روسی الیگزینڈر اور امریکی الیزا

سعد اللہ جان برق  جمعـء 13 اکتوبر 2017
barq@email.com

[email protected]

بات تو ہم ایک روسی نوجوان اسکالر الیگزینڈر لکوی اوف اور امریکی خاتون الیزا کی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے اپنا بھی تھوڑا سا رونا دھونا ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے آتش نے کہا ہے کہ

زمانہ رنگ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ تھے کتنے سیاہ مو کرتے

ایک وقت ایسا بھی تھا اور ہمیں بالکل کل کی بات لگتی ہے کہ ہمیں کراچی ایک ہنگامی فون کرنا تھا۔ پہلے منت سماجت کر کے ایک ٹرک والے کو راضی کیا یہ ٹکسیاں وغیرہ تو تھیں نہیں۔ پھر تیس میل کا سفر طے کر کے پشاور کے چوک یادگار پہنچے جہاں ایک ڈاکخانے میں ٹیلیفون کی سہولت موجود تھی اس وقت پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف ایک ہی محکمہ ہوتا تھا۔ باری آنے پر ٹیلیفون مل نہیں رہا تھا۔ کئی گھنٹے میں کہیں جا کر کامیابی ملی اور جب ہم واپس گھر پہنچے تو صبح کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ ایک پوری رات ایک فون کال کرنے میں لگ گئی تھی۔

اس کے بعد کا سفر آپ کے سامنے ہے کہ بستر سے اُٹھے بغیر آپ دنیا میں کہیں بھی کسی سے بھی بات کر سکتے ہیں، بلکہ رو برو ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن کوئٹہ میں ایک اور ٹیکنالوجی نے تو ہمارے ہوش اڑا دیے۔ ایک امریکی خاتون اسکالر جو پشتو عالمی سیمینار کے لیے آنا چاہتی تھی لیکن ویزے کے کسی پرابلم کی وجہ سے پہنچ نہیں پائی تھی الیزا نام کی یہ خاتون پشتو کی اسکالر ہے اور امریکا میں پشتو ادب کو انگریز ی زبان میں منتقل کرنے کا کام کر رہی ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے بارے میں ہم نے ایم کیو ایم والوں کا سنا تھا لیکن یہاں صرف فون پر یک طرفہ خطاب نہیں تھا بلکہ ایک اسکرین پر وہ خاتون بول رہی تھیں اور نہ صرف ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ اسے براہ راست سن اور دیکھ رہے تھے بلکہ وہ ہال اور اپنے ناظرین اور سامعین کو بھی صاف طور پر دیکھ رہی تھی جیسے آمنے سامنے کی بات ہو۔ ایسے میں ہم جیسے پرانے دھرانے لوگوں کے ہوش نہ اڑتے تو کیا ہوتا جو ایک فون کرنے کے لیے ساٹھ میل کا فاصلہ اورایک پوری رات خرچ کیا کرتے تھے۔ اور اب وہ اصل بات جو اس سیمینار کا طرۂ امتیاز تھیں کہ روس اور امریکا اکٹھے اس میں شامل تھے، گویا صحیح معنی میں اسے عالمی سیمینار بنا رہے تھے۔

روس کے نوجوانوں اسکالر ’’الیگزینڈ لکویوف‘‘ نے تو سب کو حیران کر دیا۔ جب ہوٹل میں ورود کے بعد ہم نے اسے دیکھا تو دور ہی دور رہے کہ اس سے کس زبان سے بات کی جا سکتی ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ بڑے آرام سے پشتو بول سکتا تھا۔ صرف بولنا ہی نہیں بلکہ اس نے تین مقالے بھی پشتو ہی میں پڑھے جن میں روس کے اندر پشتو زبان و ادب پر کام کا جائز ہ لیا گیا تھا۔

مقالات کے علاوہ دو تین اور مواقع پر اسے جب اسٹیج پر بلایا گیا تو اس نے پشتو میں فی الہدیہ تقریریں بھی کیں حالانکہ عمر سے وہ کوئی طالب علم لگتا تھا۔ ویسے تھا تو ’’طالب علم‘‘ ہی لیکن بہت زیادہ لائق فائق طالب علم تھا۔ زبر دست اور وسیع مطالعہ رکھتا تھا اور ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے کے دھن میں لگا رہتا تھا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے محض پشتو سیمینار یا دوسرے الفاظ میں پشتو کی قصیدہ خوانی کے لیے یہ موضوع پکڑا ہے لیکن جو حالت حکمرانوں نے اسلحہ فروشوں کے مالی مافیاؤں نے بنا رکھی ہے اس کا واحد علاج یہ ہے کہ اس طرح کی کانفرنسوں سیمیناروں اور اجتماعات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے چاہے موضوع کوئی بھی ہو لیکن مختلف قوموں نسلوں ملکوں اور طبقوں کے درمیان پڑنے والی نفرت کی دراڑوں کو دور کرنے یا کسی حد تک کم کرنے کا یہی ایک راستہ ہے کہ آپس میں مل جائے بیٹھا جائے ایک دوسرے کو سمجھا جائے دائروں دراڑوں اور دیواروں کو اگر دور نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب تو کیا جا سکتا ہے۔ اختلافات کو نظر انداز کر کے اشتراکات کو ترجیح ہے۔

ادب ثقافت، زبان، فن یہ سب کسی قوم نسل کمیونٹی یا جغرافیائی لکیروں کے پابند نہیں ہوتے کیونکہ یہ انسانیت اور آدمیت کا مشترکہ ورثہ ہوتے ہیں اور ان میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے یا پیدا کی جا سکتی ہے جیسے ایک گھر میں کئی افراد رہتے ہوں ان کے نام بھی مختلف ہوتے ہیں پسند و ناپسند بھی الگ الگ ہوتے ہیں مزاج اور افتاد طبایع بھی مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کے درمیان ’’ایک گھر‘‘کا مضبوط اشراک بھی موجود ہوتا ہے اس گھر کی حفاظت، صفائی لیپائی پوتائی سب کے پیش نظر ہوتی ہے اس گھر میں امن و شانتی رکھنا بھی سب کے مفاد میں ہوتا ہے۔ دوستانہ فضا بھی سب کو درکار ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ ایسے گھر کو لوٹنے والے بھی بہت ہوتے ہیں اور ان کا مفاد گھر کی فضا کو بگاڑنے میں ہوتی ہے اور وہ اس گھر میں سے بھی کوئی ہو سکتا ہے جو مشترکہ گھر کے بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہو لیکن اگر سب اکھٹے ہوں تو اپنے اندر ایسی کسی ذہنیت کو پیدا ہونے اور پہننے سے روک سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔