسی کا ہوا ہے تو وہ مسلم امہ ہے۔ صرف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دو عمارتوں کی تباہی کی آڑ میں پورے افغانستان کو تہس نہس کر دیا گیا۔ ’’وار آن ٹیرر‘‘ کی خود ساختہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے آزاد ملکوں کی آزادی چهیننا کہاں کا انصاف ہے؟ آج افغانستان سے لے کر شام، مصر، فلسطین، چیچنیا، بوسنیا، عراق، لیبیا، تیونس، طرابلس، کشمیر اور برما تک، سب مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔

اس سب کے باوجود، اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں بھی مسلمانوں سے منسوب کی جاتی ہیں جبکہ دہشت گردی کی کسی بھی واردات کا تعلق مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش سب سے پہلے کی جاتی ہے۔ اس سال خطبہ حج کے موقع پر امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبدالرحمان السدیس نے بهی اسی مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’اسلام میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد امت مسلمہ کو کمزور کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ورغلا کر قتل اور فساد کی راہ پرڈال دیا۔ زمین پرفساد پهیلانے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ دہشت گردی کوکسی قوم یا دین سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ انہوں نے مسلم ممالک کے حکمرانوں سے بهی کہا کہ امت آج مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ امت مسلمہ چیلنجز سے نمٹنے کےلیے باہمی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں رکهے۔

خطبہ حجة الوداع میں آپ ﷺ نے حکم فرمایا تها کہ دیکهو! باہمی اختلافات میں نہ پڑنا۔ اللہ رب اللعالمین کا حکم بهی یہی ہے کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

مسلمان حکمرانوں سے تو اس کی توقع نہیں رکهی جاسکتی کیونکہ وہ تو خود ہی باہم دست و گریباں ہوکر عوام کو بهی لڑنے مرنے اور مارنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کبهی ختم نبوت کی شق سے مذاق کرتے ہیں تو کبهی ناموس رسالت قانون کے ساتھ۔ اس اخوت اور باہمی امن و محبت کےلیے اپنی بنیادوں سے جڑنا، دین اسلام پر پوری طرح سےعمل پیرا ہونا، اپنے قول و فعل کے تضادات کو ختم کرنا، اپنے آپ سے اپنے لوگوں سے محبت کرنا، اپنے آپ کو گروہی و مسلکی بحثوں سے نکالنا، اپنے آپ کو تعلیم یافتہ و باشعور بنانا اور ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے جیسے اذہان رکهنے والوں کو اپنے ساتھ ملانے، اخوت اور بهائی چارے کو عام کرنے سے ہی ہمارے مسائل حل ہوسکے ہیں۔ بقول اقبالؒ:

ہوس نے کردیا ہےٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا، محبت کی زباں ہوجا

میں یہ نہیں کہتی کہ یہ آسان کام ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مشکل ترین مشن ہے۔ اس مشن کی تکمیل کےلیے لوگوں نے اپنی زندگیاں لگادیں۔ ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ ہمیں اپنے ساتھ ان سب لوگوں کو لے کر چلنا ہے جو اس مملکت خداداد پاکستان سے، اس کی بنیادوں سے، اس کی اساس سے، اسلام سے، قرآن سے، آنحضورﷺ کی تعلیمات سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب اپنے اپنے حصے کی شمع جلا کر ہی رب کے حضور سرخروئی حاصل کرسکتے ہیں۔

اور اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس اکیلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو ہمیں آتشِ نمرود میں ابراہیم علیہ السلام کے پھینکے جانے کی حکایت یاد کرنی چاہیے کہ جب اپنی چونچ میں قطرہ قطرہ پانی جمع کرکے آگ پر ڈالتی ہوئی ایک ننھی سی چڑیا نے کہا تھا: مجھے نہیں معلوم کہ میری اس کوشش سے آگ بجھے گی یا نہیں، لیکن روزِ قیامت جب اللہ تعالیٰ مجھ سے اس بارے میں سوال کرے گا تو میں اتنا تو کہہ سکوں گی کہ اے میرے رب! میں نے وہ سب کچھ کیا جو میرے بس میں تھا۔

مانا کہ یہ راہ دشوار ہے اور سفر بھی طویل ہے لیکن اگر اتحاد و یگانگت کی، اخوت اور بھائی چارے کی اس منزل کو پانے کےلیے ہر شخص اپنا اپنا انفرادی کردار ادا کرے تو کچھ عجب نہیں کہ اللہ ہماری ان کاوشوں کو ہماری توقعات سے بہت پہلے بارآور ثابت کردے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

بلاگر نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ سے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور آپ کی تحریریں مختلف ویب سائٹس پر اور اخبارات و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ آپ حساس عالمی و ملکی معاملات کے علاوہ سائنس، طب اور بچوں کے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔