سیکیورٹی اور معیشت کا تعلق

ایڈیٹوریل  جمعـء 13 اکتوبر 2017
پاکستان کی کپاس دنیا کی بہترین کپاس ہے،فوٹو: فائل

پاکستان کی کپاس دنیا کی بہترین کپاس ہے،فوٹو: فائل

پاکستان کی معیشت کی زوال پذیر اور قرضوں کے بوجھ کی سنگینی اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کہنا پڑا ہے کہ ملک کا آسمان کو چھوتا ہوا قرضہ ان کے لیے از حد تشویش کا باعث ہے۔ انھوں نے بدھ کو کراچی میں معیشت اور سلامتی کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کیا اور انتہائی پرمغز اور الارمنگ باتیں کیں‘ اس سیمینار کا اہتمام پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کیا۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ معیشت اور سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں‘ معیشت زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتی ہے۔ سیکیورٹی اور معیشت کے اہم تعلق کی بہترین مثال سوویت یونین ہے جو عسکری قوت ہونے کے باوجود کمزور اقتصادی حالت کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا‘ اسی طرح امیر ممالک بھی جارحیت کی دعوت دیتے اور شکار ہوتے نظر آئے۔

پاکستان کی معیشت کی جو حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ آج معیشت جس مقام پر پہنچ چکی ہے کیا وہ محض حالیہ چند برسوں کا نتیجہ ہے یا دہائیوں سے جاری ڈنگ ٹپاؤ معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان کی معیشت کا کوئی ایک سیکٹر زوال پذیری کا شکار نہیں بلکہ سارے سیکٹر ہی ابتر صورت حال سے دوچار ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے اپنی ملکی ضروریات کو سامنے رکھ کر معاشی پالیسیاں تشکیل نہیں دیں اور نہ ہی یہ دیکھا کہ ملک کو ترقی دینے کے لیے وہ کون سے شعبے ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ملک کی زراعت کو ہی دیکھ لیں۔ قیام پاکستان کے وقت دنیا کا بہترین نہری نظام ہمارے حصے میں آیا۔ زرعی زمینیں انتہائی زرخیز تھیں‘ اس کے باوجود آج ہم کہاں کھڑے ہیں‘ حالت یہ ہے کہ پاکستان سبزیاں تک بیرونی ممالک سے درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ پنجاب اور سندھ کے خطے میں گائے اور بھینس کی شکل میں سونے کی کان ہمارے پاس موجود تھی‘ انگریز کے زمانے میں پنجاب کے خطے کو دودھ کا گھر کہا جاتا تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ دودھ بھی غیر ممالک سے درآمد کیا جا رہا ہے‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سرزمین نایاب پھلوں اور خشک میوہ جات کی سرزمین ہے لیکن ہم اس معاملے میں بھی غیروں کے محتاج ہو چکے ہیں‘ سندھ اور بلوچستان میں پیدا ہونے والی کھجور دنیا کی بہترین اور ذائقہ دار کھجور کہلاتی ہے‘ لیکن ہمارے اسٹوروں میں ایران اور سعودی عرب کی کھجور انتہائی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے جب کہ پاکستان میں کھجور کے کاشتکاروں کو کوئی سہولیات میسر نہیں۔ اسی پر بس نہیں اگر صنعتی ترقی کے رخ کو بھی دیکھا جائے تو اس میں بھی کسی قسم کی منصوبہ بندی نظر آتی ہے نہ ہی حب الوطنی کا کوئی عنصر سامنے آتا ہے۔

پاکستان میں صرف اس صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی جس سے ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ آج پاکستان صنعتی ترقی میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں شامل ہے‘ پاکستان کی کپاس دنیا کی بہترین کپاس ہے لیکن ہمارے ملک میں مصر کی کاٹن کی مصنوعات مہنگی ترین کہلاتی ہیں۔ 30,35برس پہلے تک بھی پاکستان سائیکل سازی میں بہت آگے تھا‘ پاکستانی سائیکلوں کا معیار چین اور بھارت کی سائیکل سے بہت زیادہ تھا لیکن آج صورت حال مختلف ہے۔ یہ سب کیوں ہوا؟ اس کی وجوہات بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سب کو پتہ ہے۔ اگر ہماری معاشی پالیسیوں کا رخ ملک و قوم کی ترقی کی طرف ہوتا ہے تو صورت حال یہ نہ ہوتی‘ آج پاکستان کو غیرملکی مصنوعات کی منڈی بنا دیا گیا ہے۔ غیرملکی قرضوں کا بوجھ لاد کر قوم کے بچے بچے کو مقروض کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ نے سوویت یونین کی مثال دی ہے‘ یہ بالکل درست مثال ہے‘ اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بغیر معاشی خوشحالی کے دفاعی طاقت قائم نہیں رکھی جا سکتی۔ اسی طرح معاشی طور پر خوشحال لیکن دفاعی اعتبار سے کمزور اقوام بھی مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔ کویت کی مثال سب کے سامنے ہے‘ کویت امیر ملک تھا لیکن عراق نے اس پر قبضہ کر لیا تھا‘ ان مثالوں سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قوموں کو وقار اور عزت کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے جہاں دفاعی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں معاشی طاقت لازمی چیز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ معیشت کیسے طاقتور بنائی جا سکتی ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے لیے وہ طبقہ جسے ہم حکمران طبقہ کہتے ہیں اسے اپنے اللے تللے ختم کرنا ہوں گے‘ سرکاری افسروں اور ملازموں کو اپنی تنخواہوں کے اندر ہی اپنے لائف اسٹائل کو مینٹین کرنا ہو گا۔ ایک غریب اور پسماندہ ملک کے حکمران‘ سرکاری افسر اور ملازم امرا کی طرح زندگی گزاریں گے تو اس ملک کو غلامی سے نجات دلانا نا ممکن ہو جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔